خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

کہتے ہیں زندگی دنیا میں اپنا کردار ادا کر کے ما بعد الحیات کردار کی طرف چلے جانے کا نام ہے۔۔ یہ بالکل ایسا ہے جیسا ایک گھر سے دوسرے گھر منتقل ہونا۔۔ جانے والا تو چلا جاتا ہے لیکن پیچھے رہ جانے والے خالی مکان کو تکتے رہ جاتے ہیں۔۔ مولانا سلیم اللہ خان بھی ما بعد الحیات کردار کی اوڑ چلے گئے ہیں۔۔ ان کا جانا ایک عہد کا اختتام ہے۔۔ ایک درخشاں باب کی تکمیل ہے۔۔ انہیں یاد کرنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے اور لاکھوں کے پاس ان کی الگ الگ شبیہ ہے۔۔ کوئی ان کی متانت کو یاد کرے گا تو کوئی ظرافت کو۔۔ کسی کے نہاں خانہ دل میں ان کی عقیدت بھری ہے تو کوئی ان کے علمی مقام و مرتبے کا شیدائی۔۔ کوئی ان کی تحریکی زندگی کو یاد کرے گا تو کوئی ان کی محبت و شفقت کو۔۔ در حقیقت مولانا سلیم اللہ خان کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں جن میں سے ہر ایک یادگار رہے گا۔۔

میرا ان کے ساتھ تعلق اس عقیدتمند کا سا ہے جو دور ہوتے ہوئے بھی ہمیشہ انہیں اپنے بے حد قریب محسوس کرتا رہا۔۔ علم و عمل کی راہ میں جب بھی کوئی مشکل پیش آئی ان کا کردار اور اظہار میرے لئے فیصلہ کن رہا۔۔ اگر واقعات اور خدمات گنوائی جائیں تو شاید میری بساط جواب دے جائے لیکن میں ان کی زندگی کے ایک پہلو پر بات کرنا چاہوں گا۔۔

قائین گرامی۔! قرن اول سے لے کر آج تک جتنے بھی اہل علم گزرے ہیں ان کی عظمت کے تذکرے میں لکھا گیا ہے کہ وہ سادگی پسند تھے۔۔ علم و عمل کی وادی میں نزاکت اور تعیش پسندی کا حصہ نہ ہونے کے برابر رہا ہے۔۔ ہم نے مؤرخین اور تذکرہ نویسوں کو اس نکتے پر متفق پایا کہ سادگی اہل علم کی مشترکہ صفت رہی ہے۔۔ مولانا سلیم اللہ خان کی زندگی بھی اسی سادگی سے عبارت تھی۔۔ لاکھوں عقیدت کیشوں کے باوجود ان کے رویے میں تعلی، تصنع اور تکبر کا شائبہ تک نہیں ملتا۔۔ ادھیڑ عمری اور کمزوری کے باوجود دور دراز کے علاقوں میں جانا، ہر نازک موڑ پر اپنا سکون تیاگ کر میدان عمل میں کود پڑنا اور بلا تفریق دین کے تمام شعبوں کے وابستگان سے لگاؤ رکھنا اور ان کی سرپرستی کرنا مولانا سلیم اللہ خان کا شیوہ تھا۔۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان کے وصال پر ہر آنکھ اشکبار اور ہر نفس غم سے نڈھال ہے۔۔

شورش کاشمیری کے الفاظ میں:

عجب قیامت کا حادثہ ہے کہ اشک ہے آستیں نہیں ہے۔۔
زمیں کی رونق اجڑ گئی ہے فلک پہ مہر مبیں نہیں ہے۔۔
تیری جدائی سے مرنے والے، کون ہے جو حزیں نہیں ہے۔۔

Avatar
وقاص خان
آپ ہی کے جیسا ایک "بلڈی سویلین"

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *