گمشدہ لکھاری اور گمشدہ حواس

جنوری کے پہلے ہفتے میں نہ صرف کچھ لوگ گمشدہ ہوئے، بلکہ شاید بہت ساروں کےحواس و ہوش بھی گم ہوگئے۔ ہم یہ سمجھتے تھے کہ یہ ایک عام فہم سی بات ہے کہ ہر شخص تب تک معصوم ہے کہ جب تک اس پر جرم ثابت نہ ہو جاے، مگر ہم بھولے تھے کہ یہاں الٹی گنگا بہتی ہے۔

Advertisements
merkit.pk

یہاں ان لوگوں کی گم شدگی پر کچھ نہ صرف خوش تھے بلکہ اس کا دفاع بھی کرتے کرتے طرح طرح کے جواز پیش کرتے ہیں۔ جن جوازوں میں سب سے بڑا توہین کا الزام ہے۔ آن لائن بہت سارے لوگ، یہاں تک کہ ٹی وی اینکر بھی ان گم شدہ افراد کو کچھ ایسے پیجز سے جوڑتے ہیں کہ جن پر ایسا توہین آمیز مواد پوسٹ ہوتا رہا ہے۔ پر ان کے پاس اس لفظی بیا ن کے علاوہ کوئی ثبوت نہیں، نہ اس واقعہ سے پہلے ان کے منہ سے ان اشخاص کے نام سننے کو ملے۔ ثبوت کے بغیر اتنے نازک معاملے پر بات کرنا اور اتنا سنگین الزام لگانا، اور بس سنی سنائی آگے پہنچانا، اگر جھوٹ نہیں تو کم سے کم انتہائی بددیانتی ضرور ہے۔ کیا اس مسئلے میں بددیانتی برتنا بذاتِ خود توہین آمیز عمل نہیں؟ ایسے میڈیا ٹرائل سے سچ اور انصاف کے رستے میں رکاوٹ ہوتی ہے۔ کہنے کو ان گمشدہ افراد پر آزادیِ اظہارِ رائے کے غلط استعمال کا الزام لگتا ہے، مگر یہ بغیر کسی تصدیق کہ فقط ذاتی پسند ناپسند پر پبلک فورم پر الزام لگانا اور اس کے لیے بھی مذہب کا سہارا لینا، کہاں کا ذمہ دارانہ برتاؤ ہے؟ کیا یہ آزادیِ اظہارِ رائے کا درست استعمال ہے؟
معزز قارئین، کسی بھی مہذب معاشرے میں اس صورت حال میں پہلے یہ نہ بتایا جاتا کہ فلاں کا جرم کیا تھا بلکہ یہ پوچھا جاتا ہے کہ وہ آخر ہیں کہاں؟
یہ بات شاید کہنے کی ضرورت نہیں کہ کسی ایک شخص کی گمشدگی صرف ایک زندگی پر جبر نہیں بلکہ اس کے تمام عزیز رشتہ داروں گھر والوں پر بھی جبر ہے. گھر والے جن کو نہ اس کی زندگی موت کا پتہ نہ اس کے حال کی خبر، ہر لمحہ مستقل کرب میں گزارتے ہیں. اس صورت میں اگر ہم کسی کی امداد نہیں کر سکتے تو کم از کم ان کے گھر والوں کی زندگیاں تو عذاب میں مت ڈالیں۔ نفرت کبھی نفرت سے نہیں مٹائی جا سکتی، اس کے لیے محبت کام آتی ہے، نہ ہی بے شعوری کا اندھیرا شعور اور فہم کے بغیرچھٹ سکتا ہے۔ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ اس معاملے میں اپنے بہترین فہم، ایمان داری اور ہمت سےکام لیں.

tripako tours pakistan
  • merkit.pk
  • merkit.pk

حسنات شیخ
حسنات شیخ
لکھاری، بلاگر، سماجی کارکن.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply