جادوئی ڈبے کی کہانی۔۔محمد شاہ زیب صدیقی

جاپانی تہذیب میں ایک لوک کہانی مشہور ہے کہ “یوریشما” نامی ایک مچھیرا ہوا کرتا تھا، جو ایک کچھوے کی پشت پر بیٹھ کر سمندری پانیوں کے نیچے موجود ایک جنت نما مقام پر پہنچا۔ اُس مقام کا نام “رِیگو” تھا، جب یوریشما سیر کرکے واپس خشکی پر پہنچا تو لوگوں نے اُس کے ہاتھ میں ایک جادوئی ڈبہ دیکھا۔ بالکل اسی لوک کہانی کی طرز پر کچھ دن پہلے واقعتاً ہمارا ایک کوسمک کھوجی “رِیگو” نامی تاریک دُنیا سے ایک ڈبے میں ہمارے لئے کچھ لے کر آیا ہے۔ آج ہم اُسی جادوئی ڈبے کوکھولیں گے اور اس میں جھانک کر دیکھنے کی کوشش کریں گے کہ اِس مسٹری بکس میں ایسا کیا تھا جس کا انتظار پوری دنیا کو کئی سالوں سے تھا۔ اس ڈبے کو میں جادوئی کیوں کہہ رہا ہوں؟اس کا انسانیت کو کیا فائدہ ہوگا؟ اس کے ذریعے ہمیں کیا سمجھنے کو ملے گا؟

دوستو! ذرا ساتھ منسلک تصویر میں اِن کالے کلوٹے پتھروں کو غور سے دیکھیے، بلکہ میں تو کہوں گا کہ جی بھر کے دیکھیے کیونکہ آپ کی سکرین پر دکھائی دینے والے یہ پتھر کوئی عام پتھر نہیں ہیں! بلکہ یہ وہ انمول رتن ہیں جو کروڑوں کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے کسی اور دُنیا سے یہاں تک پہنچے ہیں۔ان کو رِیگو نام کے ایک شہابیے سے ہمارا ایک ننھا سا کھوجی کچھ دن پہلے ہی اُٹھا کر لایا ہے بلکہ وہ کاسمک کھوجی ہمیں یہ پتھر زمین کے کناروں سے پکڑاتا ہوا اب ایک نئی منزل کی جانب گامزن ہے۔ اُس کی رفتار بے حد تیز ہے، اس تک پہنچنا مُحال ہے اِسی خاطر اسے ہایابُوسا نام دیا گیا۔

tripako tours pakistan

الوداع وٹس ایپ؟۔۔عاطف جاوید

جاپان کی خلائی ایجنسی جیکسا نے پچھلی دو دہائیوں میں ہایابُوسا نام کے دو فلیگ شپ مشن لانچ کیے، ہایا بُوسا ون وہ پہلا مشن تھا جو کسی شہابیے سے مٹی لے کر زمین پر پہنچا ،اسی پہلے مشن کی کامیابی نے جاپان کے حوصلے بڑھائے اور ہایابُوسا 2کو 3 دسمبر 2014ء میں لانچ کیا گیا،یہ نسل انسانی کا وہ پہلا مشن بنا جس نے کسی شہابیے کی سطح کو کھود کر اس کے نیچے سے 4 ارب سال قدیم سیمپل کولیکٹ کیے۔ 2014ء میں لانچ ہونے والے اس مشن کے تحت ،ہایابُوسا خلائی گاڑی نے چھ سال میں ریگو نامی شہابیے سے پتھر اکٹھے کیے اور انہیں 5 دسمبر 2020ء کو زمین پر ہمیں پکڑاتے ہوئے ایک نئی منزل کی جانب چلا گیا۔ ریگو ایک کلومیٹر بڑا شہابیہ ہے جو ہماری زمین اور مریخ کے مدار میں پایا جاتا ہے، یعنی یہ دونوں سیاروں کے مدار کو کراس کرتا ہوا سورج کا چکر کاٹتا رہتا ہے، یہی وجہ ہے کہ سائنسدانوں کو ڈر ہے کہ یہ کبھی نہ کبھی ہم سے ٹکرا سکتا ہے، جس وجہ سے اسے انتہائی خطرناک شہابیوں کی لسٹ میں شامل کیا گیا ہے۔شہابیوں پر نظر رکھنا اسی لیے ضروری ہے کہ ایک تو یہ ہمیں نظام شمسی کے ماضی کے متعلق کافی کچھ بتاتے ہیں ، دوسری وجہ ابھی آپ سن ہی چکے ہیں کہ یہ کسی بھی وقت زمین سے ٹکرا سکتے ہیں، جس وجہ سے ہمیں ان پر نظر رکھنی ہی پڑتی ہے، لیکن سیاروں اور چاندوں پر کمندیں ڈالنے کے بعد نسل انسانی کو شہابیوں پر بھی کمندیں ڈالنے کے ایک نئے جنون نے جکڑ لیا ہے۔

دسمبر 2014ء میں لانچ ہونے والا ہایابُوسا 2 تقریباً ساڑھے تین سال کے سفر کے بعد جُون 2018ء میں ریگو کے قریب پہنچا، جہاں اس نے 20 کلومیٹر دور خلاء میں معلق رہ کر مختلف کیمروں کی مدد سے رِیگو کو سکین کیا اور زمین پر موجود سائنسدانوں کو ایک نقشہ بھیجا، جس کی مدد سے کچھ جگہوں کو چُنا گیا جہاں ہایابُوسا میں موجود چار خلائی گاڑیوں کو اتارنا مقصود تھا۔

نسلِ انسانی کا اگلا پڑاؤ(تیسرا حصہ)۔۔محمد شاہزیب صدیقی
سب سے پہلے 21 ستمبر 2018ء کو ہیباؤ اور OWL نامی خلائی گاڑیوں کو 55 میٹر کی اونچائی سے پھینکا گیا۔یہ خلائی گاڑیاں انتہائی چھوٹی تھیں ، اگر ان کا موازنہ آپ کے ہاتھوں میں پکڑے فون سے کیا جائے تو غلط نہیں ہوگا، اِن گاڑیوں نے لینڈنگ کے بعد جو پہلی تصویر کھینچی وہ یہ تھی، رِیگو چھوٹے اور بڑے ٹیلوں سے بھرا ہوا تھا۔ ایک کلومیٹر پر محیط رِیگو کی کشش ثقل انتہائی معمولی ہے مزید یہ کہ اس کی سطح ہموار نہیں ہے،جس وجہ سے سائنسدانوں کو خدشہ تھا کہ اگر ان ننھی خلائی گاڑیوں میں پہیے لگائے گئے تو شاید یہ چل نہ سکیں یا پھر اُلٹ جائیں۔ اس مسئلے کا عجیب حل نکالا گیا، سائنسدانوں نے ان میں ایک ایسا سسٹم نصب کیا جس کی مدد سے ان خلائی گاڑیوں میں ٹارک یعنی فورس پیدا کی گئی اور یہ اُڑ کر ٹھپے کھاتی ہوئی ایک جگہ سے دوسری جگہ چلی گئیں (مضمون کے آخر میں موجود لنک پر کلک کرکے آپ یہ سارا پراسیس ڈاکومنٹری کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں)۔
خلائی rover ہیباؤ 36 دنوں تک ایکٹو رہا اور اس نے اس دوران 609 تصاویر ہمیں بھیجیں جبکہ OWL تین دن تک ایکٹو رہا اور اس دوران اس نے 39 تصاویر ہمیں ارسال کیں۔

پہلی دو خلائی گاڑیوں کے بعد تیسری خلائی گاڑی کو اتارنے کا فیصلہ کیا گیا،اس کا نام Mascot تھا جو جرمنی اور فرانس کی خلائی ایجنسیوں نے ملکر بنائی تھی،اس خلائی گاڑی میں بھی بقیہ خلائی گاڑیوں کی طرح ہر سمت میں سینسر اور مختلف اقسام کے کیمرے نصب تھے تاکہ ہر طرح کا ڈیٹا اکٹھا کیا جاسکے، 3اکتوبر 2018ء کو اسے شہابیے پر اتارا گیا، جس کے بعداِس نے تصاویر بھیجیں اور مختلف ڈیٹا اکھٹا کیا، جس کے بعد اس خلائی گاڑی نے ایک چھلانگ لگائی اور خود کو سیدھا کرکے اپنے بقیہ آلات کو استعمال کیا، اگلے سولہ گھنٹے تک اس نے مختلف آلات کی مدد سے شہابیے کی سطح کا کافی ڈیٹا زمین کو ارسال کیا۔یہ خلائی گاڑی توقعات کے مطابق سولہ گھنٹے تک چلیں اوربیٹری ختم ہوجانے کی وجہ سےیہ ناکارہ ہوگئی۔ اسکے بعد چوتھی خلائی گاڑی کو ڈراپ کرنے کی باری تھی، جس کا نام Minerva-2-II تھا، یہ ایک ٹاور نما hexagonal روور تھا، لیکن اس کے آلات میں کچھ تکنیکی خرابی آگئی جس کے باعث فیصلہ کیا گیا کہ اس کو ابھی نہیں اتارا جائے گا، تقریباً ایک سال بعد یعنی 2 اکتوبر 2019ء کو مشن کی واپسی سے کچھ دن پہلے اس کو شہابیے پر کچھ میٹرز کے فاصلے سے پھینکا گیا، اس نے شہابیے کا چکر لگانا شروع کیا اور شہابیے کی گریوٹی کی پیمائش کی۔ شہابیے کے مدار میں 6 دن گزارنے کے بعد بالآخر یہ 8 اکتوبر 2019ء کو اس کی سطح سے ٹکرا کر پاش پاش ہوگیا۔ آج بھی انسانی ہاتھوں کی بنائی گئیں یہ چاروں خلائی گاڑیاں ریگو کی سطح پر پڑی ہیں اور انسانی ترقی کی داستان چیخ چیخ کر کائناتی گوشوں کو سُنا رہی ہیں۔

اس مشن میں جہاں خلائی گاڑیوں کی مدد سے کافی معلومات حاصل کی گئیں وہیں اس کا ایک اہم مرحلہ شہابیے کی سطح سے مٹی collect کرنا تھا، جو کہ یقیناً اس طرح کی خلائی گاڑیوں کے ذریعے نہیں ہوسکتا تھا۔ جس وجہ سے سائنسدانوں نے سوچا کہ کیوں نہ ہایابُوسا 2 خلائی جہاز جو کہ بدستور شہابیے سے کچھ سو میٹر کے فاصلے پر اس کے مدار میں چکر لگا رہا تھا، اس سے ایک گولی فائر کی جائے ،اس کے نتیجے میں شہابیے کی سطح سے ٹکرانے کے بعد جو دُھول مٹی اڑے گی،اس مٹی کو خلائی جہاز کی مدد سے قید کرلیا جائے۔ یہ یقیناً جیمز بانڈ طرز کا مشن تھا لیکن کیاکریں اس کے سِوا کوئی چارہ بھی تو نہیں تھا۔ روور سے ملنے والی تصاویر سے صاف معلوم ہورہا تھا کہ یہاں چھوٹے بڑے ٹیلے موجود ہیں،سائنسدانوں کا اندازہ ہےکہ ریگو پر 4400 چھوٹے بڑے ٹیلے موجود ہیں، جس وجہ سےایک کلومیٹر چھوٹے شہابیے پر ہموار سطح کا انتخاب انتہائی مشکل تھا۔ کئی ماہ کی محنت کے بعد ایک ہموار سطح کا انتخاب کیا گیا اور 21 فروری2019ء کو اس کی سیمپلنگ کا پلان ترتیب دیا گیا۔اس ضمن میں ہایابُوسا 2 کے نیچے گولیاں فِٹ کی گئی تھیں، انتہائی احتیاط سے ہایابُوسا 2 کو ریگو کی سطح کے قریب لے جایا گیا، جس کے بعد ٹین ٹیلم کی بنی ہوئی 5 گرام وزنی ایک گولی اس شہابیے پر 300 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے داغی گئی، گولی کی سطح سے ٹکرانے کی دیر تھی کہ ہر طرف گرد و غبار ہونا شروع ہوگیا، اس دوران جو بھی material ہایابُوسا 2 کے ہاتھ لگا اس نے جمع کیا اور واپس شہابیے سے 500 میٹر اونچائی پر جاکر خلاء میں معلق ہوگیا۔

کوکیز کیا ہیں؟۔۔دانش بیگ

یہ طریقہ کار کامیاب دیکھ کر سائنسدانوں کی ہمت بندھی اور انہوں نے دوسرا sampling mission ترتیب دینے کا سوچا، اب کی بار یہ مشن زیادہ خطرناک تھا ، کیونکہ پہلی سیمپلنگ کے دوران 5 گرام وزنی گولی داغی گئی تھی، جبکہ اب کی بار ڈھائی کلو وزنی کاپر سے بنا ہوا گولہ داغنے کا پلان تھا، سائنسدانوں کا خیال تھا کہ یہ impact اس قدر زوردار ہوگا کہ شاید واپس اڑنے والے پتھر 500 میٹر کی بلندی پر موجود ہایابُوسا 2 کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ جس وجہ سے اس مشن میں خصوصی سپیس گَن ہایابُوسا 2 میں رکھ کر بھیجی گئی، 5 اپریل 2019ء کو ہایابُوسا 2 نے ایک کیمرہ اور سپیس گن کو خلاء میں معلق چھوڑا اور خود شہابیے کے نیچے محفوظ مقام پر چلا گیا تاکہ اُسے اس دھماکے کے نتیجے میں کسی قسم کا نقصان نہ ہوا۔ چالیس منٹ بعد جب ہایابُوسا 2 ایک محفوظ مقام پرپہنچ گیا تو سائنسدانوں نے سپیس گن میں ساڑھے چار کلو وزنی RDX کو فائر کیا، جس کے نتیجے میں ڈھائی کلو کاپر کا گولہ انتہائی برق رفتاری سے رِیگو کی سطح سے ٹکرایا اور دس میٹر گہرا گڑھا چھوڑ دیا۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ رِیگو کی سطح کے نیچے 4 ارب سال قدیم مٹی باہر آگئی، حالانکہ سائنسدانوں کے ایک بڑے گروپ کی جانب سے اس طریقہ کارکی مخالفت بھی کی گئی تھی کیونکہ ظاہری بات ہے کہ RDX اور کاپر کی بدولت شہابیے سے ملنے والے سیمپلز ملاوٹ شدہ ہوچکے تھے، لیکن کیا کریں اِس شہابیے کا سائز ہی اتنا چھوٹا ہے کہ یہاں کشش ثقل انتہائی کم ہونے کی وجہ سے ڈرلنگ ممکن ہی نہیں تھی، جس وجہ سے مجبوراً انسانیت کو اپنے نشان اس شہابیے کی سطح پر زخم کی صورت میں چھوڑنے پڑے۔ بہرحال 11 جولائی 2019ء کویعنی کچھ ماہ بعد سائنسدانوں نے خلاء میں معلق رہ جانے والے کیمرے کی مدد سے معلوم کیا کہ کس مقام پر یہ دھماکہ کیا گیا تھا کیونکہ رِیگو کی سطح کالے رنگ کی ہے اور ہموار بھی نہیں ،جس وجہ سے دھماکے کے نتیجے میں بن جانے والے گڑھے کو بقیہ گڑھوں سے الگ کرپانا ممکن نہ تھا، اُس گڑھے کی ایک یہی نشانی تھی کہ اس سے 500 میٹر اونچائی پر خلاء میں ایک کیمرہ معلق ہے، اُسی کیمرے کی مدد سے گڑھے تک ہایابُوسا 2 کو پہنچایا گیا ۔ ہایابُوسا2 نے کولیٹر کی مدد سے سیمپل اکٹھے کئے اور اپنے اندر موجود کنٹینر میں لاک کردیا۔ جیسا کہ پہلے بتایا گیا کہ آخری رہ جانے والی خلائی گاڑی چونکہ خراب ہوچکی تھی، 3 اکتوبر 2019ء کو اس خلائی گاڑی کو رِیگو کی سطح پر پھینک کر نومبر 2019ء میں ہایابُوسا نے واپسی کا سفر شروع کیا۔

ایک سال کے طویل سفر کے بعد 5 دسمبر 2020ء کو زمین کے مدار میں پہنچنے پر ہایابُوسا2 نے اُس کنٹینر کو زمین کے مدار میں پھینکا جو برق رفتاری سے زمین کی جانب آنا شروع ہوا، زمین کی فضاء کی رگڑ کے باعث اِس کنٹینر کو آگ بھی لگی مگر ہیٹ شیلڈ لگی ہونے کی وجہ سے کنٹینر محفوظ رہا اور آسٹریلیا میں وُیمیرا ٹیسٹ فیلڈ کے مقام پر آگرا، جس کو فوراً سائنسدانوں کی ایک ٹیم کی جانب سے ڈھونڈھ لیا گیا اور جاپان کے حوالے کردیا گیا۔جس دوران یہ سب ہورہا تھاتو سائنسدانوں کو معلوم ہوا کہ زمین کے مدار میں موجود ہایابُوسا 2 میں آدھا فیول ابھی باقی ہے لہٰذا ہایابوُسا2 کے انجن کو آن کیا گیا اور اِسے خلاء سے ہی ایک نئے مشن کی جانب بھیج گیا ، جہاں یہ ساڑھے 6 سال بعد پہنچے گا، جولائی 2026ء میں یہ ایک شہابیے کےپاس پہنچے گا جس کا نام 2001 CC21 ہے،جبکہ جولائی 2031ء میں یہ ایک اور شہابیے کے پاس پہنچے گا جس کا نام 1998 KY26 ہیں۔ اس کے بعد ہایابُوسا 2 کے متعلق فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا کہ اسے زمین پر لانا ہے یا پھر خلاء کے تاریک اندھیروں میں دھکیل دینا ہے۔

دوسری دنیا کا مسافر۔۔۔وہارا امباکر

ہایابُوسا 2 کی جانب سے لائے گئے مٹی اور پتھروں کے اِن سیمپلز کا کچھ حصہ جاپان خود رکھے گا، جبکہ معمولی سا حصہ ایک سال بعد ناسا اور یورپی اسپیس ایجنسی کو بھی دیاجائےگا، جبکہ آدھا حصہ سنبھال کر مستقبل کی ریسرچ کے لئے رکھا جائے گا۔ ذرا ان پتھروں کو ایک بار پھر دیکھیے کیونکہ یہ انسانیت کی علمی معراج ہے کہ ہم چار ارب سال قدیم پتھروں کو دیکھ رہے ہیں، ان کو آج تک کسی انسان نے نہ دیکھا تھا اور نہ ہی چھُوا تھا، بلکہ شاید ان کے متعلق سوچا بھی نہیں ہوگا، مگر اب یہ ہمارے پاس ہیں، یہ پتھر ہمیں بہت سے سوالوں کے جواب دیں گے، یہ ہمیں بتائیں گے نظام شمسی کیسے بنا؟ شاید یہ اس بات کا بھی جواب دے دیں کہ زمین پر زندگی اور پانی کیا انہی پتھروں میں قید ہوکر پہنچی یا نہیں؟یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ زمین پر زندگی باہر سے آنے کے متعلق سائنس میں ایک مفروضہ موجود ہے جسے پینس پرمیا تھیوری کہا جاتا ہے، اس متعلق سائنسی گفتگو کی ایک طویل قسط ہم نے زیب نامہ یوٹیوب چینل پر پبلش کی تھی، جس کا لنک مضمون کے آخر میں موجود ہے۔ بہرحال ہایابُوسا 2 ہمیں کن کائناتی پہیلیوں کا جواب دیتا ہے، اس کا فیصلہ ہم وقت پر چھوڑتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *