ضرورت ہی نہیں میری….ڈاکٹر صابرہ شاہین

“ضرورت ہی نہیں میری”

 

محبت ڈھونڈنے نکلی تو

tripako tours pakistan

جنگل میں۔۔۔۔۔

کئی وحشی درندے

لوبھ کے مارے جناور

راہ  کو روکے ہوئے

اپنے

بدن کے خفتہ حصوں کو

کھجاتے۔ گھورتے جاتے تھے

صدیوں سے۔۔۔۔میری جانب٠٠٠٠

کئی قرنوں سے

میں اپنے بدن کو

اپنی باہوں میں

سمیٹے بس غواصی

کر رہی تھی آس کے

گہرے سمندر کی٠٠٠٠

کہ شاید پیار کا موتی

کسی گہری گھپا سے اب

اچھل کر میری مٹھی

میں سما جائے

مگر یہ۔۔۔۔

وہم تھا سارا

فقط پرچھائیں

سوچوں کی٠٠٠٠کسی اک خواب کا سایا٠٠٠٠٠٠

مگر اس سارے

چکر میں

پڑے روح و بدن پر سب

جھریٹیں ‘ گھاؤ اور یہ داغ ،نیلے سے۔۔۔

میں اپنے زخمی پیروں سے

یہ گرتا جسم کا بجرہ

بس اپنے خالی گھر کو ہی اٹھا لائی۔۔۔۔

محبت اب ۔۔۔۔

Advertisements
merkit.pk

ضرورت ہی نہیں میری۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply