خود کلامی۔۔محمد شمس

کل رات میں نے خواب میں بے جان پتھروں سے باتیں کی۔۔۔ پتھر مجھ سے اور میں پتھروں سے ہم کلام تھا۔
ہم نے ایک دوسرے سے یہ کہا تھا کہ:
الفاظ جو بے جان سے ہیں جن کا کوئی مول نہیں،اگر چہ ان میں جذبات پوشیدہ ہیں۔۔کیا وہ میرے لیے زندہ تو نہیں؟

ایک پتھر جو زمین پر بے جان پڑا ہوا ہے،اگر اس میں میرے جیسے جذبات پوشیدہ ہوں،کیا وہ بھی  میرے لیے زندہ تو نہیں؟۔۔
بے جان سی چیز جو مجھ سے ہو کر نکلتی ہے،کیا اب وہ میرے لیے زندہ تو نہیں؟
بے جان سے الفاظ۔۔۔۔۔۔
کیا مجھے ہلانے کی صلاحیت تو نہیں رکھتے؟
کیا پتھر مجھے اپنی طرف مائل تو نہیں کرتے؟
کیا اجنبی مرد و زن میرے لیے بے جان تو نہیں؟

میری آنکھ اچانک کھل جاتی ہے۔ میں پھر ان پتھروں کے بارے میں سوچنے لگ جاتا ہوں کہ کیا واقعی میں پتھر بے جان ہیں۔؟ جب الفاظ بے جان نہیں تو پتھر بھی بے جان نہیں ہو سکتے۔چہل قدمی کے لیے میں گھر سے نکلتا ہوں تو راستے میں بےجان پڑے پتھروں کو دیکھ کر سوچتا ہوں کہ ،یہ تو بے جان ہیں اور بےجان چیزوں کو کوئی بھی نہیں پوچھتا۔

پھر خیال آتا ہے کہ جو لوگ بے جان چیزوں کو پوجتے ہیں ،کیا وہ چیزیں واقعی بے جان ہوتی ہیں ؟

چلتے چلتے میں سونار کی دکان کے پاس پہنچ جاتا ہوں۔

میری نگاہ نیلم(پتھر )  پر پڑتی ہے،  مجھے محسوس ہوتا ہے،جیسے وہ پتھر مجھے اپنی طرف مائل کررہا ہو، جب میں اسے پاس جاکر دیکھتا ہوں تو اپنے آپ سے کہتا ہوں یہ تو صرف ایک پتھر ہے، اس نے مجھے کیسے مائل کیا اپنی طرف۔۔۔ کیا مجھے اس پتھر کی خوبصورتی نے اپنی طرف مائل کیا؟

میں اس دکان کے پاس سے گزرتا ہوا واپس اپنے گھر  جاتا ہوں۔ ایک گہری سوچ مجھے اپنے حصار میں لے لیتی ہے اور میں اپنے آپ سے کہتا ہوں۔
جو چیز مجھے اپنی طرف مائل کرتی ہے، کیا وہ میں خود تو نہیں؟
ایک خوبصورت پتھر جس نے مجھے اپنی طرف مائل کیا،
کیا وہ خوبصورتی میرے اندر تو نہیں؟
کیا میں خود کو اس پتھر میں تو نہیں دیکھ رہا؟

ابھی میں اسی سوچ میں تھا کہ میرے چاچا میرے پاس آئے اور مجھ سے کہا کہ باہر   آپ کا  کوئی دوست آپ کو  بُلا رہا ہے۔۔۔
میں باہر اپنے دوست کی طرف چلا جاتا ہوں۔۔۔
وہ مجھے دیکھتے ہی کہتا ہے
یار تم تو بہت ہینڈسم لگ رہے ہو۔
مجھے اس دوست کی یہ تعریف پسند آئی۔۔۔ اس نے مجھے ہینڈسم بولا۔۔۔ میں اس بات سے بہت متاثر ہوا۔
پھر مجھے خیال آیا کہ
میں اس کے الفاظ سے متاثر کیوں ہوا؟
یہ الفاظ تو بےجان ہیں۔۔۔
کیا میرے جذبات ان الفاظوں کے غلام تو نہیں؟
کیا ہمارے جذباتوں کی غلامی ان الفاظوں کی زندگی تو نہیں؟
اچانک دوست نے مجھے جھنجوڑا اور پوچھا:
کہاں گم ہوگئے ہو؟؟
میں مسکرایا اور کہا، “بس خود کو سمجھ رہا ہوں، باہر خودی کی تلاش میں سرگرداں ہوں اور اپنے اندر خودی کو دیکھ رہا ہوں”، یہ کہتے ہوئے میں اپنے دوست کا ہاتھ پکڑتا ہوں اور پھر ہم دونوں چہل قدمی کرتے کرتے گھر سے کافی دور نکل جاتے ہیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *