ہیپی فرینڈ شپ ڈے ۔۔۔۔ نوید مرزا

زندگی میں رب تعالیٰ کی انسان کو رشتوں کی صورت میں عطا کردہ نعمتوں کے کیا کہنے مگر ان سب میں دوستی وہ نایاب نعمت ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے دوستی رب کائنات کا وہ تحفہ ہے جو قدرتی رشتوں سے منفرد وہ ناطہ ہے جو ہمت،حوصلہ عطا کرتاہے انسانی خصلت میں شامل ہے کہ وہ جہاں رہتا ہے وہاں کے لوگوں سے اس کی جان پہچان ہو جاتی ہے، وہاں کے لوگوں کے ساتھ وہ گھل مل جاتا ہے اور اسے پھر دوستی قرار دیا جاتا ہے، حالانکہ ایسا نہیں کیونکہ محض جن سے جان پہچان ہو وہ دوستی کے زمرے میں نہیں آتے۔

کسی سے تعلق ہونے کو اس سے ملنے جلنے کو یا جان پہچان کو ہم دوستی نہیں کہہ سکتے کیوں کہ یہ بہت سے لوگوں کے ساتھ ہو تی ہے لیکن دوست صرف وہی ہوتے ہیں جنہیں ہم دوست کہہ سکتے ہیں دوست وہ ہے جو دوست کیلئے اپنی جان تک قربان کر دینے کا حوصلہ رکھ سکتا ہو ۔موجودہ دور میں ایسی باتیں محض کتابی محسوس ہوتی ہیں، ہر بندہ اپنی غرض کا غلام ہے مگر پھر بھی دوستی کے رشتے نبھانے والوں کی کمی نہیں، کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ دوستی ایک اجالا ہے ایک ایسی روشنی ہے جس کے آگے کسی بھی اندھیرے کا تصور نہیں ہے!

لیکن یہی دوستی اس وقت سیاہ رات یعنی اندھیرا بھی ثابت ہوتی ہے جب انسان کی پہچان غلط نکلتی ہے جب وہ دوستی اور جان پہچان میں فرق نہیں کر پاتا اور یقین جانیں کہ انسان کو اس وقت بہت دکھ ہوتا ہے جب اسے دوستی کی آڑ میں دھوکا ملتا  ہے اور اخلاص و اعتبار کے اس رشتے سے ٹھوکر لگتی ہے تو ایسے میں اس کے پاس کرنے کو یا کہنے کو کچھ نہیں بچتا، عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ دوست ایک حسین خواب بھی ہے اور خواہشات سے بھرا ہوا ایک   جزیرہ بھی ۔

اگر سچی ہو تو دوستی ایک ایسا ہی رشتہ ہے جسے اگر دیکھا اور سمجھا جائے تو بہت مضبوط جسے دنیا کی کوئی طاقت نہ توڑ سکے لیکن اگر   آپ میں صبر اور برداشت کی کمی ہے تو یہ رشتہ ٹوٹنے پہ آۓ تو ایک کچے دھاگے سے بھی کمزورہے ،دوست کے تقدس سے دل لبریز ہو تو روشن ہو اور اگر نا شکرا ہو تو پتھر بن جاتا ہے۔حضرت علی کا قول ہے کہ جس کا کوئی دوست نہیں وہ تن تنہا ہے۔۔

ایک اور مقام پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ غریب ہے وہ شخص جس کا کوئی دوست نہیں اور دوست ہمدرد ہوتا ہے اور اس شخص کا کوئی ہمدرد نہیں،نفسا نفسی کے اس دور میں اب کسی سے تعلق واسطہ بھی رسمی اور مجبوری بنتا جا رہا ہے،جب خون کے رشتے کمزور اور کھوکھلے ہونا شروع ہو جائیں تو پھر دوستی جیسے رشتوں پر اعتماد کی گرفت کمزور پڑتی جا رہی ہے ویسے بھی دوست بنانا یا دوستی رکھنا کسی عام کے بس کی بات نہیں ہے، یا خاص لوگوں کا کام ہے اور خاص لوگ وہ ہوتے ہیں جو صابر ہوں، جو خوش نصیب ہوں جو تحمل سے اپنے دوست کی خطاؤں کو معاف کرتے ہوں، ایسے ہی لوگوں کو الله بخت لگاتا ہے اور یہ خوش بختی اس کی دوستی کو مزید چار چاند لگاتی ہے۔

یاد رکھیں اچھا اور سچا ، مخلص دوست وہی ہوتا ہے جو اپنے دوست میں خامیاں نہ ڈھونڈے بلکہ اُس کی خوبیوں کو سراہے اور اُس کی خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کرے، مخلص دوست وہ ہوتا ہے جو دوست کی عزت کو اپنی عزت سمجھے اوراپنے دوست کی غیر موجودگی میں اُس کی عزت کی حفاظت کرے۔ مخلص دوست وہ ہوتا ہے جو دوست اگر صحیح مشورہ نہیں دے پاتا تو اُسے غلط مشورہ بھی نہیں دیتا۔۔ مخلص دوست وہی ہے  جس کی نظر دوست کے عیش وآرام یا دولت پر نہ ہو بلکہ اُس کی اچھائیوں اور اچھی عادات پہ ہو۔۔ مخلص دوست وہی ہے جو آپکی غلطیوں پہ آپکی اصلاح کرے اور آپکی خوبیوں پہ آپکا سراہے…

قصہ مختصر اگر تو جیون میں دوست کا ساتھ میسر ہے تو آپ خوش قسمت ہیں ورنہ مادی وسائل کے ہوتے ہوۓ بھی اگر ایک مخلص فرد آپکو میسر نہیں تو آپ جیسا تہی داماں اور کوئی بھی نہیں ہے!

نوید مرزا
نوید مرزا
ایک عام پاکستانی ھوں اور اپنے بارے میں لکھتے ھوۓ ہمیشہ شش و پنج کا شکار ھو جاتا ھوں کہ کیا لکھوں کہ اپنی شخصیت کا احاطہ ھو جاۓ مگر الفاظ روٹھ جاتے ھیں لب سل جاتے ھیں اور خاموش ھو جاتا ھوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *