گوگی گارڈن۔ایک پریم کتھا(5)۔۔۔ڈاکٹر کاشف رضا

2 بجنے والے تھے۔   دو دن بعد وارڈ ٹیسٹ تھا۔ سر عثمان  سب کو باری باری بلا کر اپنی زیرِنگرانی اور زیرِسایہ Methods کی مشق کرا رہے تھے۔ طیبہ کلاس روم کے آخری کرسی پر بیٹھی تھی جس کے پیچھے دیوار تھی۔ اس کا دل کرتا تھا کہ وہ اس دیوار سے راستہ کھود کر نکل جائے۔ اتنی نکمی تھی حنان کی طیبہ !

“آپ آؤ۔۔۔۔ لاسٹ گرل”

سر ،طیبہ کی سمت دیکھ رہے تھے۔ پری چہرہ طیبہ نے اطمینان سے اِدھر اُدھر اور پیچھے دیکھا۔ اس کادل بیٹھنے لگا۔ اسے یہ جان کرشدید صدمہ پہنچا کہ لاسٹ گرل وہ خود ہی تھی۔ اس کا ماتھا ٹھنکا۔ اس نے فوراً اپنا دوپٹہ  درست کیا اور شرماتی ہوئی فرنٹ پہ  آگئی۔

اچھا آپ ۔۔۔۔۔ہاں !  Plantar Reflex کرکے دکھاؤ” سر عثمان نے اسے کمانڈ دی۔

طیبہ نے اوزار نکالنے کے لیے Overall کی جیب میں ہاتھ ڈالا۔ اس کے ہاتھ میں ایک Lipstick اور ڈیکو مکھن ٹافی آئی۔ کلاس ہنس پڑی۔ اس نے  دونوں چیزیں فوراً واپس جیب میں ڈالیں۔ اس نے اپنی دوست انعم کو اشارہ کیا۔ انعم نے فوراً بیگ میں سے Hammer (ہتھوڑا) نکال کر طیبہ کو پکڑایا۔

ایک مریض بنچ کے سامنے بیڈ پہ  لیٹا ہوا تھا۔ طیبہ نے نہایت اعتماد کےساتھ Hammer  کے پوائنڈ اینڈ کو مریض کی ایڑیوں پہ  رگڑا، سر عثمان پیاربھرے انداز میں مسکراتے ہوئے طیبہ کو دیکھ رہے تھے، طیبہ نے اتنا نرمی سے Hammer پھیرا کہ کہ پاؤں کے ساتھ ساتھ مریض کی دونوں ٹانگیں فضا میں بلند ہوئیں اور ایک دلدوز چیخ کمرہ جماعت میں سنائی دی۔

کلاس میں دبی دبی ہنسی کی آوازیں آنے لگیں۔ ننھی مُنی سی طیبہ کھسیانی ہو کے رہ گئی۔ سر عثمان نے فوراً باآوازِ بلند سب کوخاموش ہو جانے کا حکم صادر کیا۔

ڈاکٹرعثمان سال دوم کے PGR تھے۔ ان کی عمر 27سال 32 ماہ تھی۔ لڑکے انہیں “عثمان بھائی” کہتے تھے جو ان کی طبعِ نازک پہ  گراں گزرتا تھا۔ ان کا سینہ 38 انچ کا ہو جاتا تھا جب لڑکیاں انہیں “سر عثمان، سرعثمان ” کہہ کر پکارتی تھیں۔

عثمان بھائی نے طیبہ کو قسطوں پہ  لی گئی  Wagon R کیKey پکڑائی اور اس سے دوبارہ Plantar Reflex کرنےکو کہا۔ چابی دیکھتے ہی  طیبہ کے منہ میں فوراً پانی آگیا۔ اس کی آنکھوں میں ایک نورانی چمک پیدا ہوئی۔ اس نے چابی آہستہ آہستہ مریض کی ایڑیوں پہ  پھیری۔ مریض کے انگوٹھے میں کسی قسم کی کوئی جنبش پیدا نہ ہوئی۔

عثمان بھائی مسکرا رہے تھے۔ طیبہ نے انہیں چابی واپس کی۔ طیبہ کی معصومیت اور نورانیت دیکھ کر  سر عثمان کا دل کر رہا تھا کہ اس سےچابی واپس لیں ہی نہ، اور گاڑی طیبہ کے ہی نام کردیں۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ گاڑی ابھی تک ان کے اپنے نام بھی نہیں تھی۔

سوا دو بج چکے تھے مگر سر عثمان کلاس چھوڑنے کا نام نہیں لےرہے تھے۔ وہ مسلسل کچھ بولے جارہے تھے۔ کلاس میں اضطراب واضح دکھائی دے رہا تھا۔ عثمان بھائی کو علم تھا کہ باقی  صرف دو دن رہتے تھے۔ اور اس کے بعد کوئی اور Batch بھی نہیں آنا تھا کیونکہ تھرڈ ائیر کی Preps اسٹارٹ ہو رہی تھیں۔ اس لیے وہ مکمل طور پر مستفید ہونا چاہ رہے تھے۔ مزید براں ان کی ابھی تک شادی بھی نہیں ہوئی تھی۔

ان کا دل کر رہا تھا کہ طیبہ کو آج سارے سارے کے Methods کرا دیں تاکہ اسے تھرڈایئر تو کیا، فائنل ائیر میں بھی کسی سے کچھ سیکھنا نہ پڑے۔ مگر لڑکوں نے اودھم مچا رکھا  تھا۔چاروناچار سر عثمان کو کلاس چھوڑنی پڑی۔ انہوں نے جاتے جاتے طیبہ کو مسکراتی ہوئی معنی خیز آنکھوں سے دیکھا۔ اور دل کے ارماں دل میں لے کے کلاس روم سے رخصت ہوئے،طیبہ نے فوراً اپنی دوست انعم کو پکڑا اور سر عثمان کے پاس بھاگ کے جا پہنچیں۔ انہوں نے وارڈ کارڈز پہ  دستخط کرانے تھے۔ سائن کرتے ہوئے عثمان بھائی طیبہ کو میڈیسن کے پروفیسر معلوم ہو رہے تھے۔

“کوئی رہ تو نہیں گیا ؟” عثمان بھائی نے دو درجن سائن کرنے کے بعد طیبہ کی طرف آنکھ اٹھا کر پوچھا۔

“نو سر، تھینک یو” طیبہ نے  شرماتے  ہوئے شکریہ ادا کیا۔

“اٹینڈینس وغیرہ پوری ہے ؟ کوئی مسئلہ تو نہیں۔۔؟ Methods وغیرہ سمجھ آگئے ہیں۔۔۔؟ اگر نہیں آئے تو کوئی مسئلہ نہیں، میں دوبارہ کرادوں گا آپ کو۔۔۔سارے کے سارے۔۔۔۔ میرے کو سب آتا ہے۔ میں expert ہوں۔”

“تھینک یو سر “

“اور یہ میڈیسن کا Exams تو آپ کا آخری سال ہی ہونا ہے، اس سال باقی کسی سبجیکٹ۔۔۔۔ Patho, Pharma میں بھی کوئی ایشو ہو تو مجھے بتانا۔” عثمان بھائی نے ایک ہی سانس میں دل کی ساری باتیں کر ڈالیں۔

طیبہ خوشگوار حیرت سے سب سن رہی تھی۔ اس کے پاس شکریہ ادا کرنے کے لیے الفاظ کم پڑ گئے تھے۔ اسے prof کی پریشانی ہی ختم ہو گئی۔ اس کا چہرہ خوشی سے سرخ ہو رہا تھا۔ جبکہ اس کے ساتھ ٹھہری اس کی دوست انعم حسد سے سیاہ ہوچکی تھی۔ طیبہ نے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں شکریہ ادا کیا۔ عثمان بھائی ایک عظیم نجات دہندہ کی طرح مسکرا رہے تھے۔ وہ بولنے لگے۔۔

“اپنا نمبر مجھے دے دیں۔ میں Ward test کا پیٹرن اور ‘ساراکچھ’ سینڈ کردوں گا آپ کو۔۔۔ بیچ کا BR بہت نکما ہے۔ اس وجہ سے آپ کو بتانا پڑے گا ۔ آپ پھر باقیوں کو inform کر دیجیے گا”

طیبہ نےفوراً  سر کو نمبر دیا۔ سر نے ٹیکسٹ کیا۔ نمبر exchange ہوگئے۔

عثمان بھائی مسرور ہو کر Wagon R کی چابیاں ہوا میں اچھالتے چل دیے۔ انہیں لگ رہا تھا ان کی پورے دو سال کی محنت رنگ لا رہی تھی۔

طیبہ بہت خوش تھی۔  اسے GR والی فیلنگز آرہی تھیں۔ وہ گھر پہنچی۔ آج اسے اپنے آپ پے پیار آرہا تھا۔

رات کو اسے دو ٹیکسٹ آئے ہوئے تھے۔

حنان پوچھ رہا تھا: ” کیا کر رہی ہو جانو؟”

دوسرا ٹیکسٹ سر عثمان کی طرف سے تھا” Nice Dp dear”

طیبہ نے حنان کو ریپلائی کیا”بزی (Busy) ہوں۔ پڑھ رہی ہوں۔ ڈونٹ ڈسٹرب می ”
حنان کو یہ ٹیکسٹ کرکے فوراً ہی طیبہ نے عثمان بھائی کو جواب دینا شروع کیا۔
” تھینک یو سو مچ سر ” سے چلتے چلتے رات 12 بجے تک بات ” ہا ہا ہا ہا ہا Right sir” تک پہنچ چکی تھی۔

طیبہ ہواؤں میں اُڑ رہی تھی۔ اس کا وارڈ ٹیسٹ منعقد ہونے سے پہلے ہی پاس ہو چکا تھا !

جاری ہے

ڈاکٹر کاشف رضا
ڈاکٹر کاشف رضا
کاشف رضا نشتر میڈیکل یونیورسٹی سے ابھرتے ہوئے نوجوان لکھاری ہیں۔ وہ اپنی شستہ زبان،عام فہم موضوعات اور انوکھے جملوں سے تحریر میں بے پایاں اثر رکھتے ہیں۔ان کی تحریریں خصوصاً نئی نسل میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *