“ضرورت ہی نہیں میری”
محبت ڈھونڈنے نکلی تو
جنگل میں۔۔۔۔۔
کئی وحشی درندے
لوبھ کے مارے جناور
راہ کو روکے ہوئے
اپنے
بدن کے خفتہ حصوں کو
کھجاتے۔ گھورتے جاتے تھے
صدیوں سے۔۔۔۔میری جانب٠٠٠٠
کئی قرنوں سے
میں اپنے بدن کو
اپنی باہوں میں
سمیٹے بس غواصی
کر رہی تھی آس کے
گہرے سمندر کی٠٠٠٠
کہ شاید پیار کا موتی
کسی گہری گھپا سے اب
اچھل کر میری مٹھی
میں سما جائے
مگر یہ۔۔۔۔
وہم تھا سارا
فقط پرچھائیں
سوچوں کی٠٠٠٠کسی اک خواب کا سایا٠٠٠٠٠٠
مگر اس سارے
چکر میں
پڑے روح و بدن پر سب
جھریٹیں ‘ گھاؤ اور یہ داغ ،نیلے سے۔۔۔
میں اپنے زخمی پیروں سے
یہ گرتا جسم کا بجرہ
بس اپنے خالی گھر کو ہی اٹھا لائی۔۔۔۔
محبت اب ۔۔۔۔

ضرورت ہی نہیں میری۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں