پڑیے گر بیمار تو(4)۔۔فاخرہ نورین

اس نے جیسے ہی مجھے اٹھ کر بیٹھتے اور ہنستے بولتے دیکھا فوراً میری گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا ۔

انگلیاں پھیر میرے بالوں میں
کیوں  میرا درد سر نہیں جاتا

tripako tours pakistan

اس نے لاڈ سے میرے ہاتھ اپنے سر پر رکھے۔
ابے لاڈ کر رہا ہے کہ سر درد ہے؟ میں نے اس کے شعر کا سیاق وسباق کی روشنی میں جائزہ لینے کی کوشش کی ۔
مجھے سچ میں درد ہونے لگا ہے ۔
وہ مزے سے گود میں سر دھرے بالوں میں انگلیاں پھیرنے کے پانچ سیکنڈ بعد خراٹے لینے لگا تو میں اس کی بے ایمانی پر اسے گھورتی رہ گئی ۔

حد ہے یعنی تم سو جاؤ تو کچھ نہیں ہوتا اور اگر غلطی سے میں سو گئی تو تمہیں گھبراہٹ ہونے لگی۔ میں نے دانت کچکچائے لیکن اس کا یوں سونا تو پہلی رات سے ہمارے درمیان طے ہے ۔ یہ اس کی شدید ترین خوشیوں میں سے ایک ہے کہ وہ میری گود میں سر رکھے بالوں میں انگلیوں سے کنگھی کرواتا گھنٹوں سوتا اور نیند میں مسکراتا ہے ۔ بیچ بیچ میں ایک آدھ لمحے کو جاگ کر لویو سو مچ بھی کہتا ہے لیکن یہ سب اس کی نیند کا حصہ ہے جس سے کسی طرح کا خلل واقع نہیں ہوتا۔

کسی بچے کی طرح معصوم لگتے اس آدمی کی یہ عادت کبھی کبھی مجھے غصہ بھی دلا دیتی ہے کہ جیسے ہی میں اسے اپنی طبیعت کی خرابی کا بتاؤں وہ پہلے سے ایک بیماری میرے سامنے دھرنے کو تیار ہوتا ہے۔ میں اپنی بھول اس کی سیوا میں لگ جاتی ہوں ۔البتہ بڑبڑ جاری رکھتی ہوں ۔

تم تو اپنا طوطا پہلے بٹھا لو ہاتھ پر، جب بھی مجھے کچھ ہوتا ہے تم ہمیشہ اپنی فلم ساتھ چلا لیا کرو۔ بس اپنی خدمت کرواتے ہوئے تمہیں کچھ نہیں ہوتا۔

میں جان بوجھ کر بولتی جاتی ہوں لیکن مجھے معلوم ہے کہ جب مجھے کوئی تکلیف ہو تو وہ بہت منتشر ہو جاتا ہے ۔اسے سمجھ نہیں آتی کہ میرے درد کا علاج کیا ہو گا اسی اینگزائٹی میں وہ چھوٹے بچوں کی طرح کوئی پرانی نئی چوٹ، چوٹ کا نشان یا اس کی یاد کہیں سے برآمد کر لیتا ہے ۔میں اس میں مصروف ہو جاتی ہوں تو وہ بھی اس ٹینشن سے نکل آتا ہے ۔مجھے خود میں مگن دیکھ کر وہ ہر اس خوف سے بے نیاز ہو جاتا ہے جو میری تکلیف کا سن کر اسے لاحق ہو جاتے ہیں ۔

اس کے ایسے ہی رویے کی وجہ سے جب مجھے ایک چھوٹی سی سرجری سے گزرنا پڑا تو اینستھیزیا لینے تک میں اس کے لئے پیغام چھوڑتی رہی۔
میرے ہزبینڈ کو تسلی دیجیے گا ۔ریکوری روم میں لاتے ہی اسے بتا دیجیے گا وہ پریشان ہوتا نہ رہے ۔پلیز اسے بتا دینا فوراََ کہ اب میں اوٹی سے باہر ہوں ۔ میرے ہزبینڈ کو ۔۔باتا دی جی اے گا۔۔۔۔

میں بے ہوشی کی سرنگ میں داخل ہوتے ہوئے آخری لمحے تک اس کی تسلی کے پیغام چھوڑنے میں یوں مگن تھی کہ آدھے پیغام کا سر سرنگ کے ابتدائی حصے کی چھت سے ٹھن ٹھن لگا۔ دوسرے سرے پر آنکھیں کھولتے ہی زبیر کو بلا دیں کی صدا لگانے کے بعد میں اٹھ بیٹھی تا کہ مجھے نڈھال لیٹے دیکھ کر اسے گھبراہٹ نہ ہو ۔ ساتھ والے بیڈ پر وہ عورت ابھی بے ہوش پڑی تھی جس کے اوٹی سے نکلنے کے بعد مجھے انستھیزیا  دیا گیا تھا ۔

زبیر آیا تو میں چند منٹوں کے بعد اس کے ساتھ ہی سیڑھیاں اتر رہی تھی ۔ ڈاکٹر نے ایک پورا دن صرف سوپ پینے کا کہا تو ہسپتال سے نکل کر گاڑی میں بیٹھنے تک زبیر سوپ کی دستیابی کا پروگرام بنا چکا تھا ۔

میں ایسا کرتا ہوں کہ سبزی اور چکن لیتا جاتا ہوں کارن فلور اور ساس گھر پڑے ہیں آپ کو جب بھوک لگے تو سوپ بنا لینا، مزہ آئے گا بہت دن سے آپ نے سوپ نہیں پلایا۔

یار خدا خوفی کر، مجھ سے پہلے جس عورت کی سرجری ہوئی تھی وہ بے ہوش پڑی ہے ابھی ۔میں سیڑھیاں اتر کر تمہارے ساتھ آ گئی ہوں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ سرجری کو اتنا ہلکا لو تم ۔ میرے ساتھ والی عورتیں سب بستر پر پڑی ہوئی ہیں ابھی ۔

میں نے اسے اپنے اور دوسری عورتوں کے درمیان مماثلت دکھانے کی کوشش کی لیکن اس نے ہمارے درمیان کا فرق دیکھنے میں زیادہ پھرتی دکھائی۔
ہاں تو پھر اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ بیمار ہیں اور تم ٹھیک ہو گئی ہو۔

او نہیں بھائی میں تمہاری پریشانی دور کرنے کے چکر میں اوور ایکٹنگ کر رہی ہوں، تم تو کچھ زیادہ ہی ایزی لے گئے ہو۔ میں بیمار لگ نہیں رہی لیکن میں بیمار ہوں یار۔میں نے اپنی ناقص حکمت عملی کا تجزیہ کیا ۔

ہاں تو بیمار ہو تو پھر بیمار لگو بھی ناں۔مجھے کیا پتہ چلے گا جب ایسے بھاگتی پھرو گی تو میں نے سوچا سوپ بنانے میں کیا حرج ہے ۔
چلو جی۔یعنی مرے تھے جن کے لئے وہ تو وضو کیا غسل میں مصروف تھے۔

می کانگ سے سوپ آرڈر کیا اور پھر شام تک باقاعدہ بیمار لگنے کی کوشش کی ۔لیکن اس میں پھر وہی قباحت تھی کہ اسے گھبراہٹ ہونے لگتی تھی اور وہ گھبراہٹ میں اوٹ پٹانگ بولنے لگتا تھا ۔ اسےگھبرانے سے بچانے کیلئے مستعد ہوتی تو اس سے بعید نہیں تھا سبز چھولیا اٹھا لاتا کہ اسے چھیلو اب تم ٹھیک ہو ۔ میرے شاہ مدار کو مرے کو مارنے کا فن آتا ہے ناں۔

Advertisements
merkit.pk

جاری ہے

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply