یہ کس کا لہو ہے کون مرا؟

SHOPPING
SALE OFFER
SHOPPING

میں بازار سے گزر رہا تھا کہ اچانک ایک اپاہج پر نظر پڑی جو ہر کسی کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کر رہا تھا تاکہ چند پیسے اس کی جھولی میں آسکیں  ، چنانچہ میں نے جب اس کی جانب قدم بڑھائے تو وہ شخص مجھے اپنی جانب آتا دیکھ کر خاصا خوش ہوا کیوں کہ زیادہ تر لوگ اسے نظر انداز کرکے پاس سے گزر رہے تھے ۔۔۔۔۔

میں نے اس کے پیروں کے بارے میں دریافت کیا ،کہ اس کے پیروں کو کیا مسئلہ ہے۔۔ جب تک وہ کچھ جواب دیتا ،کہ  ایک زور کا دھماکہ ہوا ، دھماکے کی خوفناک آواز سن کر بھگدڑ مچ گئی،کیوں کہ  جب جان پر  بن آتی ہے تو کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ کیا ہو رہا ہے بلکہ سب اپنی جان بچانے کی تگ و دو میں لگ جاتے ہیں، میں بھی اسی دوڑ میں آگے بڑھا،  پاس ہی ایک دفتری عمارت میں گھس کر سیدھے دوسری منزل پر چڑھ گیا،  وہاں کھڑکی سے سڑک کی طرف جب نظر ڈالی تو کچھ بھی نظر نہیں آ رہا تھا،  صرف فوجی ہی فوجی نظر آرہے تھے ۔

اچانک یکے بعد دیگرے چند اور زوردار دھماکے ہوئے، گولیوں کی بے شمار آوازیں سنائی دے رہی تھیں ۔۔۔ ایک گاڑی نمودار ہوئی جو فوجیوں سے بھری تھی،  انہوں نے جونہی گاڑی کی کھڑکیاں کھولنے کی کوشش کی، پھر ایک زوردار دھماکہ ہوا، فوجی گاڑی سے ایک نوجوان کو لات مار کر باہر پھینکا گیا، جو زندہ تھا۔۔۔۔ اس کا گرنا ہی تھا کہ اس پر اندھا دھند گولیاں چلا دی گئیں ۔

دور سے اندازہ لگانا مشکل تھا کہ گولیاں کتنی تھیں ،لیکن ایک سو کے قریب تو تھیں ۔جس کے بعد اس افرا تفری کے ماحول کو چند لمحوں  تک برابر قائم رکھا گیا،  جس کے بعد لاش  کو اٹھا کر گاڑی میں جانوروں کی طرح بھر دیا گیا ۔۔۔۔۔۔ فوج اور پولیس نے شور مچا کر ادھر ادھر چند لمحات گزار کر راہ فرار اختیار کر لی۔ اب سڑک پر چہل پہل تھی،لیکن جا نجا کون بکھرا پڑا تھا۔

سب لوگ حیرانی کے عالم میں سراپا سوال بنے ہوئے تھے،کوئی شخص اس معاملے سے کسی قسم کی بھی آگاہی نہ رکھتا تھا۔۔۔کوئی نہ جانتا تھا ،کیا ہوا، کیوں ہوا، کس لئے ہوا۔۔

یہ کس کا لہو ہے کون مرا۔۔

اس واقعے کا ایک ایک منظر آج بھی نظر کے سامنے ہے،کانوں میں چیخو پکار کی گونج بھی ویسی ہی ہے۔۔دوستو!یہ ایک ان کاؤنٹر تھااور  ایسے فرضی انکاؤنٹر مقبوضہ کشمیر میں معمول کا حصہ ہیں ۔خدا سے دعا یے کہ اے خدا ہم کو ظالم کے ظلم سے جلد آزادی نصیب فرما۔ آمین

SHOPPING

ابراہیم جمال بٹ
ابراہیم جمال بٹ
مقبوضہ جموں وکشمیر سے ایک درد بھری پکار۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *