نواز شریف کی ضرورت ہے(اختصاریہ)۔۔اظہار ارشد

یہ بہت افسوس ناک ہے کہ ریاستی ادارے سیاسی مقصد کے لیے استعمال کیے جائیں. پاکستان کے پاس بڑے اثاثے چند ہی تھے، انگریزوں کا ریلوے اور نہری نظام ، شیر شاہ سوری کا  بنایا  جی ٹی روڈ،جنرل ایوب کے دو ڈیم ، اس کے بعد موٹر ویز، ایٹمی قوت اور سی پیک ۔۔یہ سب نواز شریف کا دیا ہوا ہی ہے، اس کے علاوہ پاکستان کے پاس کوئی بڑا اثاثہ نہیں میری پوری زندگی میں دو بار پاکستان میں مردم شماری ہوئی ، دونوں بار نواز شریف نے کروائی، 1998 اور 2017.

کراچی میں ایم کیو ایم جیسی دہشت گرد تنظیم جنرل ضیاء نے بنائی، اور جنرل مشرف نے 1999 کے بعد دوسری زندگی دی، جب کہ  ایم کیو ایم کے خلاف تاریخ میں تین بڑے آپریشن ہوئے، 1992 ،1998 اور 2013 تینوں بار نوازشریف وزیراعظم تھا.

2013میں جب نواز شریف وزیراعظم بنا تو 16 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ، گیس کی لمبی لائنیں، بم دھماکے، کراچی میں روز 20 قتل اور بلوچستان میں پاکستانی جھنڈا لہرانے پہ پابندی تھی، اور خزانے میں 6 ارب تھے۔ ڈالر 100، سعودی ریال 28 پہ تھا. جب جولائی 2017 میں کٹھ پتلی عدالتوں نے نواز شریف کو نا اہل کیا، تو بجلی گیس کی لوڈشیڈنگ تقریباً ختم، کراچی ٹارگٹ کلنگ زیرو،الطاف حسین پہ بین تھا، بلوچستان سی پیک اور گوادر پورٹ کی وجہ سے پاکستان کا سب سے اہم صوبہ بن چکا تھا، ڈالر، پاؤنڈ اور ریال وہیں کے وہیں تھے، خزانے میں 17 ارب ڈالر، مہنگائی کی شرح 10 سے کم ہو کر 3.5، اور پیٹرول 114 سے کم ہو کر 65 پہ تھا. جی ڈی پی 3.6 سے بڑھ کر 5.8،اور سٹاک ایکسچینج 19000 سے 54000 کا سفر طے کر چکی تھی۔

اور آج کی صورت حال سب کے سامنے ہے۔۔کیا اب بھی آپ میری بات سے اتفاق نہیں کریں گے،کہ ہمیں نواز شریف کی ضرورت ہے؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *