انسانی رشتے…..ڈاکٹر انور نسیم

ڈاکٹرانورنسیم ستارہ امتیاز اور صدارتی تمغہ برائےحسن کارکردگی یافتہ ہیں۔ نامور سائنسدان، اور دو ادبی کتابوں کے مصنف ہیں۔ آج کل کینیڈا میں مقیم ہیں ۔ مکالمہ ان کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کرتی ہے کہ انہوں نے اپنی تحریریں چھاپنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ایڈیٹر

انسانی رشتے

tripako tours pakistan

زندگی :واقعات و حادثات ,کامیابی کیا ہے؟  انفرادی سطح پر خوشی کا حصول ذہنی سکون اور خوشی۔

میں نے اکثر سوچا ہے کہ  کیا   منطق اور سائنسی طرزِ فکر سے مسائل کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے؟وطنِ عزیز کے سیاسی اور اقتصادی مسائل،انسانی زندگی میں انسانی رشتوں کی بے شمار اُلجھنیں۔

TVکے ایک پروگرام “روشن پاکستان”میں ایک سوال کے جواب میں توثیق حیدر سے سنا کہ منطق اور سائنس کو استعمال کرتے ہوئے ہم سب مسائل کا حل تلاش کرسکتے ہیں۔وہ مسکرادیا اور کہا ابھی میں وقفے کے بعد آپ سے ایک سوال پوچھوں گا! سوال کچھ یوں تھا کہ “ساس او ر بہو کے باہمی رشتے کا سائنسی حل کیا ہے”؟

جواب سے کچھ حاصل ہوسکے گا کہ نہیں،بہرحال میری سوچ کی عکاسی ضرور ہے۔انسانی رشتوں کی بنیاد پیار،طرزِ فکر یعنیmind setہے۔جس میں بنیادی تعلیم  اور تربیت کا کلیدی رول ہے۔لہذا اگر بچپن ہی سے ہم  بچیوں کو یہ ذہن نشیں کروادیں۔

آپ سب کی زندگی میں یہ چار Stages آئیں گی۔پہلی بیٹی پھر شادی کے بعد دلہن،بہو اور پھر ایک طویل عرصے کے بعد ساس یعنی ہر بہو بعد میں ساس بنے گی،لہذا۔۔یہ سب ممکن ہے یا نہیں؟

بہرحال،انہی سوالات کے حوالے سے ایک بہت ہی اہم سوال زندگی میں شادی کا مسئلہ ہے،”شریکِ حیات”کا انتخاب اور اس سلسلے میں مختلف تجربات،میں نے اس سلسلے میں بہت سارے دوستوں سے جن کا تعلق مختلف ملکوں سے تھا،بہت دفعہ گفتگو کی ہے اور سوچا بھی بہت،نارمل سی بات ہے کہ اس حوالے سے ہر کسی کا تجربہ اور سوچ تو مختلف ہوگی(اپنے ذاتی تجربے کے بارے میں کتاب کے دوسرے حصّے میں مفصّل ذکر کروں گا)فی الحال میں شادی کے حوالے سے انسانی رشتوں کا تذکرہ

  Social  Phenomenonکے طور پر کروں گا۔

انسانی رشتے جو قریبی تصور کیے جاتے ہیں،ماں باپ،بہن بھائی،میاں بیوی اور آپ کے قریبی دوست۔صورتِ حال کچھ یوں ہے کہ دوستوں اور خونی رشتوں کے بارے یہ کہنا کافی ہے کہ

You  get  your  relatives  but  you  choose  your  friends.

خونی رشتوں کے حوالے سے یعنی ایک صورت میں تو کوئی Choiceہی نہیں،اور دوستی کے معاملے میں ایک آسان ساحل یہ ہی ہے کہ اگر دوستی میں کوئی اختلاف کی صورت پیدا ہوجائے تو دوستی ختم۔جس کے لیے خلع یا طلاق کی نوبت نہیں آتی۔

اب آیا شادی والا مرحلہ،یہ اپنی نوعیت کا ایک بالکل ہی مختلف اور Uniqueرشتہ ہے۔دو لوگ جن کی سوچ،تعلیم اور تربیت،اقدار،سب کچھ مختلف ہوتے ہیں وہ ایک ایسے رشتے میں ”جیون ساتھی“بن جاتے ہیں جس کے باعث اُنہیں اپنے لیے زندگی کے سارے اہم فیصلے بھی مِل جُل کر کرنے ہیں،اور زندگی کا بقیہ وقت ساتھ گزارنا ہے۔

مختلف معاشروں میں اپنی اپنی اخلاقی اقدار اور مذہبی عقائد اور پھر پاکستان جیسے مقام میں خواتین کا معاشی اعتبار سے مردوں کا محتاج ہونا،گو آہستہ آہستہ اب اس میں اہم اور نمایاں تبدیلی آرہی ہے۔

ایک بار ہمارے یہاں روایتی سلسلہ تو مکمل طور پر Arrange   marriagesکا تھا۔جس میں بزرگوں کی رضامندی دعائیں اور شفقت شامل ہوا کرتی تھی،اس میں بھی اب اس حد تک ضروربدلاؤ آ چکا ہے کہ ازدواجی رشتے میں آخری فیصلے سے پہلے کم از کم فریقین کو ہی جزوی شمولیت کا موقع دیا جاتا ہے۔

مغربی ممالک میں کسی خاتون  سے   ڈیٹنگ کے  وقت تو خیر آپ کےمینرزکچھ ایسے ہوتے ہیں یوں لگتا ہے کہ آپ اس دنیا کے مہذب ترین اور سب سے اچھے اور خوش اخلاق انسان ہیں،شادی ہوئی تو سارا منظر ہی بدل گیا،اب تو صفائی،ماہانہ اخراجات،میاں بیوی کے عزیز و اقارب،شادی سے پہلے اور شادی کے بعد کی صورت۔

 کیلیفورنیا میں غالباً طلاق کی شرح  7.5فیصد کے قریب ہے،یہ سب کچھ ہوتا رہا تو پھر لوگوں نے اور بھی طرح طرح کے تجربے کرنے شروع کردیے،یعنی آزمائش کے طور پرایک محدود مدت کے لیے  Contract   Marriage،یا پھر یونہی چلیے کچھ اور نہیں توشادی کے بغیر ہیLiving   Together

اور اب موجودہ دور میں  چلیےSame   Sex   Marriage۔معلوم نہیں کہ ان مختلف تجربوں کی دلیرانہ اور جرات  مندانہ کاوشوں کا نتیجہ کیا نکلا ہے۔بات پھر اُسی ذہنی سکون اور خوشی کے حصول تک پہنچ جاتی ہے۔

*یہ سلسلہ بھی اس لحاظ سے بہت ساری الجھنوں کو باعثِ سکون بنا سکتا ہے،خصوصی طور پر بچوں کے قانونی حقوق،اُن کی پرورش اور تربیت کے مسائل،مراحل اور ذمہ داری،نسلِ انسانی کی بقا اور تسلسل کے لیے بہرحال شادی تو لازمی ہے،یہ جو شادی نہ کرنے کی Optionہے،اس کے بھی بہت سارے پہلو ہیں،بڑھاپے میں تنہائی کا

خو ف،وقت گزارنے اور اپنی خیریت،سارے دوستوں سے اس موضوع پر Academicسی مگر بڑی مفصّل گفتگو ہوتی رہی،

تاریخی پس منظر

بچوں کی اہمیت،اُن سے پیار،Biological  Needsتو پھر آخر کیا طے ہوا؟

ذاتی سطح پر اپنی سوچ اورمعاشرہ میں شاید ایک بنیادی تبدیلی،ظاہر ہے کہ یہ ہر کسی کا ذاتی معاملہ ہے اور یہ بھی کہ ہر کسی کا فیصلہ پھر وہیGive   and   takeوالی بات۔

یہ تجویز شاید قابل ِ قبول بھی نہ ہو،اس کو اپنانا بھی کسی کی مجبوری نہیں،اس کے لیے شاید کوئی اخلاقی یا مذہبی جواز بھی نہیں،مگریہ طے ہے کہ اس طرح کے اندازِ فکر پر یہ بالکل لازم ہے کہ آپ دونوں ”جیون ساتھی“ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں اور اپنے فرائض سے غفلت نہ برتیں،جدت  اور سوچ  بچار بڑے مشکل کام ہیں۔

ذات کی تکمیل،ایک خوشگوار اور بامعنی زندگی!

زندگی میں بے شما ر مصروفیات ہوتی ہیں،بہت ساری دلچسپیاں موسیقی،شاعری،مصوی،کھیل۔۔اپنے لیے ایکBalancedزندگی کاساتھی او ر ذہنی سکون اور خوشی کے

حصول کے لیے پھر وہی ایک منطقی اور سائنسی سوچ؟یہ وضاحت پھر سے بیحد ضروری ہے کہ یہ تمام باتیں کسی بھی طرح نہ توکسی قسم کا کوئی مکمل حل ہیں،او ر نہ ہی کسی کے لیے کوئی ذاتی مشورہ۔محض وہ جو سمجھتے ہیں کہ Thinking   Loud۔۔یونہی ایک خیال رشتوں کے اس گورکھ دھندے اورانسانی رشتوں کے پیش نظر، ممکن ہے کسی اور کے پاس کوئی بہتر تجویز ہو۔

معاملات خواہ ذاتی ہوں یا سیاسی،زندگی کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ کسی بھی فیصلے کے صحیح یا غلط ہونے کا علم ہمیشہ بعد میں ہوتا ہے،لہذا ہماری بیچارگی،مقدر حالات،خاندانی پس منظر باہمی احترام،برداشت،دوستانہ رویہ،ایک دوسرے سے توقعات کی حدود کا تعین،ذمے داریوں کی منصفانہ نشاندہی اور ان کی تکمیل کے لیے ایمانداری سے کاوش۔ منیر نیازی میرا پسندیدہ شاعر ہے،اُس سے دوستی کی حد تک جان پہچان تھی،بہت ہی پیاری باتیں کرتا تھا۔

تھا منیرؔ آغاز ہی سے راستہ اپنا غلط

اس کا اندازہ سفر کی رائیگانی سے ہوا

چاہتا ہوں میں منیر اس عمر کے انجام پر

ایک ایسی زندگی جو اس طرح مشکل نہ ہو

روکا اَنا نے کاوشِ بے سود سے مجھے

اُس بُت کو اپنا حال سنانے نہیں دیا

سوال سارے غلط تھے،جواب کیادیتے

  جانتا ہوں ایک ایسے شخص کو میں بھی منیر

غم سے پتھر ہوگیا لیکن کبھی رویا نہیں

اِک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو

میں ایک دریا کے پار اُترا تو میں نے دیکھا

تو کیا یہ بہتر نہیں کہ شریکِ حیات بننے سے پہلے ان تمام باتوں کا ایک معروضی جائزہ لیا جائے۔شاید اسطرح کا ندازِ فکر انسانی جذبات کے مطابق نہ ہو۔ یہ ایک بہت ہی پیچیدہ مسئلہ ہے،والدین کے رویے کے حوالے سے مجھے تو صرف یہی کہنا ہے کہ جب میرے بیٹے خاور نے جوآج کل نیویارک میں کینیڈا کے محکمہ خارجہ میں ملازم ہے،مجھ سے اپنی شادی کے بارے میں مشورہ کرنے کے لیے آیا اور کہنے لگاI  want  to  talk  about  marriage

میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا

I  am  already  married

پاکستانی معاشرے کے حوالے سے ایسی توقعات تو شاید ممکن نہ ہوں۔پھر بھی  سوچ بدلنے کو دعوت ہی سہی،جن دولوگوں نے اپنی زندگی ساتھ گزارنی ہو اُن کو اس فیصلے میں شامل تو ہونا ہی چاہیے۔کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ حالات کا جائزہ لیا جائے تو پھر منیر نیازی کا شعر یاد آتا ہے

 میری ساری زندگی کو بے ثمر اُس نے کیا

Advertisements
merkit.pk

عُمر میری تھی مگر اُس کو بسر اُس نے کیا!

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply