• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • غالب کی نظم اور مرحوم شمس الرحمٰن فاروقی کا ای میل مکتوب(دوسرا،آخری حصّہ)۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

غالب کی نظم اور مرحوم شمس الرحمٰن فاروقی کا ای میل مکتوب(دوسرا،آخری حصّہ)۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

شمع بجھتی ہے تو اس میں سے دھواں اٹھتا ہے
شعلہ ٗعشق سیہ پوش ہوا میرے بعد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ستیہ پال آنند
شمع بجھتی ہے تو اس میں سے دھواں اٹھتا ہے
شعلہٗ عشق سیہ پوش ہوا میرے بعد
پہلے تو مصرعہ ٗ ثانی پہ خراج ِ تحسین
دیکھیے، میرے یہ الفاظ ارادت کے، حضور
آپ کے ’’ـبجھنے‘‘ ـ پہ یوں ٗ عشق کی ماتم پوشی
ہے انوکھی، نئی، دلچسپ، اچھوتی تلمیح
ایسی تلطیف ِ عبارت کہیں دیکھی نہ سنی
ہاں، مگر قبلہ ٗ حاجات ، اسی مصرعے میں
شمع ’’میں ‘‘سے ہی دھواں اٹھنے کا مذکور یہاں
جملہ سازی کی ہےکمزور سی تصویر، جناب

مرزا غالب
بے ہنر، اے مرے ناقد، تو ذرا غور سے سن
میں جو کہتا ہوں اسے دیکھ، سمجھ، پلّے باندھ
اسی مضمون کو میں یوں بھی تو کہہ سکتا تھا
’’شمع اس وقت دھواں دیتی ہے، جب بجھتی ہے‘‘
’’شمع بجھتی ہے تو اس وقت دھواں اٹھتا ہے‘‘
’’شمع جب بجھتی ہے، تب اس سے دھواں اٹھتا ہے‘‘
’’شمع گل ہوتی ہے، اس وقت دھواں اٹھتا ہے ‘‘
ٌ ’’شمع بجھنے لگے جس وقت، دھواں دیتی ہے‘‘

tripako tours pakistan

ستیہ پال آنند
گویا تسلیم ہے یہ آپ کو، استاد ِ عظیم
سوجھتی آپ کو بر وقت اگر یہ ترمیم
آپ کہہ سکتے تھے ان میں سے کوئی بھی مصرع
مت برا مانیے گا آپ مری جرآت کو
آپ کی عمر ہی کیا تھی بھلا اس وقت ،جناب
تیس، انتیس تھی یا اس کے کہیں آس پڑوس؟
گلشن ِ شعر میں اک غنچہ ء نو خاستہ تھے

مرزا غالب
ٹھیک تخمینہ لگایا ہے مرے ستیہ پال
تیس، انتیس سے زائد نہیں تھی عمر مری
ابھی تو کھیلنے کھانے کے ہی دن تھے میرے
اور تس پر وہ نیا زخم ابھی تازہ تھا
خود کشی اس کی کہ جس پر تھی مری جاں قرباں

ستیہ پال آنند
طاق ِ نسیاں پہ رکھیں مصرع ِ اولیٰ کو اگر
مصرع ِ ثانی کو دیکھیں تو ذرا غور سے ہم
کس قدر تعزیہ داری کی نمائش ہے یہاں
’’شعلہ ٗ عشق سیہ پوش ہوا میرے بعد‘‘
’’عشق ‘‘ خود غم زدہ ہے آہ، مرے مرنے پر
تعزیہ داری؟ عزا؟ عشق کی ؟ اور آہ وبکا؟
کیا یہی کہنے کو باقی تھا، حضور ِ انور؟

مرزا غالب
دیکھ، آنند، ذرا غور سے بوقلمونی
مصرع ِ اولیٰ تو ہے ایک دلیل ِ خاطر
اور پھر مصرع ِ ثانی ہے اسی کا دعویٰ
شعر دو لخت ہے، لیکن اسی ثنویت میں
منطبق بھی ہیں،کوئی فرق نہیں مصرعوں میں ِ

ستیہ پال آنند
شمع تو عشق کا مظہر تھی جو اب بجھ بھی گئی
اور ’’میَں‘‘ شعلہ تھا جو بجھ تو گیا ہے، لیکن
بجھتے بجھتے جونشاں چھوڑگیا، وہ ہے دھواں
ہے یہی ماتمی پوشاک، یہی ہے ماتم
۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
 یہ سطور اخذ کی گئیں۔ ’’تفہیم غالب‘‘ ۔ مصنف۔ شمس الرحمن فاروقی۔

شمس الرحمن فاروقی (مر حوم) سے موصول ہوا ایک ای میل مکتوب
(القاب اور دیگر لا تعلق مندرجات حذف کر دیے گئے۔ )

۔۔۔ یہ درست ہے کہ نثر میں دقیق سے دقیق با ت بھی آسانی سے کہی جا سکتی ہے لیکن نظم میں اسی بات کو بالتفصیل نہیں کہا جا سکتا۔۔۔۔۔اس مکالماتی نظم میں بھی یہ ہنر موجود ہے۔۔۔۔ یہ شعر غالب کے بہترین اشعارمیں سے ایک ہے۔ کچھ اعتراضات اس شعر پر طباطبائی (یہ شرح ۱۹۰۰ عیسوی میں شائع ہوئی)کی خود ساختہ غلط فہمیوں کی وجہ سے معرض ، وجود میں آئے۔ایک اعتراض یہ تھا کہ مصر ع اولیٰ میں لفظ ـ’ ـمَیں‘ـ بھرتی کا ہے ، اس کی ضرورت نہیں تھی۔دھواں شمع ـ’’سے‘‘ اٹھتا ہے ، نہ کہ شمع ’’میں سے‘‘۔۔ آپ نے ان اعتراضات کو غیر اہم سمجھ کر ان سے احتراز کیا ہے، یہ ظاہر ہے۔ ۔۔۔میں نے اس شعر پر لکھتے ہوئے لفظ ’’میَں‘‘ کے بغیرجو مصارع تجویز کیے تھے آپ نے ان میں سے کچھ منتخب کر لیے ہیں۔ آپ نے میرا حوالہ دیا ہے۔ اس کے لیے میں آپ کاشکر گذار ہوں۔

Advertisements
merkit.pk

۔۔۔اس شعر کو اس طرح سے بھی دیکھا جا سکتا ہے  کہ مصرع اولیٰ اگر دلیل ہے تو مصرع ثانی دعویٰ ہے، جب کہ دعویٰ کی جگہ دلیل سے پیشتر ہے ۔۔۔۔ اس طرح شعر دو حصوں  میں بٹ جاتا ہے۔ یہ سب اعتراضات لفظ ’’مَیں‘‘ کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے معرض ِ وجود میں آتے ہیں۔ ۔۔آپ نے نظم کے آخری بند میں شمع کے بجھ جانے کو شمع کے مر جانےکا استعارہ فرض کیا ہے، جو صحیح ہے۔ یہ مصرع خوب ہے۔ ـ’’ہے یہ ماتمی پوشاک، یہی ہے ماتم”ـ۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply