انسانوں کی بستی۔۔اشفاق احمد

آئیے انسانوں کی اِس بستی میں اپنا پتہ ڈھونڈتے ہیں۔
کچھ لوگ مٹی کا اثر لیے تخلیق و تعمیر سے وابستہ ہیں، تحفظ اور سہولت اِنہی کے دَم سے ہے۔
کچھ ہیں جو پانی کی مانند سرائیت کرنے والے ہیں، یہ جوڑے رکھنے اور رَنگوں کو اُبھارنے کے فَن میں طاق ہیں۔
کچھ ہیں جو ہوا کے دوش پر خیال کی صورت گھوڑے دوڑاتے رہتے ہیں، یہ اُڑنے پر آجائیں تو کسی بھی پہر واپسی پر کچھ نیا ڈھونڈ لاتے ہیں، چاہے وہ کوئی  نئی  بات ہو، کچھ نئے لفظ ہوں یا پھر کچھ نئے اِمکان کی کوئی  صورت۔
کچھ لوگ آگ کی صورت حرارت کا سرچشمہ ہیں، یہ اپنے ارادوں سے مادوں کی صورت بدل کر رکھ دیتے ہیں۔
ہم میں سے ہر ایک انہیں میں سے اپنی بساط کے مطابق کوئی  ایک رَنگ لیے ہوتا ہے لیکن یہ صرف ایک رنگ ہے، شناخت کا رنگ۔
رنگ جب تک دیگر رنگوں سے باہم نہ ملے یا پھر دیگر رنگ اُس سے آکر نہ ملیں تو جانتے ہیں کیا ہوتا ہے؟
مٹی کا اثر لیے شخص پتھر ہو جاتا ہے اور کوئی  پتھر یا شیشہ یک تنہا ہو تو کِرچی کِرچی ہو جاتے ہیں۔
سَرائیت کرنے والا یک تنہا ہو تو سَرائیت پذیری کی خُو اُس کے اندر احساسات کو اُبال کر شِکوہ مندی پر مجبور کر دیتی ہے۔
ہوا کے دوش پر خیال کے گھوڑے دوڑانے والے کے کوئی  ساتھ نہ رہے تو وہ اِس قدر دور نکل جاتا ہے کہ پھر واپسی کا رستہ اور زمین کا پتہ تک بھول جاتا ہے۔
آگ کی لو رکھنے والا یک تنہا ہو تو خود کو اور اوروں کو جَلا کر راکھ کر دیتا ہے۔
یہ رنگ باہم ملے رہیں تو اِن کے حسین امتزاج سے ہر رنگ اپنی اصل صورت میں دکھائی  دینے لگے۔ ایسا حسین امتزاج تو بس “نور” ہی ہے۔
کوئی  آئیڈیل صورت تو شاید ہی کبھی بن پاۓ لیکن قصہ یوں ہے کہ روۓ ارض پر جس جس نے بھی اِس نور میں اپنا حصہ ڈالنے کی اَدا کسی بھی شکل میں پائ اور یہ حصہ ڈال گئے، جو اپنے آنگن میں، دہلیز پر اور یا پھر خود تَک آنے اور دوسروں تک جانے والے رستوں پر دِیا رکھ گئے ہیں وہ جگنو ٹھہرے۔
تسلیم ہے کہ اندھیری رات میں سبھی جگنو نہیں ہو سکتے۔
لیکن،
جو جان کر بھی “نور” کے پھیلنے میں اپنے حصے کا دِیا رکھنے سے پہلو تہی کر گئے وہ مَقروض ٹھہرے۔
ہم اور ہمارا وطن یونہی تو مَقروض نہیں ہوئے ۔
خداوند وہ دن نہ دِکھلاۓ کبھی کہ جگنو نہ رہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *