حیرت کدہ۔سید ثمر احمد/قسط2

ٹرانس جینک جہان!
ہم طلسمِ ہوش ربا میں جیتے ہیں۔ اس بات  پر یقین کیا جارہا ہے کہ ہم جیسے انسانوں کی یہ آخری صدی ہے۔ یعنی ‘ہیومن ٹائپ 1’ کی۔ آج سے 150/ 200 سال بعد اگر ہم یہاں سے گزرے تو یہاں ‘ہیومن ٹائپ 2’ نظر آئیں گے۔ یہ ٹرانس جینک ریسرچ کا کمال ہوگا۔ امریکن دفاعی ریسرچ کےسرکاری ادارے ‘ڈارفا’ نے پچھلے سال اپنی فنڈز کا سب سے زیادہ استعمال اسی ریسرچ پہ کیا تھا۔

اس طریقہ میں مختلف ڈی –این-اے کا ادغام کیا جاتا ہے اور نئی طرح کی نسل پیدا کی جاتی ہے۔ جیسے ایک نئی سوؤر کی نسل بنائی گئی ہے جس میں سوؤر اور پالک کے ڈی-این-اےکو شامل کیا گیا ہے۔ اب جو سوؤر بنایا گیا ہے اس میں آئرن کی کافی مقدار اور چربی کی نہایت کم مقدار شامل ہے۔ پہلے سوؤر زیادہ کولیسٹرول والے نہیں کھا سکتے تھے لیکن اب کے بعد ان کے لیے یہ ممکن ہوگیا ہے۔ اسی طرح 40 پودے وہ اُگا لیے گئے ہیں جن پر بیک وقت 14 طرح کے پھل لگتے ہیں۔ جگنو اور تمباکو کو ملا کر ایسی تمباکو کی فصل تیار کی گئی ہے جو رات کو چمکتی ہے۔

ہیومن ٹائپ 2 میں عقاب کا ڈی-این-اے ویثرن کے لیے شامل کیا جائے گا۔ چیتے کا لچک کے لیے، بلی کا رات کی نظر کے لیے، کتے کا سونگھنے اور سننے کے لیے اور ۔۔۔ یوں ایک نئی طرح کا انسان تیار ہوگا جسے ہم ‘سپر مین’ کِہ سکتے ہیں۔ انسان خدا کے اذن سے واقعی ستاروں پہ کمندیں ڈال رہا ہے۔

اسی طرح انسان کو کروڑوں سال پہلے کے ڈی-این-اے ملے تو ہیں لیکن نامکمل حالت میں۔ جس دن ایک بھی کامل ڈی-این-اے مل گیا اس دن انسان ان ناپید جانوروں کو دوبارہ پیدا کرلے گا اور یہ پھر اس دنیا کا حصہ ہوں گے۔
ذرا ہم بھی دیکھیں کہ کوئی قوم آخر کیوں ترقی کر جاتی ہے اور کیوں زوال زدہ ہوجاتی ہے۔ ہم میں سے کتنے ہیں جنہوں نے یہ نام ہی پہلے سنا ہو اور۔۔۔۔۔ ہماری دلچسپیوں اور مباحث کے میدان کون سے ہیں۔ او سیاستدانو، دانشورو، مولویو ں کچھ تو ہوش کرو۔ یہ نہ جاگیں تو ہم تو جاگ ہی جائیں ورنہ جاگ نصیب نہیں ہوتی۔

مستقبل حیران!
انسان سپائڈر مین بن جائے گا۔ 10 سے 20 سالوں میں وہ سوٹ مارکیٹ میں آنے والا ہے جو انسان کو سپائڈر مین جیسی  طاقت مہیا کرے گا۔ خوراک کی ضرورت کم سے کم ہوتی جائے گی۔ وہ ٹافی تو میدان میں آچکی جو انسان کی دن بھر کی غذائی ضرورت کو پورا کردیتی ہے اور یہ بھاری بھر کم خوراکیں قصہءِ پارینہ بن جائیں گی۔ اس سے آگے بڑھتے ہوئے ‘ناسا’ نے انسان کی سپر ہیومن صلاحیت کی تصدیق کردی ہے۔ مطلب جہاں کچھ بھی کھانے کی ضرورت نہیں ہوگی اور انسان اپنی تمام تر توانائی کی ضرورتیں سورج اور ماحول سےپوری کرے گا، آخر کو انسان بھی اپنی آخری حقیقت میں انرجی ہی تو ہے، الیکٹران پروٹان کا کھیل۔ خدا نے اپنے کچھ دوستوں کو یہ صلاحیت کبھی دی ہو تو یہ سمجھنا چنداں مشکل نہیں۔

اگلے بیس سالوں میں دما غ کے ‘کورٹیکس’ کو براہِ راست انٹرنیٹ سے منسلک کردیا جائے گا جس کے بعد انسان محض سوچ ہی کے ‘گوگل’ کی لاکھوں معلومات جاننے کے قابل ہوجائے گا۔کلون تو اب پرانی بات ہو گئی، اس پہ مزید ڈیویلپمنٹس جاری ہیں۔ لیکن حضورﷺ سے پوچھا گیا کہ دجال جو کسی کے کہنےپر اس کے مرے ہوئے بھائی کو زندہ کردے گا تو کیا وہ اسی کا بھائی ہوگا؟؟؟ آپﷺ نے فرمایا نہیں بلکہ اس کی مثل ہوگا۔ تو اب اس حدیث کو سمجھنا ممکن ہوگیا اور کلون کی اہلیت نے نبوت کے لیے ایک اور ماحول فراہم کردیا۔

ٹائم مشین!
سورج کی روشنی ہم تک پہنچنے میں قریباََ 9 منٹ لیتی ہے۔ یعنی ہم تک پہنچنے والی روشنی 9 منٹ پرانی ہوتی ہے۔ اسی طرح دیگر ستاروں کی روشنی مختلف وقفوں سے، کئی دن/ ہفتے/ سال/ ہزاروں لاکھوں سال بعد بھی ہم تک پہنچی ہے۔ یہ ہم جانتے ہیں۔ مطلب جس ستارے کی روشنی لاکھوں سال بعد ہم تک پہنچی ہے اس کی پیدائش لاکھوں سال پہلے ہوچکی تھی۔

اسی طرح ہمارے دماغ تک پہنچنے والا منظر بھی سیکنڈز پرانا ہوتا ہے۔ اب اگر کوئی ایسی مشین ایجاد ہوجائے جس پہ ہم روشنی کی رفتار سے تیز سفر کرسکیں اور کسی دوسرے سیارے پر اس روشنی سے پہلے پہنچ جائیں تو زمین سے چلی ہوئی روشنی جس نے ہمارے ساتھ ہی سفر شروع کیا تھا ہمارے بعد وہاں پہنچے گی۔ اور یوں ہم زمین کے وہ پرانے مناظر دیکھنے کے قابل ہوں گے۔ جیسے حضورﷺ کا دور۔

ایک لطیف بات سنتے جائیے کہ یہ بحث ہمارے فلاسفہ اور متکلمین میں ہمیشہ رہی ہے کہ یہ سب زندگی جو ہم اس سیارے پر گزار رہے ہیں یہ حقیقی نہیں بلکہ ہمارے خیال کا عکس ہے۔ یعنی یہ میز، میز اس لیے ہے کہ ہم نے ایسا سوچ رکھا ہے وغیرہ۔۔۔ ‘عالم تمام حلقہءِ دامِ خیال ہے’۔۔۔۔ قرآن بھی کہتا ہے کہ یہ زندگی دھوکے کا سامان ہے۔ اور وہ اشارتاََ کہتا ہے کہ زندگی اصل میں ایک خواب ہے اور آنکھ تمہاری اصل زندگی میں کھلے گی۔۔۔۔ یہ صرف مسلمان نہیں بلکہ کئی غیر مسلم فلاسفہ اور سائنس دان بھی کہتے ہیں۔

جب یہ سب خاکے اور انرجی کا کھیل ہے اور انرجی کو فنا نہیں۔ تو یہ سب مناظر/ واقعات کائنات میں ہمہ وقت موجود ہیں۔ یہی خواب ہے جس کے لیے ٹائم مشین بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ جو ہمیں ماضی اور مستقبل میں لے جاسکے۔ دنیا کےسب سے بڑے طبیعاتی سائنس دان اسٹیفن ہاکنگ کا مقالہ بتاتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے اور اس کے لیے ‘ورم ہولز’ کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔ہاکنگ کے مطابق ہمیں اس مقصد کے لیے روشنی کی رفتار سے 2000 گنا تیز رفتار مشین کی ضرورت ہوگی۔ اور یوں ہم اس زمین کا آغآز دیکھنے کے قابل ہوجائیں گے اور مستقبل بھی۔ واللہ اعلم بالصواب!

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں
محوِ حیرت ہوں یہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی!

جاری ہے۔۔

سید ثمر احمد
سید ثمر احمد
سید ثمر احمد (کمیونی کولوجسٹ، موٹیوٹر، ٹرینر،مصنف، انرجی ہیلر) syyedsahib321@gmail.com

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *