• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • تصورِارضی پیوستگی:اقبال کے نظریۂ قومیت کا بنیادی محرّک(دوسرا،آخری حصّہ )۔۔۔ادریس آزاد

تصورِارضی پیوستگی:اقبال کے نظریۂ قومیت کا بنیادی محرّک(دوسرا،آخری حصّہ )۔۔۔ادریس آزاد

اقبال ارتقائے حیات کو ’’اینتھروپولوجی، آرکیالوجی، لسانیات یا نفسیات کی طرح فقط شعورِ انسانی کے ارتقا سے شروع نہیں کرتے بلکہ اِن سب کے برعکس بیالوجی کی طرز پر بہت پیچھے سے دیکھتے ہیں-اقبال کا طریقہ کار یہ ہے کہ وہ اُن انواع کی زندگیوں کو بطورِ خاص اپنے فلسفہ ٔ ارتقا کا موضوع بناتے ہیں جو سوسائٹیز میں رہنے کے لیے پیدا کی گئی ہیں-چیونٹیوں کے جھنڈ، درندوں کے غول،چوپائیوں کے ریوڑ اور پرندوں کی ڈاریں وہ معاشرے ہیں جن کے افراد کی عادات کا مطالعہ اقبال کی شاعری اور نثر میں یکساں موجودہیں-اقبال ایک ماہرِ ارتقا کی طرح معاشرتی زندگی کو بتدریج بہتر ہوتا ہوا دیکھتے ہیں اور چیونٹیوں کے مقابلے میں پرندوں کی سوسائٹیز کو مثالی تصور کرتے ہیں-یہ’’ صاحبِ غفران و لزومات‘‘ ابو العلامعرّی کے بھونے ہوئے تیتر کی داستان ہو یا چیونٹی اور عقاب کا مکالمہ، یا اقبال کے مضمون قومی زندگی میں اقوام کی اجتماعی عادات کی گفتگو ہو یا ’’The Reconstruction of Religious Thought in Islam‘‘میں قبیلہ پرستی کو ارضی پیوستگی قرار دینے کی بحث،یہ والدگرامی کو لکھے گئے خط میں ’’رشتہ داری کے تصور کا بیان‘‘ ہو یا شاہین کے استعارہ کے نہایت طے شدہ اور خصوصی مقاصد کے حامل معانی کا قضیہ، اقبال تسلسل کے ساتھ نہ صرف اپنے نتائج پیش کرتے نظر آتے ہیں بلکہ وہ اپنے ’’سوشیو بایولوجیکل ارتقاء‘‘ کے ایک پُرجوش مبلغ بھی ہیں کیونکہ یہی وہ زمین ہے جسے ہموار کرنے کے بعد اقبال اپنا مخصوص ’’نظریہ وطنیت‘‘ پیش کرنے کا خود کو اہل پاتے ہیں-اگر اقبال کے نظریہ وطنیت کو اقبال کے ’’سوشیو بایو لوجیکل ارتقاء‘‘ کی بنیاد میسر نہ ہوتی تو اقبال کے لیے ’’روحانیت کی بنیاد پرایک نیا معاشرہ استوارکرنے‘‘ کا استدلال ناممکن تھا-کیونکہ جیسا کہ اقبال نے خود جابجا تسلیم کیا کہ ماضی میں مسیحیت کا تاریک عہد اس بات کا ثبوت رہاہے کہ وطن، رنگ، نسل اور قبیلے کی طرح مسلک کی بنیاد پر تفریق بھی ہمیشہ انسانیت کے لیے ضرر رساں رہی ہے-’’اقبال دی ری کنسٹرکشن‘‘ میں قیصر جولین کی مذہبی ریاست کی ناکامی کی وجوہات میں مسیحیت کی اُس فطری کمزوری کا تفصیلی ذکر بھی کرتے ہیں جس کی بنا پر مذہبی قومیت کا نظریہ انسانیت کے لیے ضرر رساں ہو سکتا تھا-
یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ’’بائیو سوشیالوجی‘‘ الگ مضمون ہے اور ’’سوشیوبیالوجی‘‘ الگ مضمون-’’بائیوسوشیالوجی‘‘ یعنی حیاتیاتی سماجیات پر حال ہی میں امریکی یونیورسٹیوں میں کئی ریسرچ پیپرشائع ہوئے لیکن اُن میں سے کسی محقق نے انواع کی سوسائٹیز کا مطالعہ کرتے ہوئے اِس خیال کا ذکر نہیں کیا کہ ارتقائے حیات کی ایک نئی کلاسی فکیشن ایسی بھی ہوسکتی ہے جس میں معاشروں میں رہنے والے جانداروں کی زندگیوں کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ دیکھا جائے کہ جانداروں میں بتدریج ایک ’’اینٹی گریوٹیشنل فورس‘‘ کی جستجو پائی جاتی ہے-اقبال اِسی جستجو کو’’ارضی پیوستگی سے نجات کی کوشش‘‘ کا نام دیتے ہیں-بالفاظِ دگر اقبال کو اپنی مابعد الطبیعات میں زمینی آلائشوں سے چھٹکارا پانے کا منظر فقط متصوفانہ موضوعیت میں ہی نظر نہیں آتا بلکہ وہ اس تصور کو پوری کائنات میں معروضی طور پر جلوہ گر دیکھتے ہیں-وہ دیکھتے ہیں کہ زمین کا ہرجاندار بتدریج بلندی کی طرف مائل ِ ارتقاءہے-زمین کا ہرجاندار گریوٹی یعنی کششِ ثقل کے خلاف مسلسل مزاحمت کی حالت میں رہتاہےاور ارتقائے حیات کے ہر درجہ میں یہ با ت مشترک نظر آتی ہے-اقبال جانداروں کی ایسی ہی عادات سے انسانوں کے لیے اخلاقیات تلاش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں-
البتہ ’’سوشیوبیالوجی‘‘ یعنی سماجی حیاتیات ایک اور شعبہ علم ہے جس کے بانی ’’ای او ولسن (E.O.Wilson)‘‘نے اپنی تحریروں میں تقریباً وہی نتائج اخذ کیے ہیں جو اقبال نے کیے-تاہم ای او ولسن کے ہاں جہاں یہ تسلیم کیا گیاہے کہ ’’ہمارے سوشل رویّے ارتقائے حیات‘‘ کے دوران اُس وقت مرتب ہوئے ہیں جب ہم دیگر سوشل انواع سے پیدا ہورہے تھے یا ان کے درمیان رہ رہے تھے‘‘ وہاں یہ نہیں بتایا گیا کہ اِن سوشل رویّوں کے ارتقاء میں ایک خاص صعودی تدریج پائی جاتی ہے جس کا خاصہ’’اینٹی گریوٹیشنل توانائی‘‘ کی مستقبل جستجو اور طلب ہے-
اقبال کے خیال میں حیات الحیوان کے مطالعہ سے پتہ چلتاہے کہ معاشرتی زندگی بتدریج ایک ایسی قوت کی طلب گار رہتی ہے جس میں قدرتی طور پر صعودی تدریج پائی جاتی ہے-
ہم اپنے پرائمری کے نصاب میں ایک نظم پڑھا کرتے ہیں جس میں ایک بلبل ہے جو گیت گاتا رہتاہے جبکہ ایک چیونٹی ہے جو اُسے گیت گانے سے منع کرتی اور آنے والے کل کے لیے مال جمع کرنے کی تبلیغ کرتی ہے-بلبل چیونٹی کی بات نہیں مانتا اور مسلسل گیت گاتا رہتاہے جبکہ چیونٹی مال جمع کرتی رہتی ہے- پھر جب جاڑہ آتاہے تو بلبل کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہوتا اور وہ مجبور ہوکر چیونٹی سے بھیک مانگنے جاتاہے- تب چیونٹی اُسے یاد دلاتی ہے کہ کس طرح وہ بہار میں گانے گاتا رہا اور اپنا وقت ضائع کرتا رہا- اُسے چاہیے تھا کہ بہار میں اپنے آنے والے کل کے لیے کچھ مال جمع کر رکھتا-
اس نظم کے ذریعے ہمیں یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ ہمیں بھی چیونٹی کی طرح زیرک ہونا چاہیے نہ کہ بلبل کی طرح احمق- لیکن اگر یہی کہانی اقبال کو سنائی جائے اور اقبال سے پوچھا جائے کہ آپ کس کے ساتھ ہیں تو اقبال کا جواب ہوگا، بلبل کے ساتھ- یہ قیافہ میں نے اس لیے قائم کیا کیونکہ اقبال کے ہاں چیونٹیوں کی طرح ارضی پیوستگی کا شکار ہوجانا گویا عذابِ خسف کا شکار ہو جانا ہے اور چیونٹیوں کی سماجی عادات سے انسانیت کے لیے سبق حاصل کرنا کچھ خاص احسن عمل نہیں ہے-اقبال کی ایک نظم ’’چیونٹی اور عقاب‘‘ کے مابین کچھ اسی قسم کا مکالمہ بھی ملتاہے- جب چیونٹی عقاب سے سوال کرتی ہے کہ:
مَیں پائمال و خوار و پریشان و دردمند
تیرا مقام کیوں ہے ستاروں سے بھی بلند
تو عقاب چیونٹی کو جواب دیتاہے:
تُو رزق اپنا ڈھونڈتی ہے خاکِ راہ میں
مَیں نوسپہر کو نہیں لاتا نگاہ میں
حوالہ: بالِ جبریل
حقیقت یہ ہے کہ اِس جہان میں اینٹی گریوٹیشنل توانائی کا حصول ہی مقصدِ حیات ہے-گویا اقبال کے مصرع ’’مؤمن نہیں جو صاحبِ لولاک نہیں ہے‘‘ (بالِ جبریل) کا اطلاق صرف انسانوں پر ہی نہیں بلکہ تمام حیات پر یکساں ہوتاہے-یہ بالکل ویسا ہے جیسے اقبال کے ایک اور مصرع، ’’صلۂ شہید کیا ہے تب و تاب ِ جاودانہ‘‘(بالِ جبریل) کا اطلاق انسانوں کے علاوہ باقی انواعِ حیات پر بھی کیا جا سکتاہے-
چنانچہ یہاں میرا مقدمہ یہ ہے کہ اقبال کے نزدیک:
’’ارتقائے حیات کے مطالعہ سے معلوم ہوتاہے کہ جو مخلوق زمین کے جس قدر نزدیک ہے وہ زندگی کے اتنے ہی ادنیٰ درجے پر فائز ہے اور جو زمین سے جس قدر بلند ہے وہ اتنےہی اعلیٰ و ارفع درجے کی حیات کی حامل ہے‘‘-
ارتقائے حیات کے اس عمل سے انسانی معاشرے کے لیے جو سبق اخذ کیا جاسکتاہے وہ بھی ایسا ہی ہوگا یعنی جو انسانی معاشرہ زمین کے ساتھ جس قدر شدت کے ساتھ جُڑاہوا ہے وہ اتنا ہی کمتر معاشرہ ہو گا-کسی معاشرے کا زمین کے ساتھ شدت سے جڑا ہوا ہونا در اصل اُس معاشرے کی مادہ پرستی کی شرح کا تعین ہے-ایسے معاشرے جو بہت زیادہ مادہ پرست ہوگئے وہ گویا زمین میں دھنس گئے اور خسف کا شکارہوگئے-چیونٹیوں کی طرح مال جمع کرنے والے معاشرے زمین میں بُری طرح سے دھنسے ہوئے معاشرے ہیں-ایسے معاشرے سٹاکسٹ معاشرے ہیں- ایسے معاشروں میں اجتماعی روحِ حیوانی زمین پر رینگنے والے کیڑے مکوڑوں جیسی ہے-اس کے برعکس جو معاشرے زمینی مسائل سے جس قدربے نیاز ہوکر جی رہے ہیں وہ اتنے ہی برتر معاشرے ہیں-قران کی ایک اصطلاح ’’خسف‘‘ یعنی زمین میں دھنس جانا سے عموماً مراد لی جاتی ہے،’’ کسی زلزلے کے نتیجے میں زمین کا پھٹنا اور کسی قوم کا اس میں دھنس جانا‘‘-لیکن اگر ہم اقبال کے طرزِ فکر کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتاہے کہ اقبال کے نزدیک زمین میں دھنس جانا دراصل ارتھ روٹڈنیس کا شکار ہو جانا ہے-مال متاع، کھیت کھلیان، گھر بار، رشتہ داری اور دنیاکے وہ تمام دھندے جو کسی انسان کو خاک و خشت کے ساتھ پیوست رکھتے ہیں فی الاصل دلِ زندہ کو راکھ کردینے والے آلات ہیں-ہم جانتے ہیں کہ ہمارے آلاتِ زراعت ہمیں اپنے پیٹ کے لیے زمین کے ساتھ پیوست رکھتے ہیں جبکہ ہمارے آلاتِ فلکیات ہمیں متجسس اور مسلسل مائلِ پرواز رکھتے ہیں-سید نذیر نیازی نے بھی اپنے مضمون میں اقبال کے تصورِ ارضی پیوستگی کی وضاحت کرتے ہوئے یہی لکھا:
’’دراصل یہی وہ زمین ِ پیوستگی ہے جس کو جناب ِ فاروقِ اعظم (رضی اللہ عنہ) روکنا چاہتے تھے-بخاری کتاب المزارعت میں جو یہ روایت آئی ہے کہ جس گھر میں آلاتِ زراعت داخل ہوجاتے ہیں وہ ذلیل ہوجاتاہے اس سے شاید اسی امر کی تنبیہ مقصود ہے کہ ایسا نہ ہو کہ فلاحی کی زندگی سے کسی سیاسی انقلاب یا اعلیٰ عزائم کی پرورش نہ ہوسکے‘‘-
چنانچہ جو معاشرہ فقط مادہ پرست ہوگا وہ فی الاصل ارضی پیوستگی کا شکارہوگا-اقبال ارضی پیوستگی کو کہیں ’’قیدِ مقامی‘‘ کَہ کر بھی پکارتے اور مؤمن کو کبھی صاحبِ لولاک تو کبھی شاہین جیسا درویش قرار دیتے ہیں-ظفرعلی صدیقی کے نام ایک مکتوب میں اقبال شاہین کے بارے میں کہتےہیں:
’’شاہین خوددار اور غیرتمند ہے، وہ کسی کے ہاتھ کا مارا ہوا شکار نہیں کھاتا-وہ بے تعلق ہے کہ آشیانہ نہیں بناتا-وہ بلند پرواز ہے – وہ خلوت پسند ہے- وہ تیز نگاہ ہے‘‘ –
اقبال کا شعر بھی ہےکہ:
پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں مَیں
کہ شاہیں بناتا نہیں آشیانہ!
حوالہ:بالِ جبریل:
شاہین کے برعکس اقبال تیتروں، بٹیروں،زاغ و زغن اور مرغِ سرا کی عادات کا مطالعہ کرتے ہوئے خاصی محنت سے سمجھاتے ہیں کہ چونکہ یہ پرندے زمینی پیوستگی کا شکار ہیں اس لیے وہ مرغِ ہوا یا شاہین کے مقابلے میں کم تر معاشرتی زندگی کے حامل ہیں-اقبال زمین کے نزدیک بسنے والی حیات کو جرمِ ضعیفی کا مرتکب قرار دیتے ہیں-اقبال کی نظم ابوالعلا معرّی کچھ یوں ہے کہ:
کہتے ہیں کبھی گوشت نہ کھاتا تھا معرّی
پھل پھول پہ کرتا تھا ہمیشہ گزر اوقات
اک دوست نے بھونا ہوا تیتر اسے بھیجا
شاید کہ وہ شاطر اِسی ترکیب سے ہو مات
یہ خوان تر و تازہ معری نے جو دیکھا
کہنے لگا وہ صاحب غفران و لزومات
اے مرغکِ بیچارہ! ذرا یہ تو بتا تُو
تیرا وہ گنہ کیا تھا یہ ہے جس کی مکافات؟
افسوس صد افسوس کہ شاہیں نہ بنا تُو
دیکھے نہ تری آنکھ نے فطرت کے اشارات
تقدیر کے قاضی کا یہ فتوی ہے ازل سے
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات!
حوالہ: ایضاً
۔گویا اقبال کی فقط ذاتی فکر ہی نہیں بلکہ اقبال کا اپنامطالعہ بھی اُنہیں ایسے نتائج اخذ کرنے پر مجبور کررہا تھا-جہاں صاحبِ غفران و لزومات ابوالعلا معرّی کی یہ نظم اِ س پر شاہد ہے وہاں قرآن کی ایک خاص الخاص عادت کہ حیات الحیوان سے انسانوں کے لیے مثالیں پیش کی جائیں اقبال کی نظر سے یقیناً پوشیدہ نہ رہی ہوگی-اسی طرح اقبال ابن مسکویہ کے ارتقاء سے جا بجا استفادہ کرتے ہیں-علاوہ بریں اپنے خطبات میں تو اقبال نے ارتقاء کے اسی پہلُو کو اُجاگر کرنے کے لیے مولانا روم کے باقاعدہ کئی اشعار درج کیے ہیں-
اقبال سماجی حیاتیات سے انسانی اخلاقیات اخذ کرتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اقبال کے ایسے افکار کی تدوین میں قرآن کی اِسی عادت کو خاص دخل ہے-قرآن بھی سماجی حیات سے انسانی اخلاقیات اخذ کرتا ہے-چوپایوں کی زندگی سے مثالیں، درندوں کی زندگی سے مثالیں، حشرات الارض کی فطرت کا مطالعہ، پرندوں کے طرزِ حیات سے استفادہ،غرض قرآن بھی انسان میں موجود روحِ حیوانی کی طرف جابجا واضح اشارے کرتا ہے-
’’لَہُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَہُوْنَ بِہَا وَلَہُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِہَا وَلَہُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِہَا اُولٰٓئِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ہُمْ اَضَل‘‘
حوالہ:الاعراف:179
’’وہ دل (و دماغ) رکھتے ہیں (مگر) وہ ان سے (حق کو) سمجھ نہیں سکتے اور وہ آنکھیں رکھتے ہیں (مگر) وہ ان سے (حق کو) دیکھ نہیں سکتے اور وہ کان (بھی) رکھتے ہیں (مگر) وہ ان سے (حق کو) سن نہیں سکتے، وہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں‘بلکہ ان سے بھی گئے گزرے‘‘-
چنانچہ اپنی سائنسی منطق کا ساتھ دیتے ہوئے اقبال ایک قدم آگے بڑھتے ہیں اور انسانیت کو ارضی پیوستگی سے نجات دلانے کا خواب دیکھتے ہیں-یہ خواب ہزاروں سال پہلے گوتم بدھ نے بھی دیکھا تھا-بدھا نے بھی لگ بھگ اس کی حقیقت کی معروضی تصدیق برآمد کر لی تھی لیکن بدھا کی تعلیمات ہزار تحریف کے بعد بالآخر ’’استخلاف‘‘ کی نفی پر منتج ہوئیں جن سے بدھا کے نروان میں اناج کے اُس دانے کو نظر انداز کردیا گیا جو سکراتِ نروان کے عروج پر بدھا کے منہ میں ڈالا گیا تھا-بدھا کا نروان بھی یہی تھا کہ یہ زندگی خاک سے وابستہ ہے، نہ کہ خاک سے پیوستہ- اقبال کا عرفان بھی یہی ہے کہ:
خاکی ہوں مگر خاک سے رکھتا نہیں پیوند
حوالہ: بالِ جبریل
تصوف میں جس رُوحِ حیوانی کا ذکر ملتاہے، وہ انسانوں میں پائی جاتی ہے-لیکن اقبال کے فلسفہ ٔ خودی کا مطالعہ کرتے ہوئے اندازہ ہوتاہے کہ روحِ حیوانی یا اینمل سپرٹ کو دیکھنے کا ایک مختلف انداز بھی ہوسکتاہے-یعنی کسی انسان میں کیڑے مکوڑوں کی رُوح ہے تو وہ مال جمع کرےگا-کسی انسان میں درندوں کی رُوح ہے تو غیرتِ خاندانی کے لیے خون بہائے گا-کسی انسان میں چوپایوں کی رُوح ہے تو وہ بزدل ہوگا-کسی انسان میں پرندوں کی روح ہے تو وہ بلند فکرونظر کا حامل اور وسیع المشرب ہوگا-چونکہ معاشرے افراد سے بنتے ہیں اس لیے معاشروں کی اجتماعی رُوحِ حیوانی بھی ہوتی ہے-انسانوں میں پوری کی پوری سٹاکسٹ سوسائٹیز وجود رکھتی ہیں جو کلیۃً مادہ پرست ہی نہیں بلکہ اپنی باقی عادات میں بھی حشرات الارض کی سطح پر جیتے ہیں یعنی اپنی خودی کے حوالے سے ارذل المخلوقات بن کرپوری انسانی سوسائٹی کو دیمک کی طرح چاٹ جانا چاہتے ہیں-
غرض اقبال نے جس انداز میں اپنا مخصوص نظریہ ارتقاء جسے مَیں ’’اقبالین سوشیو بایولوجیکل ایولیوشن‘‘ کہا کرتاہوں، پیش کیا اور پھر جابجا حیات الحیوان کا مطالعہ اور اپنے نتائج پیش کیےاُس سے خاطر خواہ طور پر یہ ثابت ہوجاتاہے کہ اقبال کو قومیت کے اُس دورِ اِبتلاء میں بھی اپنے نظریۂ قومیت کے لیے منطقی مواد کہاں سے ملا؟اقبال انسانوں میں اِسی روح ِ حیوانی کو زمینی آلائشوں سے پاک کرنے کے خواہاں ہیں-یہی وجہ ہے کہ اُن کے ہاں موجود خودی کا نظریہ تزکیہ ٔ نفس سے زیادہ استغناء پر زور دیتا نظر آتا ہے-بظاہر ان کے اِس فلسفہ ٔ اخلاق میں تمام تر کار فرمائی تصوف کی ہی نظر آتی ہے کیونکہ اُن کے ہاں بھی زمینی آلائشوں سے پاک ہو جانے کا نتیجہ ہی آخری نتیجے کے طور پر ظاہر ہوتا ہے-لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو بات اس کے بالکل برعکس ہے-اقبال کا درویش کمزور نہیں ہے بلکہ شاہین کی طرح مضبوط ہے-بلکہ وہ اُس طاقت کے حصول کا خواہشمند بھی ہے جسے ہم سطحی لفظوں میں اینٹی گریوٹیشنل توانائی اور قدرے بہتر لفظوں میں اقطارالسمٰوات کو چیر کر پار نکل جانے کی طاقت کَہ سکتے ہیں- اقبال کا درویش دنیا ترک نہیں کرتا وہ چونکہ معاشرے کا حصہ ہے اور خوب کھاتا پیتا، کماتا، ہنستا، کھیلتا، جیتا، دوڑتا، بھاگتا اور کام کرتا ہوا انسان ہے-اس لیے وہ بتدریج ایک ایسے معاشرے کا خالق بنتا چلا جاتا ہے جس کا مطمعِ نظرستاروں پہ کمندیں ڈالنے سے کہیں آگے ہے – جو عشق کی ایک جست میں زمین و آسمان کی بیکرانی کو پاٹ سکتا ہے-جو قوتِ پروردگار ہے اور اس لیے ’’استخلاف‘‘ کا حقیقی کردار-جو طائرِ لاہوتی ہے اورجس کی پرواز میں رزق کی وجہ سے کوتاہی نہیں آسکتی-جو صاحب لولاک ہے اور ’’انتم الاعلونَ‘‘ کی جیتی جاگتی تصویر ہے-
چنانچہ یہ ہے وہ پس منظر جو میری دانست میں اقبال کے ذہن میں تھا اورجس نے اقبال کو ناکام مسیحی قومیت کے باوجود بھی اس خیال پر قائم رکھا کہ وطن یا قبیلہ کی بنیاد پر بنائی گئی قوم بالآخر زمینی آلائشوں کا شکار ہوکر اپنی شناخت کھو دیتی ہے اور معنوی طور پر مردہ ہو جاتی ہے-اس کے برعکس روحانی بنیادوں پر بنائی گئی قوم استخلاف کا حق ادا کرتی اور کائنات کو تسخیر کرتی چلی جاتی ہے-
الغرض میں نے اب تک جس قدر بھی گفتگو کی اُس کا بنیادی مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ اقبال کا نظریۂ قومیت اصل میں ان کے تصورِ ارضی پیوستگی پر استوار ہے-یہی وجہ ہے کہ ماضی میں مذہب کے نام پر ناکام اقوام اور ریاستوں کا عِلم ہونے کے باوجود اقبال نے عین وطنی قومیت کے زور و شور کے زمانے میں مذہبی قومیت کا نعرہ لگایا اور اس پر آخر تک قائم رہے-
مَیں اپنے مضمون کا اختتام سیّد نذیر نیازی کے اِن الفاظ کے ساتھ کرتاہوں، وہ لکھتےہیں:
’’لہٰذا اُنہیں (یعنی اقبال کو) زمینِ پیوستگی سے بڑی نفرت تھی- وہ یہ تو ضرور چاہتے تھے کہ مسلمان اپنے ملک اور وطن کی اصلاح کرلیں-اس کے لیے آزادی اور ہرطرح کے سیاسی، معاشی استخلاص کے طالب ہوں- لیکن اس جدوجہد کی بنا عالمگیر اخلاقی اُصولوں پر رکھیں-یہی علم و حکمت کا فتویٰ ہے اور یہی تاریخ کا فیصلہ‘‘ –

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *