گلگت بلتستان کی آئینی شناخت ۔ علیم رحمانی

اسلام آباد سے فقط پینتالیس منٹ کا ھوائی سفر آپ کو گلگت بلتستان نامی ایک جنت نظیر وادی میں پہنچا دیتا ہے۔ ایک ایسی وادی جہاں قدرت کی صنّاعی اور خلّاقی کے ایسے ایسے مظاھر آنکھوں کو خیرہ کرنے آپ کی راہ تک رھے ھوتے ھیں کہ جن کو دیکھ کر آپ قدرت اور اس کے ان بےنظیر شاھکاروں کی داد دئیے بغیر رہ  ہی نھیں سکتے. ذرا چشم تصور وا کیجیے کہ کراچی کی جھلساتی گرمی کا مارا ایسی ٹھنڈی ٹھار وادی میں پہنچ جائے جہاں رات کو  گرمیوں میں بھی درجہ حرارت منفی تک گر جاتا ہے، تو اس کی حیرانی کاعالم کیا ھوگا۔ گلگت سے چند کلو میٹر دور ضلع نگر  میں راکاپوشی کے سامنے بیٹھ کر ڈوبتے اور طلوع  ھوتے سورج کانظارہ کرنے کے لیے صرف آپ کی جیب کا گرم ھونا کافی نھیں بلکہ آپ کے لیے قسمت کا دھنی ھونا بھی ضروری ھے کیونکہ قدرت ھر کسی کی تقدیر میں یہ نظارا نھیں لکھتی۔

گلگت ہی کے مضافات میں حسین وادی ھنزہ واقع ھے جہاں سے تعلق رکھنے والے دوبہن بھائیوں نے ابھی دوسال پہلے ماؤنٹ ایورسٹ پہ پاکستان کا سبز ھلالی پرچم لہرا کر اس ملک کا نام روشن کیا تھا۔ وھیں کہیں عطاآباد جھیل بھی ھے۔ یہ جھیل دریائے گلگت پہ پہاڑی تودہ گرنے کے سبب عطاآباد نامی ایک بہت ھی سرسبز و شاداب اور قہقہوں سے بھرپور زندگی سے معمور گاؤں کے ڈوب جانے سے ابھری ھے۔ یہ جھیل اس وقت ایک دلفریب تفریح گاہ کی حیثیت رکھتی ھے جہاں ملک کے کونےکونے سے لوگ آتے ھیں اور اس کے نیلے پانی دیکھ کر اور اس میں سیر کرکے لطف اندوز ہوتے ھیں اور ساتھ ہی یہ پوچھنا نھیں بھولتے کہ اس جھیل کاپانی اتنا نیلاکیوں دکھتاھے ؟ وھیں قریب کھڑا ندیم بیگ ان کو بتاتا ھے کہ اس پانی میں ارمانوں سے بسائے ھمارے گھر، اولادوں کیطرح پالے گئے سینکڑوں اقسام کے پھلدار درختوں سمیت وفاقی حکومت سے وابستہ  ھماری ساری توقعات بہہ گئی تھیں، اس دن سے یہ نیلا دکھتا ھے کہ شاید ارمانوں کےخون کایہی رنگ ھوتاھے.

ذرا آگے آئیے!  یہ ھے چین  سے  پاکستان کو ملانےوالا سوست باڈر! جو پاکستان کا سب سے بڑا ڈرائی پورٹ اور جس ملک کی دوستی کو ھمالیہ سے بلند اور سمندر سے گہری کہتے ھمارے حکمران نھیں تھکتے، اس عوامی جمہوریہ چین سے پاکستان کا واحد نقطہ اتصال ھے،جس کی بدولت چین پاکستان کا پڑوسی کہلاتا ہے۔ یہ وہی رستہ ہے جہاں سے کچھ عرصہ بعد محترم سی پیک کو گزرنا ہے اور شاید اس نے ہم عوام کے اوپر سے ھی گزر کر جانا ہے۔ کیا پوچھا کہ عوام کو اس عظیم منصوبے سے کیا فائدہ ہوگا؟ بھئی حوصلہ رکھیے، اس کی رائلٹی میں گلگت بلتستان کے لیے گاڑیوں کا دھواں ملے گا۔ اب کوئی اس دھویں سے بجلی بنا کر پورے علاقے میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے کا بندوبست کر لے تو ارباب اختیار کو کوئی اعتراض نہ ھوگا بلکہ وزیراعظم اس کو بلا کر شاباش بھی کہیں گے۔ اب اس سے زیادہ عوام کو کیا چاھیے؟ ایک کمال بات یہ ھے کہ سوسٹ باڈر کیوجہ سے چین پاکستان کا پڑوسی ھے مگر وفاقی دستاویزات کے مطابق گلگت بلتستان پاکستان کاحصہ نھیں! پریشان ہو گئے آپ؟ بس یہ اک معمہ ھے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا۔

ذرا گلگت شہر سے بلتستان کارخ کیجیے جسے رشک جنت کہا جائے تو بے جا نہ ھو گا۔ شاید اسی جگہ کیلیے کہا گیا کہ

اگر فردوس ——-برروئے زمین است

 ھمیں است وھمیں است وھمیں است.

یہیں کے ٹو کا عظیم پہاڑ ھے، یہیں سیاچن گیاری سیکٹر ھے ،یہیں کارگل کا محاذ جنگ ھے جہاں مشرف اور نوازشریف کی مہم جوئی میں عوام نے بھی شانہ بشانہ حصہ لیا تھا۔ وہی کارگل جہاں دشمن کے ناپاک ارادوں کو خاک میں ملانے پر گلگت بلتستان کے سپوت حولدار لالک جان شہید کو نشان حیدر کا اعزاز عطاھوا. مگر عجیب بات ھے کہ ھزاروں لالک جانوں کی سرزمین  کے باسی اب  بھی نیم پاکستانی ھیں۔ وہ وطن پہ جان وار دینے  کا جذبہ رکھنے کے باوجود بھی مکمل پاکستانی شناخت کے لیے خوار ھورھے ھیں . حکمران سیر سپاٹے اور الیکشن کے دوران یہاں ضرور آتے ھیں، خوب کھاتے کھلاتے ھیں، تصویریں کھنچواتے ھیں ،وعدے اور اعلانات کرتے ھیں مگر اسلام آباد پہنچنے  کے بعد سب کچھ بھول جاتے ھیں، پھر یہاں کے عوام ھوتے ھیں اور ان کااحساس محرومی!

آپ اسی علاقے کی تصاویر دیکھ کر پاکستان کو ایشیا کا سویٹزرلینڈ کہتے ہیں۔ اور حالات یہ کہ اس پورے علاقے میں کوئی میڈیکل  اور انجینرئنگ  کالج نھیں اور نہ ھی ٹیکنیکل ایجوکیشن کا کوئی  اچھاادارہ ھے۔ لے دے کے گلگت میں ایک قراقرم یونیورسٹی ھے جس کے معیار تعلیم پہ بڑے بڑے سوالیہ نشانات لگے ھوئے ھیں۔ یاد آیا کہ بلتستان یونیورسٹی کا اعلان وزیر اعظم نوازشریف نے بزبان خود کیاتھا مگر ھنوز دلی دوراست. جب بھی کوئی وفاقی حکومت کا ذمہ دار یہاں آتا ہے تو یہاں کے عوام کاپہلا مطالبہ یہ ھوتا ہے طکہ ھمیں برابر کا شہری تسلیم کیاجائے اور گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کو زبردستی مسئلہ کشمیر کے ساتھ نتھی نہ کیاجائے کیونکہ کشمیر کیساتھ اس علاقے کی زبان، کلچر اور تہذیب وثقافت کچھ بھی نھیں ملتی۔ اب وفاق نے اس علاقے کی عوام کو آئینی  حقوق دینے کی بجائے یہاں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون کے مقامی صدور کا نام باری باری وزیر اعلی رکھ چھوڑنے کو حقوق کا نام دے رکھا ھے.

دوستو، ہم وہاں ہیں جہاں سے آپ کو ہمارے علاقے کے قدرتی حسن کی تصاویر تو موصول ہوتی ہیں، لیکن اس حسن کا پھٹا لباس نظر نہیں آتا۔ آپ کو ہمارے قدرتی طور پر خوبصورت چہروں پر تو رشک آتا ہے مگر ہمارے بھوکے پیٹ سے لاعلم ہیں۔ آپ خواہ “مکالمہ” کیجیے یا مجادلہ، مگر کچھ ہمارے لیے بھی تو کیجیے۔ آپ اگر اور کچھ نہیں کرسکتےتو ہمیں ہماری آئینی شناخت تو دیجیے۔ اگر حکومت اس علاقے اور یہاں کے عوام سے واقعی مخلص ھے تو فی الفور اس کی آئینی حیثیت کاتعین کرے تاکہ عوام کومعلوم ھو سکے کہ ان کی اھمیت اور حیثیت کیاھے ؟ اگر “مکالمہ” وفاق اور گلگت بلتستان کا معانقہ کرا سکے، جس کی انشاء اللہ امید کی جاسکتی ھے تو ہم سب کہیں گے، آئیے مکالمہ کریں کیونکہ مکالمہ معانقہ کی تمہید ھے.

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *