• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • دنیا پر امریکی حکمرانی کے خوبصورت استعماری نعرے۔۔ڈاکٹر ندیم عباس بلوچ

دنیا پر امریکی حکمرانی کے خوبصورت استعماری نعرے۔۔ڈاکٹر ندیم عباس بلوچ

کچھ عرصہ پہلے یہ یہ خبر آئی تھی کہ امریکہ چائلڈ سولجرز پریوینشن ایکٹ کی سالانہ ٹی آئی پی رپورٹ میں پاکستان اور ترکی کو شامل کر لیا گیا ہے۔ اس میں ان ممالک کو شامل کیا جاتا ہے جو کم عمر بچوں کو قومی فوج میں استعمال کرتے ہیں یا ان کے حمایت یافتہ گروہ بچوں کو جنگ میں استعمال کرتے ہیں۔ اس فہرست میں شامل ہونے سے وہ ممالک انٹرنیشنل ملٹی ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ، فارن ملٹی فنانسنگ، ایکسز ڈیفنس آرٹیکلز اور پیس کیپنگ آپریشنز میں شامل نہیں ہوسکے۔ اس کے علاوہ سی ایس پی اے ان حکومتوں کو براہِ راست عسکری آلات کی تجارتی فروخت کا لائسنس جاری کرنے سے روکتی ہے۔ امریکی ادارے چین کی کاٹن اور کچھ دیگر پروڈکس پر پابندیاں عائد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ دراصل یہ مصنوعات ان کیمپوں میں بنائی گئی ہیں، جہاں ایغور مسلمانوں کو قید رکھا گیا ہے، اس لیے انہیں نہیں خریدا جائے گا۔ دنیا میں کئی طرح کے وائرس موجود ہیں، جو مختلف مقامات سے پیدا ہوئے ہیں، وہاں کوئی سوال نہیں اٹھایا گیا کہ یہ کیسے بنے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے باقاعدہ مہم بنائے رکھی کہ یہ وائرس چین نے لیبارٹری میں بنایا ہے۔ اگر یہ وائرس چین نے بنایا ہے تو اسے امریکہ سے نکلنا چاہیے تھا، تاکہ دشمن کو نقصان ہوتا۔

خیر ٹرمپ کی باتوں کو کوئی سنجیدہ نہیں لیتا۔ امریکہ میں اب ایک پڑھے لکھے اور تجربہ کار صدر آچکے ہیں اور عہدے سنبھالے بھی کافی دن ہو چکے ہیں۔ جو بائیڈن نے اعلان کیا ہے کہ ہم اس بات کی تحقیق کریں گے کہ کرونا وائرس لیبارٹری میں بنا ہے یا نہیں۔؟ ویسے تو امریکہ نے اسلامی جمہوریہ ایران پر بہت ساری پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، مگر کچھ ہی عرصہ پہلے انقلابی عدالت برانچ ایک شیراز کے جج سید محمود ساداتی، جج محمد سلطان اور وکیل آباد اور عادل عباد پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ ان کی وجہ سے ان کے خیال میں قیدیوں پر تشدد ہوا اور انصاف فراہم نہیں کیا گیا اور ایک شخص کو سزائے موت دی گئی۔ امریکی محکمہ خارجہ نے سال 2020ء میں دنیا میں انسانی حقوق کی صورت حال کے حوالے سے منگل کے روز پیش کردہ اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ غیر قانونی اور یک طرفہ گرفتاریاں اور ماورائے عدالت انصاف، قتل اور گمشدگیاں پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال خراب ہے، اسی لیے پاکستان کو واچ لسٹ پر رکھا گیا ہے۔

tripako tours pakistan

مندرجہ بالا رپورٹس پر غور کریں تو معاملات کافی واضح ہو جاتے ہیں کہ امریکہ اپنے استعماری مقاصد کے حصول کے لیے کس طرح دلکش نعروں کے ذریعے دیگر اقوام پر پابندیاں عائد کرکے انہیں کٹہرے میں کھڑا کر دیتا ہے۔ بچوں کا فوجی استعمال برا ہے اور جو انہیں استعمال کر رہے ہیں، ان کے خلاف کارروائی عام انسانیت پسند امریکی کا دل جیت لے گی، دنیا میں نعرے لگیں گے، مگر رک جائیں کیا واقعاً ایسا ہے۔؟ اس وقت سب سے زیادہ بچوں کا استعمال داعش اور اس کی ہم فکر تنظیموں نے شام و عراق میں کیا۔ دنیا والے جانتے ہیں کہ داعش کو بنانے میں کن کن ممالک کا سرمایہ لگا؟ کن ممالک نے عملی طوپر اس کو بنانے میں کام کیا۔؟ ان ممالک کا نام تک اس فہرست میں نہیں ملے گا۔ اگر سعودی عرب کا نام آجائے تو وہاں سے ملنے والے اربوں ڈالر کے اسلحے کے آرڈر کو روکنے کا رسک نہیں لیا جا سکتا۔ کوئی امریکی شہری سوال اٹھا سکتا ہے کہ جب سعودی عرب یمن میں صنعا کی حوثی اتحادی حکومت، شام کی اسد حکومت اور عراق کی جمہوری حکومت کے خلاف جنگی کارروائیوں میں بچوں کا استعمال کر رہا ہے تو اسے اسلحہ کیوں بیچا جا رہا ہے۔؟ اس لیے ان ممالک کا نام تک اس فہرست میں نہیں ہے۔

خود امریکہ نے جہادی تنظیموں کو پہلے روس کے خلاف استعمال کیا اور اب کرد اور داعشی گروہوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ کیا امریکہ خود اپنے خلاف چارچ شیٹ لگائے گا؟ کیا انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ جو آپ کے خلاف ہے، اس کو کٹہرے میں کھڑے کیے رکھو اور جو آپ کے ساتھ ہو، اس کے سات خون بھی معاف۔؟ چین کا مقابلہ تجارت میں نہیں کر پا رہے ہیں، اس لیے چینی انڈسٹری کو نقصان پہنچانے کے لیے آئے روز مسلمانوں کو خوش کرنے کے لیے ایغور کا بہانہ کرکے چینی کپڑے کی مارکیٹ تباہ کی جا رہی ہے۔ مغرب اور دیگر ممالک کو چین کے خلاف بھڑکایا جا رہا ہے کہ وہ چینی مصنوعات سے دور رہیں، نہیں تو ان کی کمپنیاں انسانی حقوق کے نام پر تجارت کی اس جنگ کی نذر ہوسکتی ہیں۔ ایغور کا ایشو بھی کافی دلچسپ ہے، اس کو مغرب چین کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ امریکہ اور مغرب کبھی بھی ایغور ایشو پر مخلص نہیں ہیں، وہ ہمیشہ چین کو دباو میں لانے کے لیے اس کو استعمال کرتے ہیں۔

Advertisements
merkit.pk

مذہبی آزادیوں، اقلیتوں کے حقوق اور ماروائے عدالت قتل کی بنیاد پر پاکسان اور دیگر کئی ممالک کے خلاف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔ جس کیس کی بنیاد پر اسلامی جمہوریہ ایران کے معزز جج صاحبان پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں، وہ ایک قاتل کو سزا دینے کا معاملہ تھا۔ احتجاج کے نام پر فساد کرنے والوں نے ایک سکیورٹی گارڈ کو جان سے مار دیا تھا، قاتل کو مقدمہ چلانے کے بعد سزا دی گئی۔ اس میں کیا برا ہے؟ کیا امریکہ میں قتل کرنے والوں کو سینیٹر بنا دیا جاتا ہے۔؟ ہاں خیر امریکہ کا ریکارڈ تو انتہائی برا ہے، پچھلے سال امریکہ میں بیس ہزار قتل ہوئے اور صرف چھ ہزار کیسوں کا ہی چالان مکمل ہوسکا۔ باقی چودہ ہزار قاتل زندہ گھوم رہے ہیں اور انہیں پکڑنے والا کوئی نہیں ہے۔ مہذب دنیا میں ایسا نہیں ہوتا بلکہ مہذب دنیا قاتلوں کو پکڑ کر ان سے حساب لیتی ہے اور معاشرے کو پرامن بناتی ہے۔ پرکشش نعروں کی بنیاد پر ملتوں کو اپنے مفاد کے لیے پابندیوں کا نشانہ بنانے کا دور گزر چکا ہے، اب نیا دور کچھ نئے حقائق کے ساتھ موجود ہے، جس میں دنیا کو پرامن جگہ بنانے کے لیے مل جل کر فیصلے کرنا ہوں گے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

ڈاکٹر ندیم عباس
ریسرچ سکالر,اور اسلام آباد میں مقیم ہیں,بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے ان کے کام کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply