شادی ہال کے نیل آرم اسٹرونگ۔۔۔ اویس احمد

یہ دو ایسی مہمات کی داستان ہے جوآپس میں ایسی مشابہت رکھتی ہیں جو نہیں ہونی چاہیئے تھی۔

اپالو 11 ایک امریکی خلائی مشن تھا جو امریکہ کے کینیڈی اسپیس سینٹر ، فلوریڈا سے 16 جولائی 1969  کے دن امریکی وقت کے مطابق دوپہر 1 بج کر 32 منٹ پر روانہ ہوا۔ اس میں تین خلاباز شامل تھے جن کا مشن چاند کو تسخیر کرنا تھا۔ مشن کی کامیابی غیر یقینی تھی۔  اس سے پہلے بھی کئی خلائی مشن تسخیر چاند کے لئے روانہ کیے گئے مگر وہ انسانی قدموں کو چاند پر پہنچانے میں کامیاب نہ ہو سکے تھے۔ اس مرتبہ مگر خیال یہ کیا جا رہا تھا کہ اپالو 11 چاند پر اترنے میں کامیاب ہو جائے گا اور اس میں سوار خلاباز  چاند پر پہلا قدم رکھ دیں گے۔

سیٹرن یعنی  زحل 5  راکٹ کی مدد سے اپالو11 کی روانگی کا منظر لاکھوں لوگوں نے براہ راست دیکھا۔مشن کی ابتدا کامیابی سے ہوئی اور محض بارہ منٹ میں اپالو11 زمین کے پہلے مدار میں داخل ہو گیا۔زمین کے پہلے مدار سے نکلنے اور دوسرے مدار میں داخل ہونےکے بعد اپالو 11 کا رخ چاند کی طرف موڑ دیا گیا۔راستے کی انجانی رکاوٹوں، موسم کی سختیوں اور غیر یقینی صورت حال کے خدشات سے نبرد آزما ہوتا اپالو11 تین دن کے سفر کے بعد کامیابی سے چاند کے مدار میں داخل ہو گیا۔

چاند پر اترنے کے لیے ایگل نامی ایک  علیٰحدہ جہاز تھا جو اپالو11 کے ساتھ جڑا ہوا تھا مگر ضرورت پڑنے پر اپالو11 سے علیٰحدہ ہو کر بھی کام کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ خلاباز نیل آرم اسٹرونگ اور ایڈون آلڈرن  چاند کے مدار میں داخل ہونے کے بعد ایگل میں سوار ہوئے اور مقررہ وقت سے چار سیکنڈ پہلے  یعنی امریکی وقت کے مطابق 20 جولائی 1969 کو  رات کے آٹھ بج کر سترہ منٹ اور چالیس سیکنڈ پر ایگل اپنے طے کردہ مقام سے کچھ دور،   چاند پر بحفاظت اترنے میں کامیاب ہو گیا۔ یہ ایک عظیم کامیابی تھی۔ نیل آرم اسٹرونگ نے ایگل کا دروازہ کھولا تو اس کے سامنے دور تک چاند کا فرش پھیلا ہوا تھا۔  جہاں تک اس کی نظر جاتی تھی کوئی ذی روح اس کی نگاہ کی دسترس میں نہیں آتا تھا۔  نیل آرم اسٹرونگ نے ایگل کی سیڑھیاں اترنا شروع کر دیں۔

یہاں پر اس مہم کو کچھ دیر کے لیےروک کر ہم دوسری مہم کی طرف چلتے ہیں۔

سیاہ ہونڈا سٹی ایک اسلام آباد میں رجسٹرڈ گاڑی تھی جو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے  12 نومبر 2017 کی صبح پاکستان کے وقت کے مطابق آٹھ بج کر سینتالیس منٹ پر روانہ ہوئی۔اس کے سواروں میں تین افراد شامل تھے جن کا مشن ایک دوست کی دعوت ولیمہ میں شامل ہونا تھا۔ تینوں سوار پرجوش تھے ۔    وہ تینوں ایک اچھے نجی ادارے میں ملازمت کرتے تھے اور وقت کے پابند تھے۔ ظہرانے کا وقت ڈیڑھ بجے کا رکھا گیا تھا لہٰذا وقت مقررہ پر منزل مقصود تک پہنچنے کی خواہش ان کے دل میں ہونا ایک فطری سی بات تھی۔

اسلام آباد  سے ان کی روانگی کا منظر کچھ لوگوں نے براہ راست دیکھا۔  سفر کی ابتدا خوشگوار ہوئی اور محض بارہ منٹ میں ان کی گاڑی  موٹروے لنک روڈ سے نکل کر مرکزی موٹر وے پر آ گئی۔  مرکزی موٹر وے پر پہنچتے ہی گاڑی کا رخ لاہور کی طرف موڑ دیا گیا۔ ان دنوں موٹر وے پر سموگ نامی ایک آفت کا قبضہ تھا۔  سموگ نامی یہ بلا جب چاہتی موٹر وے کو مختلف مقام سے بند کروا دیتی تھی۔  گذشتہ رات بھی موٹر وے کئی مقامات سے بند رہی تھی۔ مگر دعوت ولیمہ میں شرکت کی خواہش اس قدر زیادہ تھی کہ انہوں نے سموگ کو خاطر میں نہ لانے کا ارادہ کر لیا تھا۔ کلر کہار تک کا سفر بخیریت گذرا۔ سالٹ رینج کے علاقے سے نکل کر جوں ہی گاڑی میدانی علاقے میں داخل ہوئی،  ہلکی ہلکی دھند نے موٹر وے پر راج شروع کر دیا۔

بھیرہ سے گذرنے کے بعد سموگ نے اپنا رنگ جمانا شروع کیا اور حد نگاہ  کم ہوتی چلی گئی۔ پہلے اگر دو کلومیٹر دور سے چھوٹی گاڑیاں واضح دکھائی دے رہی تھیں تو اب پانچ سو گز دور سے بڑے ٹرک بھی دھندلے دکھائی دینا شروع ہو گئے تھے۔ صورت حال پریشان کن ہوتی جا رہی تھی۔  مگر گاڑی چلانے والا نوجوان ایک ماہر ڈرائیور تھا جو دھندلی موٹر وے پر بھی گاڑی کو مناسب رفتار سے چلا رہا تھا۔ پنڈی بھٹیاں  پہنچ کر بالآخر  گاڑی کو موٹر وے چھوڑ دینی پڑی کیونکہ ان کی منزل  حافظ آباد تھی جو پنڈی بھٹیاں سے چالیس-پینتالیس کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

پنڈی بھٹیاں سے حافظ آباد کی سڑک اتنی اچھی نہ تھی۔ سموگ بھی اپنا اثر دکھا رہی تھی اور اس سڑک پر چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ جس میں بسیں اور ویگنیں وغیرہ شامل تھیں،  تیز رفتاری کے ریکارڈ توڑ رہی تھیں۔ بہر طور راستے کی  صعوبتوں سے نبرد آزما وہ تینوں  سوار  وقت مقررہ  سے پانچ منٹ قبل یعنی ایک بج کر پچیس منٹ پر منزل مقصود تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ منزل مقصود ایک شادی ہال تھا۔خراب موسم کے باوجودعین  وقت پر شادی ہال  پہنچ جانے کی خوشی دل میں لیے  وہ  گاڑی سے اترے تو حیران پریشان رہ گئے۔ مہمان تو درکنار، ابھی میزبان بھی وہاں نہیں پہنچے تھے۔

نیل آرم اسٹرونگ 21 جولائی 1969 کو امریکی وقت کے مطابق رات دو بج کرچھپن منٹ پر  بھائیں بھائیں کرتے چاند پر قدم رکھنے والا پہلاشخص تھا۔

وہ تینوں بھی  12 نومبر 2017 کو پاکستانی وقت کے مطابق دن کے ایک بج کراکتیس منٹ پر بھائیں بھائیں کرتے شادی ہال میں قدم رکھنے والے  پہلےلوگ تھے۔

اویس احمد
اویس احمد
ایک نووارد نوآموز لکھاری جو لکھنا نہیں جانتا مگر زہن میں مچلتے خیالات کو الفاظ کا روپ دینے پر بضد ہے۔ تعلق اسلام آباد سے اور پیشہ ایک نجی مالیاتی ادارے میں کل وقتی ملازمت ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *