افسانوی قصہ، بھٹو و جیالا ۔۔۔۔جواد عمران

آپ نے افسانوی و رومانوی قصے تو سنے ہونگے جس میں عاشق کا اپنی معشوقہ کے لیے بےپناہ عشق کا ذکر ہوتا ہے کہ کس طرح دونوں تکلیف جھیلتے ہیں، ظلم و ستم برداشت کرتے ہیں جیسا کہ فرہادوشیری، سسی پنوں، لیلی مجنوں، ہیر رانجھا وغیرہ وغیرہ۔۔۔یہ سب قصے صدیوں پرانے ہیں، لیکن موجودہ دور میں ایک نیا قصہ اپنے عروج کو چھورہا ہے جس کا نام ہے”بھٹو اور جیالا “۔۔

قصہ مختصر یہ ہے کہ بھٹو “روٹی، کپڑا اور مکان” کا نعرہ لگاتا ہوا معشوقہ کے گھر جاتا ہے، جسے بھٹو پیار سے “جیالا” کہہ کر پکارا کرتا تھا، جیالے کو نعرے  کی وجہ سے بھٹو سے محبت ہونے لگتی ہے تاریخ گواہ ہے کہ تکلیفیں صرف جیالے کے اوپر ہی آئیں، یہ تکلیفیں کبھی تھر میں پانی و غذا کے قحط کی شکل میں تھی تو کبھی فصلوں کی تباہی کی صورت میں،کبھی اسپتال میں سہولتوں کے  فقدان میں، تو کبھی سرکاری سکولوں کو باڑے میں تبدیل کرنا۔۔

عجب پریم کی غضبناک کہانی تو یہ ہے تھر میں جیالے کو پانی چاہیے تھا تو بھٹو نے ایئرپورٹ بنادیا تاکہ جیالا پیدل خوار ہونے کے بجائے اپنی  صحرائی جہاز یعنی کہ اونٹ کو ایئرپورٹ سے اڑا کر دوسرے شہر سے پانی لاسکے۔۔روٹی اور پانی کی سہولت کے بعد جیالے کو کچا مکان بھی دیا۔
ایک دن تکلیف کی ماری معشوقہ نے بھٹو سے پوچھا “اے میرے ہمدم! تونے مجھے کیا دیا؟ تو بھٹو نے تاریخی جملہ کہا میں نے  تجھے یہ اختیار دیا ہے آج تو اپنے عاشق سے پوچھ رہی ہے کہ میں نے تجھے کیا دیا۔۔۔؟
ایک دن بھٹو مرجاتا ہے اور پھر جیالا اپنے عاشق کی یاد میں یہ نعرہ لگاتا ہوا قبر میں پہنچ جاتا ہے۔۔
“آج بھی بھٹو زندہ ہے”

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *