جو ایک شہر۔۔۔محمد علی

شہر وہ ہوتا ہے جسے آپ اپنا جانیں، یہ شہر کوئی بھی ہوسکتا ہے، آنے والا کوئی بھی، اور غایتِ آمد و قیام بھی کچھ بھی ہوسکتی ہے۔

کچھ بہتر مستقبل کی خاطر، کچھ لوگ جان کے لالے پڑنے پر، کچھ سیاسی و سماجی وجوہ کی بناء پر اپنا مسکن چھوڑ کر کہیں اور جا بستے ہیں لیکن پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہیں، ہر شخص کے مسائل کے الگ ڈائنامکس ہیں اور ان کے حل بھی الگ۔

شریعت کی نگاہ میں کسی شہر کا باشندہ ہونے کا الگ معیار ہے، قانون میں الگ اور سماجی پس منظر تو پوری زنگی کی بحث ہے۔

وہ جو اپنا حق (چاہے زبردستی ہی) اس شہر پر جتاتے ہیں ان کی اغلب اکثریت کے اجداد، اپنا سب کچھ وار کر یہاں آئے، یہاں کی تعمیر میں اپنا ذہن،خون پسینہ ایک کر دیا، وہ لوگ کراچی کے علاوہ اور کہیں بھی ٹھور ٹھکانہ نہیں رکھتے، اگر رکھتے ہیں تو ان کا ٹھسا ویسے ہی کم ہوجانا چاہیے۔

غالب، پیدا آگرے ہوئے تھے لیکن کشائش 22 خواجگان کی چھوکٹ پر پائی تو ہمیشہ دلی والے ہو کر رہے اور المتخلص بہ غالب دہلوی رہے۔ شہر کی کھل کے برائی کرتے تھے لیکن کوئی اورجو ایسا کرتا تو چیں بجبین ہوجاتے۔ کراچی والے اس سے بھی دو ہات آگے ہیں، بقول یوسفی سب کو دھندلی سی تصویر دکھا دکھا کہتے ہیں، “یہ چھوڑ کر آئے تھے.”

وبا کی وجہ سے آج، سڑکیں سنسان، شہر ویران اور سب گھروں میں جائے اماں ڈھونڈ رہے ہیں، اور فقط اس شہر؛ اس ملک ہی کا کیا مذکور، ساری دنیا ہی بند ہے۔سارا عالم ہوکا ہے۔ اور اب آج کل میڈیا پر مقامی و غیر مقامی کی بات چل نکلی ہے کہ شہرغیر مقامیوں سے خالی ہورہا ہے تو امن زیادہ ہے۔

ان لوگوں کے ذہن میں شاید یہ ملال یا تاسف آمیز فکر ہو کہ جب شہر خالی ہواتو ہم ہی ہم رہ گئے، جب کہ بقیہ کے پاس تو اور بھی شہر، قصبے، بستیاں ہیں جہاں وہ پاؤں پھیلا کر پیٹ پوجا اور کام دوجا کریں گے/یا کرسکیں گے، جیسے ونٹر اور سمر کیپیٹل ہوا کرتے ہیں، اور جب مشکل وقت آیا تو شہر کو کیوں چھوڑا، یہ شاید ان کے لاشعور میں بات ہو۔

طورِ سینا بے کلیم اللہ، منبر بے انیس!

اب یہ بات تو اعداد و شمار کہہ رہے ہیں کہ جرائم کے واقعات میں حیرت انگیز کمی ہوئی ہے۔ لیکن اس جملے کو مزدور پیشہ اور محنت کش طبقے پر طنز کے طور پر استعمال کرنا انتہائی نامناسب ہے۔ جس پر کرایہ داری کا بوجھ ہو اور جس کی ضروریات کا سامان ختم ہوگیا ہو وہ اور کیا کرے؟ صحیح فیصلہ ہے، لیکن وہ جو ہیں ہی ہیاں، ان کو قرار کیسے آنے کا؟
Nowhere to go but indoors.

شہروں کی کپیسٹی اور آبادی جب حد سے متجاوز ہو یا ایگزاسٹ ہوجائے تو ماہرین کی سربراہی میں نئے شہر بننے چاہئیں تا کہ لوگوں کو معاشی و ماحولیاتی مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے لیکن حکومت اپنی چھوٹی سی ذمہ داری پوری کرتی ہے تو یوں اتراتی پھرتی ہے جیسے چھوٹی بچیاں چائنہ کی کیتلی میں جھوٹ موٹ کی چائے بنا کر ہوتی ہیں۔

محکمہ سر بگریباں کے اسے کیا کہیے!

ہم یہ بالکل نہیں دہرائیں گے کہ کراچی کی آبادی کینیڈا کے مقابلے میں کتنی ہے اور وسائل میں حصہ کیا ہے اور مسائل کا کتنا انبار ہے، بس یہ بات ہے کہ کچھ لوگ کبھی کبھی صحیح شکوہ غلط ڈھنگ سے کردیتے ہیں۔

تو حضرات بعض کے لیے کراچی کچھ کچھ ہے، کچھ کے لیے کراچی سب کچھ ہے۔

محمد علی
محمد علی
علم کو خونِ رگِِِ جاں بنانا چاہتاہوں اور آسمان اوڑھ کے سوتا ہوں ماسٹرز کر رہا ہوں قانون میں اور خونچکاں خامہ فرسا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *