• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • غیر اعلانیہ کرفیو کے 95 دن ؛ دھرمسال گاؤں کی حالت زار۔۔۔اظہر مشتاق

غیر اعلانیہ کرفیو کے 95 دن ؛ دھرمسال گاؤں کی حالت زار۔۔۔اظہر مشتاق

پاکستان اور  بھارت کے درمیان فائربندی کی لکیرجس کی کل لمبائی  740 کلو میٹر ہے پر کئی گاؤں آباد ہیں ، اگر فائر بندی کی لکیر کے ساتھ ساتھ سفر کرنے کا موقع ملے تو پاکستانی زیرِ انتظا م اور بھارتی زیرانتظام جموں کشمیر کے درمیان حد ِ متارکہ  کا اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے، ریاست جموں کشمیر کے سینے پر کھینچی منحنی    لکیر کبھی آبادی کے بہت قریب دکھائی دیتی ہے اور کبھی آبادی سے کوسوں دور، اپنے پُرکھوں کی زمین سے فطری محبت اور خطہ جموں کشمیر کو مادرِ وطن سمجھنے کے باعث فائر بندی کی لکیر سے متصل آبادکار  نامساعد حالات کے باوجود بھی گزشتہ 70 سالوں سےنقل مکانی سے  انکاری ہیں۔ اسے انسانی فطرت کہئے ،  وطنیت یا   غربت،  فائر بندی  کی لکیر  کے ساتھ بسنے والے لوگ انسانی جانوں، پالتو جانوروں اور املاک کے نقصان برداشت کرنے کے باوجود  نقل مکانی کا ارادہ تک نہیں کرتے۔

سال 2004 ،فائر بندی کی لکیر کے ساتھ بسنے والے لوگوں کیلئے اس وقت خوش آئند ثابت ہوا جب پاکستان اور بھارت کی حکومتوں نے فائر بندی کی لکیر پر مستقل فائربندی کا معائدہ کیا۔  مستقل فائر بندی کے معائدے کے بعد دونوں افواج کسی بھی طرح کے ہتھیار  کا استعمال نہ کرنے کی پابند تھیں ۔ فائر بندی کی لکیر پر بسنے والے  عوام ایک بات سے بے خوف تھے کہ اب کسی بھی سمت سے آنے والی کوئی اندھی گولی ان کے جسم کو نشانہ نہیں بنا سکے گی۔ گزشتہ ایک عشرے سے آر پار مسلسل گولہ باری سے عوام کی زندگیوں   سے ایک بے چینی کا تقریباً خاتمہ ہو چکا تھا،  فائر بندی کی لکیر سے متصل آبادیوں کا نظام ِ زندگی پاکستانی زیرِ انتظام کشمیر کےباقی پُر امن علاقوں جیسا ہی تھا۔

پاکستانی زیرِ انتظام کشمیر کے اندر بسنے والے عوام  کا معاشی انحصار بیرونی زرِ مبادلہ کے ذریعہ بھیجی گئی رقوم، ملازمت ، چھوٹے کاروباراور کسی حد تک زراعت پر ہے۔  سال 2004 سے پہلے فائر بندی کی لکیر کے ساتھ بسنے والے لوگوں کی تعلیم ، زراعت ، کاروبار حتٰی کہ ملازمت گولہ باری کی وجہ سے بے یقینی سے دو چار رہی ہے۔بعض اوقات ایسا بھی ہوا ہےکہ  مسلسل گولہ باری کے پیش ِ نظر لوگ ہفتوں گھروں میں محصور رہے، تمام تعلیمی ادار ے اور مقامی بازار بند کروا دئیے گئے تاکہ مسلسل گولہ باری سے انسانی جانوں کا ضیاع نہ ہو ، بدقسمتی سے پاکستانی فوج کی ذرا سی کوتاہی یا بھارتی فوج کی چوکی کو نشانہ بنانے کی کوشش میں، کوئی بھاری مارٹر گولہ آبادی پر گرنے کی وجہ سے کئی گھر اجڑ  گئے۔  ایک اور بدقسمتی یہ ہے کہ بعض مقامات پر  دیہی آبادی فائر بندی کی لکیر کے اتنے قریب ہے کہ اگربھارتی فوج چاہے تو چھوٹے ہتھیاروں سے  گھر کے تمام افراد کو باری باری باری نشانے پر لے سکتی ہے۔ پہاڑی علاقوں میں اکثر مقامات پر بھارتی فوج کی چوکیا ں پاکستانی زیر انتظام کشمیر  کے باسیوں کے  عین سروں پر قائم ہیں۔ جہاں سے آبادی کو نشانہ بنانابالکل مشکل نہیں۔

سال 2016 سے گو کہ اعلانیہ فائر بندی کا معائدہ منسوخ نہیں ہوا مگر فائر بندی کی لکیر پر آر پار گولہ باری کا عمل  دوبارہ سے شروع ہے، جس پر پاک بھارت حکومتیں ایک دوسرے کو فائر بندی کے معائدے کی خلاف ورزی پر موردِ الزام ٹھہراتی رہی ہیں۔ بھارتی حکومت اور ذرائع ابلاغ یہ تاویل دیتے نظر آئے کہ پاکستان فائر بندی کی لکیر سے مسلسل دہشتگردوں کی ترسیل جاری رکھے ہوئے ہے ، دہشت گردوں کی ترسیل کو روکنے کے لئے فائر بندی کی لکیر پر موجود بھارتی فوج کو  جواباً گولی چلانا پڑتی ہے، اسی لئے گذشتہ برس بھارتی فوج نے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے اندر آ کر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا دعوٰی بھی کیا تھا۔  ایک بات طے ہے کہ گولی پاکستانی فوج کی طرف سے چلے یا بھارتی فوج کی طرف سے، فائر بندی کی لکیر پر موجود آبادی کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے ، چاہے وہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کی آبادی ہو یا پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی ۔

گاؤں دھرمسال بھی فائر بندی کی لکیر پر واقع ایک خوبصورت گاؤں ہے ، جو تقریباً اسّی گھرانوں اور آٹھ صد نفوس پر مشتمل ہے ۔ دریائے پونچھ کے کنارے پر آباد گاؤں کی ہموار اور زرخیز زمین میں مقامی کسان گندم ، چاول اور مکئی کی فصل کاشت کرتے ہیں ۔ زیادہ تر لوگ بیرونِ ملک بر سرِ روزگار ہیں ۔ گاؤں کے مغربی سمت دریائے  پونچھ کے کنارے لڑکیوں کا ایک ہائی سکول ہے، مشرقی  جانب ایک پہاڑی سلسلہ ہے  اس پہاڑی سلسلے   کے دامن میں ایک دیہی سڑک ہے جو  بھلے وقتوں میں ضلع پونچھ اور کوٹلی کو آپس میں ملاتی تھی، 2004 کے بعد آزاد کشمیر حکومت نے اس سڑک کو پختہ کیا اور 2015 میں دریائے پونچھ پر ایک پل کو دوبارہ تعمیر کرکےسڑک کو عام ٹریفک کے لئے قابلِ استعمال بنایا۔ پُل کی وجہ سے دھرمسال اور اسکے پڑوسی گاؤں بٹل کے لوگوں کا تحصیل ہیڈکوارٹر تک سفر آسان ہوا۔ پُل کی تعمیر کی وجہ سے ضلع پونچھ اور کوٹلی کا یہ قدیم راستہ بھی  بحال ہوا۔  مشرقی پہاڑی سلسلے کی سب سے اونچی چوٹی کو خاکی ٹیکری کہا جاتا ہے جو 1971 تک پاکستانی فوج کے قبضے میں تھی لیکن 1971 کی جنگ کے بعد سے اب تک خاکی ٹیکری بھارتی فوج کے قبضے میں ہے ۔

پاکستانی فوج  کی چوکیاں مشرقی پہاڑی سلسلے کے دامن میں واقع ہیں جبکہ بھارتی فوج اس پہاڑی سلسلے کی اونچائی پر موجود ہے، شدید گولہ باری کے دوران اس بات کا بھی قوی امکان ہوتا ہے کہ   اگریہ مان بھی لیا جائے کہ بھارتی فوج  جان بوجھ کر آبادی کو نشانہ نہیں بناتی مگر کسی پاکستانی چوکی کو نشانہ بناتے ہوئے اگر نشانہ خطا ہو جائے تو ہر طرح کے چھوٹے بڑے ہتھیار سے فائر کئے گئے بارود کا نشانہ گاؤں دھرمسال ہی ہوگا۔   کئی بار ایسا ہوا کہ کسانوں کی ذخیرہ کی گئی یا کھڑی فصلیں ایک گولی کا نشانہ بن کر جل کے خاکستر ہو گئیں اور ان غریب کسانوں  کے نقصان کا ازالہ نہ حکومتِ پاکستان نے کیا  اور نہ حکومتِ آزادکشمیرنے، مال مویشیوں اور دیگر املاک کا نقصان اس کے علاوہ ہے۔

گاؤں دھرمسال سے بھارتی فوج کی پہلی چوکی کا فاصلہ ایک کلومیٹر سے بھی کم ہے۔ گذشتہ برس اور رواں برس ہونیوالی فائرنگ کے تبادلے سے گاؤں کے لوگ دس سال پہلے والی بے چینی کا شکار تھے،  مائیں اپنے بچوں کو تعلیمی اداروں میں بھیجنے  سے کتراتی تھیں ، نوجوان  مرد اس تذبذب میں تھے کہ ملازمت یا کاروبار پر جایا جائے کہ نہیں۔ اسی اثناء میں فائر بندی کی لکیر پر بھارتی چوکی پر  گوریلا کاروائی کر کے بھارتی فوج کو زک پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ شدید فائرنگ کے تبادلے سے کئی افراد شہید بھی ہوئے اور شدید زخمی بھی۔

پہاڑوں کی چوٹیوں پر بیٹھی بھارتی فوج کی نظر میں یہ کارروائی شاید دھرمسال گاؤں کے اندر بسنے والے لوگوں نے کی  یا گاؤں کے اندر دہشتگردوں کے سہولت کار موجود ہیں ،اسلئے گزشتہ 95 دن سے دھرمسال گاؤں  بھارتی فوج کے بلاواسطہ نشانے پر  ہے،  گاؤں کی طرف جانیوالی سڑک  اورنو تعمیر شدہ پل   پر سے گذرنے والی گاڑیوں اور شہریوں کو بھی بھارتی فوج  نے نشانہ بنایا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور پاکستانی فوج  نے پُل اور مذکورہ سڑک کو نقل و حمل کے لئے بند کر رکھا ہے۔ گاؤں میں کوئی  ابتدائی طبی امداد تک  کی سہولت موجود نہیں، دھان اور مکئی کی فصلیں کھیتوں میں کھڑی کھڑی خراب ہو چکی ہیں، بھارتی فوج اتنی چوکس ہے کہ اگر کوئی کسان رات کے وقت فصل کاٹنے کو جائے تو اس پر بھی فائر کیا جاتا ہے،  اگر کوئی زخمی ہوجائے تو  اسے پچاس کلومیٹر دور اسپتال تک پہنچانے کیلئے ایمبولینس کی سہولت بھی میسر نہیں۔

چند دن پہلے پاکستانی زیر انتظام اور بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے درمیان چلنے والی تجارت کو بھی ایک لمبے وقفے کے بعد دوبارہ بحال کیا گیا ، دلچسپ بات یہ ہے کہ تجارت کے لئے استعمال ہونیوالا کراسنگ پوائنٹ گاؤں دھرمسال سے قریباً دو یا تین کلومیٹر کی دوری پر ہے، تجارتی راستے پر دونوں طرف کی افواج کا اسلحہ خاموش ہے۔ اسلام آباد اور دہلی تجارت کی بحالی کو خوش آئند قرار دے رہےہیں  مگر حکومت پاکستان یا آزاد حکومت ریاست جموں کشمیر  اور اسکے ذمہ داران  نے آج تک یہ گوارا نہیں کیا کہ وہ گاؤں دھرمسال کے مکینوں کی خبر لے سکیں۔ گاؤں دھرمسال جغرافیائی لحاظ سے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہے مگر  گذشتہ 95 دن سے وہ بھارتی فوج کے بلاواسطہ کنٹرول میں لگتا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ گاؤں کے مکین ایک غیر اعلانیہ کرفیو کے زیرِ اثر ہیں۔ آٹھ سو نفوس کی زندگیاں اجیرن ہو چکیں ۔ لوگ غذائی قلت  اور عدمِ تحفظ کا شکار ہوچکے، تعلیم ، ملازمت  ، کاروبار اور روز مرہ زندگی کے معمولات   کے نظم و ضبط  پر نہ چاہتے ہوئے بھی سمجھوتہ کیا جاچکا۔  ایسا لگتا ہے کہ ہفتے عشرے کے بعد یہ گاؤں مکمل بھارتی قبضے میں ہوگا کیونکہ وہاں پاکستانی  ریاست یا اس کا عمل دخل مفقود نظر آتا ہے۔ عین ممکن ہے کی اپنی دھرتی کی کشش زیادہ دیرپا ثابت نہ ہو اور ایک ہجرت مکینوں کا مقدّر ٹھہرے۔

اظہر مشتاق
اظہر مشتاق
اظہر مشتاق سماج کے رِستے زخموں کو محسوس کرنے والا عام انسان ہے۔