انسان کا کھتارسس/دو انتہائیں ۔۔۔اعظم معراج

(جولائی 2019 کے پہلے ہفتے لندن میں ہوئی دو ہولناک اموات سے ماخوذ ٹوٹے پھوٹے لفظوں سے جوڑی ہوئی ایک کہانی)
وہ نیروبی کے قریب چھوٹے سے گاؤں میں غریب کسان کے گھر پیدا ہوا, غربت سے کبھی سمجھوتہ نہ کر سکا۔گاؤں چھوڑا کر  شہر آیا – غربت سے لڑتے جوان ہوا تھوڑا بہت پڑھا۔دھکے کھاتے ائیرپورٹ پر  لوڈر بھرتی ہوگیا۔ائیرپورٹ پر امیر قوموں اور خاص کر خلیجی ریاست کے شہریوں کو حسرت سےدیکھتا اور دل ہی دل میں کڑھتا
” میں بادشاہ کے گھر کیوں پیدا نہیں ہوا؟
مجھ میں اور ان شہزادوں میں کیا فرق ہے؟

جن کے  آگے پیچھے ہمارے صدر ، و وزراء بھاگتے پھرتے ہیں۔ یورپین اور امریکی شہریوں کو دیکھتا تو سوچتا یہ اتنے آزاد کیسے ہیں۔؟
ہم کیوں چند گھرانوں اور انکے حواریوں کے غلام ہیں؟

tripako tours pakistan

انسان آزاد پیدا ہوکر غلام کیوں بن جاتے ہیں؟ اس طرح کے سوالات کے  ناگ اسے ڈستے تو وہ رب کے حضور رو رو کر  شکوہ کناں ہوتا ۔۔

پھر اس نے فیصلہ کیا مجھے آزاد دیسوں میں جانا ہے۔ ایجنٹوں کے پیچھے بھاگا،مشنریوں کی منتیں کیں، سیاسی پناہ کے لئے انسانی حقوق کی تنظیموں کے پیچھے بھاگ دوڑ کی لیکن کہیں بات نہ بنی۔ جمع پونجی کم ہونے کی وجہِ انسانی اسمگلروں سے بھی پیسوں پر بات نہ بن۔جیسے جیسے آزاد سماج میں جینےکی خواہش میں رکاوٹیں بڑھتی گئیں ،جنون بھی بڑھتا گیا۔ پھر جنون نے پاگل پن کا فیصلہ کروایا اور اس نے لندن جانے والی ایئرکینا کی فلائٹ کے لینڈنگ گیئر میں بیٹھ کر لندن جانے کا فیصلہ کیا۔اس نے پانی اور گرم کپڑوں کے بندوبست کے ساتھ تقریبا ً آٹھ گھنٹے اکڑوں بیٹھ  کر اپنے خوابوں کی جنت  میں پہنچنے کےلئے جان کی بازی لگانے کی تیاری کی۔ پھر 30 جون 2019 کو وہ موقع  دیکھ کر جہاز کے لینڈنگ گیئر میں جا گھسا۔ جوں جوں جہاز بلندیوں کی طرف پہنچا ٹھنڈ سے خون اس کی رگوں میں جمنے لگا۔اسے لمحہ لمحہ زندگی اپنے جسم میں مجمند ہوتی محسوس ہوئی۔وہ اپنے آپ کوزندہ رکھنے کی کوشش کرتا،کبھی  اپنے  آپ کو کوستا کہ اس بھیانک موت مرنے سے کہیں بہتر تھا،وہ وہاں نا انصافیوں کے ذمہ داران سے لڑ مرتا۔ابھی ان خیالات میں ہی اُلجھا تھا کہ  اس نے اپنے آپ کو نیم بے ہوشی میں گولی سی تیزی سے گہری اندھیری کھائی میں گرتے محسوس کیا۔ جب وہ موت سے پہلے والی بے ہوشی سے ایک جھٹکے سے جاگا،تو اس نے حسرت سے اپنی اَدھ کھلی آنکھوں سے اپنے آپ کو ایک دھوپ سینکتے انگریز کے صحن میں پایا۔موت سے لمحہ بھر  پہلے اس نے کرب سے اپنی آخری ہچکی کیساتھ    رب سے دعا کی  کہ اے خدا !اگر کبھی پھر مجھے زندگی دی تو کسی بادشاہ کے گھر پیدا کرنا۔

وہ بادشاہ کے گھر پیدا ہوا۔۔۔ دینا کی بہترین درس گاہوں میں پڑھا۔خواہشات کرنی نہ پڑتیں ، بلکہ تخلیق کرنی پڑتیں  ۔ جو چاہا اس سے بڑھ کر ملا ۔ ہوش سنبھالتے ہی  آگے پیچھے غلام دیکھے۔اسے مغربی طرز زندگی پسند تھا۔بادشاہی وراثت میں ملی  تھی۔ روح میں کوئی فنکار زندہ تھا۔ بادشاہ اور فنکار آپس میں گھتم گتھا رہتے۔ پھر دونوں میں سمجھوتہ ہوگیا۔وہ لندن میں رہنے لگا۔فیشن کی دنیا اپنائی۔بادشاہی رابطے تخلیقی ذہن۔ وہ لندن کی اشرفیہ کی راتوں کا بادشاہ بن گیا۔اسکی رات کی محفلوں کے نشاط و سرور کے قصے  الف لیلوی داستانوں جیسے تھے۔ مہنگے مشروبات مہنگی ترین سرور کی دوائیں اسکی محفلوں میں لٹائیں جاتیں ۔اسکے  ذہن میں چھپا فنکار اپنے سمجھوتے سے تجاوز کر کے سکون جوش وجذبات کے تضادات آمیز سرور کو اجاگر کرنے کے لئے ہر رات کوئی نیا تجربہ کرتا۔بادشاہ لڑتا اور احتیاط کی تلقین کرتا۔ پھر جون کی آخری تاریخوں میں اس نے رات کوئی نیا تجربہ کیا اور اسے محسوس ہوگیا۔۔کہ وہ نہیں بچے گا۔پھر جب وہ سرور کے ساتویں آسمان سے موت کی گہری وادیوں کی طرف محو سفر تھا تو اس نے حسرت سے سوچا کاش میں ریگستان میں آباد کسی غریب چرواہے کے گھر جنم لیتا اور اپنی روز کی روٹی کے لئے مجھے مشقت اور جدوجہد کرنی پڑتی۔ تو پھر قناعت بھری زندگی کا سکون مجھے میرے حالات دیتے۔
غریب شہر تو فاقے سے مرگیا عارف
امیرِ  شہر نے ہیرے سے خود کشی کرلی

تعارف:اعظم معراج پیشے کے اعتبار سے اسٹیٹ ایجنٹ ہیں ۔15 کتابوں کے مصنف ہیںِ نمایاں  کتابوں میں پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کا کاروبار، دھرتی جائے کیوں، شناخت نامہ، کئی خط ایک متن پاکستان کے مسیحی معمار ،شان سبز وسفید شامل ہیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *