کتابوں کا شکوہ

ٹیب آن کرتے ہی میں نے نوٹ پیڈ کی ایپ کھول کر اپنی ادھوری تحریر پر ٹیپ کیا اور اسے مکمل کرنے کے لیے ایڈیٹ کے آپشن میں جاکر تحریر کو تسلسل دیتے ہوئے لکھنا شروع کردیا۔۔۔۔ ایک عرصے سے یہ میرا معمول بن چکا ہے فارغ اوقات میں ٹیب ہی پر مکالمے اور کہانیاں لکھتی اور وہیں سے بذریعہ ای میل اداروں کو میل کردیتی ہوں۔۔۔ آج بھی گھر کے کاموں سے فرصت ملتے ہی میں نے ٹیب آن کیا اور نوٹ پیڈ میں محفوظ کی ہوئی اپنی ادھوری تحریر پر کام شروع کردیا۔۔۔ کہ کچھ ہی دیر بعد کسی کے رونے کی صدا کانوں سے ٹکرائی ،میں نے کام روک کر اپنے اطراف میں نگاہ دوڑائی لیکن کمرے میں سوائے میرے اور کوئی نہ تھا،میں پھر سے اپنے کام میں مشغول ہوگئی۔

رونے کی آواز اب بھی آرہی تھی مجھے محسوس ہوا یہ آواز سامنے رکھی کتابوں کی الماری سے آرہی ہے۔۔ ایک لمحے کو مجھے خوف سا محسوس ہوا مگر پھر ہمت کر کے اپنی جگہ سے اٹھی اور کتابوں کی الماری کے قریب جاکر دیکھا تو منظر ہی بدلا ہوا تھا۔۔تمام کتابیں ایک دوسرے کو سینے سے لگائے روئے جا رہی تھیں۔۔۔ میں الماری کھول کر کتابوں سے مخاطب ہوئی، کیا ہوا تم سب کیوں رو رہی ہو؟
ایک بوسیدہ سی جلد میں لپٹی ضعیف سی کتاب نے جواب دیتے ہوئے کہا۔۔۔ہم سب اداس ہیں، اور تم سے بہت ناراض۔
میں نے اپنی صفائی دیتے ہوئے پوچھا۔۔ مجھ سے مگر کیوں؟ دیکھو میں نے تمہیں کتنی حفاظت سے سنبھال کر الماری میں رکھا ہے اور تم اب بھی مجھ سے شکوہ کر رہی ہو۔۔

کتابوں میں سے ایک نحیف اور پتلی سی کتاب نے آگے آتے ہوئے کہا۔۔۔
ہمارے وجود کا مقصد ان الماریوں کی زینت بننا تو نہیں تھا، ہم تو تمہیں علم کے نایاب گوہر سے آراستہ کرنے کے لیے لکھی گئیں تھیں مگر تم تو ہمارا مطالعہ ہی نہیں کرتیں ۔۔۔ جب سے ٹیکنالوجی نے ترقی کرکے علم کو ہمارے کاغذی پیرہن سے آزاد کیا ہے تم نے ہماری جانب پلٹ کر بھی نہیں دیکھا!
ایک شاداب اور خوبصورت کور پیج رکھنے والی کتاب پرجوش انداز میں خطاب کرتے ہوئے کہنے لگی۔
کہا ں گئے تم انسانوں کے کتاب دوستی کے وہ دعوے۔۔۔ وہ جو کہتے تھے کہ کتاب ہی انسان کی بہترین دوست ہے پھر آج کیوں اپنی اس بیش قیمت دوست کو اس بے قدری سے نظرانداز کر رہے ہو ،کیا اسے کہتے ہیں دوستی ؟

کتابوں کے یہ شکوے سن کر میں تو دنگ ہی رہ گئی، آخر کار بات درست بھی تھی، سافٹ کاپیز پی ڈی ایف کے آتے ہی ہم نے ان سے ناتا ہی توڑ لیا ہے۔بے شک انسان سہل پسند ہے پی ڈی ایف کی سہولت اور اس کے آسانی سے میسر ہونے کے بعد ہم کتابوں کا بوجھ اٹھانے کو تیار ہی نہیں۔ان کتابوں نے تو مجھے آج لاجواب ہی کردیا۔۔ مگر بہرحال ان کتابوں کے سامنے ہم انسانوں کی عزت و وقار کو بچاتے ہوئے کوئی جواب تو دینا ہی تھا۔۔ سو بہت سوچ بچار کے بعد محتاط انداز میں کہا،آپ کا شکوہ بجا ہے ماشااللہ آپ سب ہی عالم فاضل ہیں ،علم کا کوئی گوشہ آپ سے چھپا ہوا نہیں لہذا ہم انسانوں کی ارتقائی تاریخ سے بھی آپ سب بخوبی واقف ہیں ۔۔ پہلے زمانے ہم انسان پہاڑوں پتھروں اور درخت کے تنوں پر لکھا کرتے پھر مختلف اقسام کے پتوں اور پھلوں کے چھلکوں سے خط و کتابت کا کام لیا جاتا رہا، تحقیق اور تجربات سے گزرتے ہوئے ہم نے کاغذ ایجاد کرلیا اور پھر ارتقاء کا نیا دور شروع ہوا اور کاغذ پر مزید کام کرتے ہوئے اسے کتابی شکل دی گئی ساتھ ہی مختلف جلد اور رنگوں کے کاغذ بھی بنائے گئے جس سے آپ کی خوبصورتی میں بھی چار چاند لگ گئے۔علم کے حصول کے لیے ہمارا اور آپ تمام کاغذی کتابوں کا رشتہ قدیم بھی ہے اور گہرا بھی۔۔ مگر آج ہم انسان ٹیکنالوجی کے میدان میں ارتقائی سفر کی ایک اور منزل میں داخل ہوچکے ہیں۔۔۔ جس کے سبب دوسری قیمتی اشیاء کے ساتھ آپ سب بھی بےحد متاثر ہوئے ہیں۔۔
لیکن اس کے باوجود۔۔۔

میری بات کو بیچ سے کاٹتے ہوئے ایک نک چڑھی سی اور گہرے رنگ کی کتاب نے کہا۔۔ہم الفاظوں کے جال بننا اور کترنا دونوں ہی جانتے ہیں اس لیے ہمیں ان لفظوں کے جال میں نہ الجھاؤ اور صاف گوئی سے کام لو بی بی۔۔۔
کتاب کا یہ رویہ دیکھ کر میں نے اپنی بات سمیٹتے ہوئے سادہ الفاظ میں کہا۔۔۔میں تسلیم کرتی ہوں سافٹ کاپیز کے آتے ہی آپ کی اہمیت کم ہوگئی ہے لیکن باوجود اس کے ہمارا اور آپ کا رشتہ اٹوٹ ہے۔۔ سافٹ کاپیز ابھی اپنے ابتدائی مراحل سے گزر رہی ہے لہذا ابھی ان کے بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا جبکہ آپ کتابوں نے تو ایک طویل عرصے تک ہر طرح کے حالات میں ہمارا ساتھ نبھا کر خود کو اچھا دوست ثابت کیا ہے آپ کی اس دوستی کو ہم چاہ کر بھی فراموش نہیں کرسکتے۔

چھوٹے قد کی پر حجم کتاب نے اپنے دل کی بھڑاس نکالتے ہوئے مستقبل کی پیشن گوئی کرتے ہوئے کہا۔۔بہت خوب کیا کہنے آپ انسانوں کے جس طرح پچھلے زمانوں میں خط و کتابت کے لیے استعمال کیے جانے والے پتھر اور جانوروں کی کھالیں وغیرہ آج عجائب گھروں کی زینت بنی ہوئی ہے پھر تو عنقریب ان سافٹ کاپئز کا راگ الاپنے والے ہمیں بھی عجائب گھروں میں ہی رکھ آئیں گے۔

خوشبو کی یہ مہک یہ نشہ روٹھنے کو ہے
یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی

شاعرانہ انداز بیان میں ایک کتاب نے یہ شعر بھی سنا دیا۔۔۔
کتابوں کے مستقبل پر تحفظات کے بارے سوچ ہی رہی تھی کہ کیا جواب دوں کہ الماری میں کتابوں کے ساتھ ہی رکھی ایک پرانی نوٹ بک جس پر ماضی میں تحریریں لکھا کرتی تھی اپنے آنسوں ضبط کرتے ہوئے بولی۔میرے سادہ اوراق جو قلم اور سیاہی کی رنگت خود پر چڑھاتے ہوئے کھلکھلاتے تھے اب نوٹ پیڈ کی ایپ آجانے سے یہ سادہ کاغذ سیاہی کی مہک سے محروم ہو کر رہ گئے ہیں۔ ارتقائی مراحل کو تیزی سے طے کرتے ہوئے ان کتابوں کے وجود کے ساتھ تم انسان کاغذ اور قلم سے بھی بےنیاز ہوتے جارہے ہو۔۔۔ ہر دوسرا طالب علم لیپ ٹاپ اور ٹیب میں ہی اپنا کام مکمل کرتا ہے ۔۔۔ نوٹس بھی اسی پر بنائے جاتے ہیں اس طرح تو اگلی صدی میں انسانوں کے ہاتھوں سے لکھی ہوئی تحریریں بھی عجائبات میں ہی شامل ہوں گی اور صرف عجائب گھروں میں ہی دیکھنے کو ملیں گی۔

کتابوں کے ساتھ نوٹ پیڈ کا گلہ بھی بجا تھا اور ساتھ ہی سافٹ کاپیز سے ہونے والے ایک بڑے نقصان کی جانب اشارہ بھی کر گئی کہ نوٹ پیڈ پر کام کرنے سے لکھائی تو نظرانداز ہوتی ہے ساتھ ہی نئی نسل خطاطی جیسے قیمتی ہنر سے بھی محروم ہوجائے گی۔اور پھر ہر وقت اسکرین پر ہی نظریں جمائے رکھنے سے بینائی علیحدہ متاثر ہوگی،نئی ایجادات جہاں اپنے ساتھ بہت سے فوائد لیے آتی ہیں ،وہیں نقصانات بھی ساتھ چلے آتے ہیں ۔
نوٹ بک کی بات کو ہرگز نظر انداز نہیں کیا جاسکتا تھا اور آخرکار اپنی دو انمول آنکھیں مجھے بےحد عزیز بھی ہیں سو میں نے فوراً ہی ٹیب آف کرکے نوٹ بک کو اٹھایا اور دراز سے قلم نکال کر تحریر لکھنے کی ٹھان لی۔۔ اور ساتھ ہی کتابوں سے صلح صفائی کرتے ہوئے وعدہ کیا کہ پہلے کی طرح پھر سے رات سونے سے قبل کیا جانے والا مطالعہ پی ڈی ایف کے بجائے ہارڈ کاپیز یعنی ان کاغذی کتابوں سے ہی کرنا ہے۔۔ اس طرح بینائی بھی محفوظ رہے گی اور کتابوں کے گلے شکوے بھی دور۔

بنت الہدی
بنت الہدی
کراچی سے تعلق ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *