• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • ایک درویشِ بے گلیم، جو بطحا کی وادیوں کے ترانے سنا گیا۔۔۔

ایک درویشِ بے گلیم، جو بطحا کی وادیوں کے ترانے سنا گیا۔۔۔

علمائے عصر میں بامقصد تعمیری زندگی کا استعارہ، وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر، استادِ محترم شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان صاحب کی مہلتِ عمل بھی ختم ہوگئی۔ 15 جنوری 2017 کی رات آپ خدا کے حضور حاضر ہوگئے۔ آپ ایک بہترین قائد اور اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ آپ کی وفات سے پاکستان میں دیوبند کی علمی و تعلیمی روایت کی ایک درخشاں شمع بجھ گئی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

مولانا سلیم اللہ خان صاحب 25 دسمبر 1926ء کو قصبہ حسن پور لوہاری ضلع مظفر نگر (انڈیا) میں آفریدی پٹھانوں کے ایک معزز خاندان ملک دین خیل میں پیدا ہوئے۔ تقسیم کے وقت آپ کا خاندان خیبر ایجنسی میں منتقل ہو گیا۔ ابتدائی تعلیم حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی کے خلیفہ مولانا مسیح الله خان صاحب کے مدرسہ مفتاح العلوم جلال آباد (افغانستان) میں حاصل کی اور 1942ء میں تعلیم کی تکمیل کے لیے دارالعلوم دیوبند میں داخل کیے گئے۔ یہاں سے آپ 1947ء میں سندِ فراغت سے سرفراز کیے گئے اور مدرسہ مفتاح العلوم ہی میں تدریس سے عملی زندگی شروع کی اور یہاں تنظیمی امور بھی آپ کے سپرد کیے گئے۔ یہاں آپ نے آٹھ سال تک خدمات انجام دیں۔ اس کے بعد آپ دارالعلوم ٹنڈو الہٰ یار تشریف لے آئے اور یہاں تین سال تدریس کے بعد دارالعلوم کراچی چلے گئے۔ آپ نے دس سال تک دارالعلوم کراچی میں تدریس فرمائی اور اسی دوران ایک سال جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن میں بھی مختلف اسباق پڑھائے۔ جنوری 1967ء میں آپ نے جامعہ فاروقیہ کے نام سے اپنے ذاتی مدرسے کی بنیاد رکھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے مدرسہ کی وسیع و عریض پرشکوہ عمارت تیار ہوگئی اور یہاں کی تعلیمی سرگرمیوں نے اعتماد اور نام پیدا کر لیا۔

1980ء میں آپ کو وفاق المدارس العربیہ پاکستان کا ناظمِ اعلیٰ مقرر کیا گیا۔ آپ نے وفاق کی افادیت اور دیوبندی مدارسِ عربیہ کی ترقی اور معیارِ تعلیم کی بلندی کے لیے اعلیٰ خدمات انجام دیں اور اس باب میں آپ کے قائدانہ کردار اور ممتاز انتظامی صلاحیتوں کا ایک زمانہ معترف ہے۔ آپ کی ان بے بہا خدمات کے پیشِ نظر آپ کو 1989ء میں وفاق کا صدر منتخب کر لیا گیا۔ یہ عہدہ تازندگی آپ کے پاس رہا۔

وفاق المدارس کے آئین اور نصاب کی تیاری کے ضمن میں لکھت پڑھت کی جو سعادت مفتی غلام قادر صاحب، مولانا مسیح اللہ خان صاحب کے خلیفہ عبد الجواد صدیقی صاحب اور میرے والد پروفیسر عابد صدیق صاحب کے نصیب میں آئی اس کا کچھ تذکرہ میں حضرت مفتی صاحب پر اپنے مضمون میں کر چکا ہوں جو وفاق المدارس العربیہ کے ترجمان ماہنامہ وفاق المدارس میں چھپ چکا ہے۔ یہ میرے خاندان کا اعزاز ہے اور ہر سہ مرحومین کے لیے زادِ راہ۔ خدائے پاک قبول فرما لے۔

انتظامی سرگرمیوں کے وفور اور دیگر متعلقہ امور کی سرگرم انجام دِہی کے باوجود آپ کے تعلیمی مشاغل میں کمی نہ آئی۔ صحیح بخاری پر آپ کے دروس کشف الباری اور مشکوٰة المصابیح پر آپ کی تقریر نفحات التنقیح کے نام سے شائع ہوچکی ہیں۔ (درسِ حدیث کی اصطلاح میں تقریر اس Commentary کو کہتے ہیں جو استادِ حدیث درس دیتے ہوئے مختلف احادیث پر کرتا ہے۔) خدا اس صدقہ جاریہ کو قبول فرمائے اور امت کے لیے نافع بنائے۔ آمین۔

اس خاکسار راقم الحروف کو 1992ء میں حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب سے بخاری شریف کی آخری حدیث بطورِ آٹوگراف لکھوانے اور نیچے ان کے دستخط لینے کی سعادت ملی۔ یہ یادگار میرا اثاثہ ہے۔ للناسِ فیما یعشقون مذاہب۔

حافظ صفوان محمد
حافظ صفوان محمد
مصنف، ادیب، لغت نویس

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *