اور فرانس فتح ہو گیا۔۔۔ذیشان نور خلجی

SHOPPING

مشاہدے میں آیا ہے کہ دنیا میں دو ممالک ایسے بھی ہیں جن کے نام ایک سے ہیں اور وہ ہیں فرانس۔ جی ہاں، اور دونوں ممالک میں فرق صرف اتنا ہے کہ ایک کے دارالحکومت کا نام پیرس ہے جب کہ دوسرے کے دارالحکومت کا نام فیض عام ہے۔ اس کے علاوہ ان دونوں ممالک کی کثیر آبادی کافروں پر ہی مشتمل ہے۔ گو کہ فیض عام والے ملک فرانس میں اٹھانوے فیصد آبادی صاحب ایمان ہے۔ لیکن یہ دعویٰ بہت کمزور ہے کیوں کہ یہاں کے صاحب ایمان خود ہی اپنے جیسے دوسرے ایمان والوں کو مسلمان نہیں مانتے تو کوئی اور کیا مانے گا۔ اس لئے آپ بھی یہی سمجھیں کہ ساری کی ساری آبادی کافروں پر ہی مشتمل ہے۔

اب آتے ہیں اصل کہانی کی طرف، ہوا کچھ یوں کہ پیرس والے ملک فرانس میں کچھ ناعاقبت اندیشوں نے گستاخانہ خاکے شائع کئے جس کی وجہ سے امت مسلمہ میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی۔ اس موقع پر دنیا کے تمام مسلمانوں نے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق احتجاج ریکارڈ کروایا اور حب رسول ﷺ کا ثبوت دیا۔
لیکن انہی میں سے ایک طبقہ ایسا بھی اٹھا جو کہ ذرا زیادہ ہی مسلمان واقع ہوئے تھے۔ ذرا زیادہ کا لفظ اس لئے استعمال ہوا ہے کیوں کہ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے سوا ہر دوسرے کو گالیوں پر رکھے ہوئے ہیں۔

اب جو ذرا زیادہ مسلمان واقع ہوئے تھے انہیں ایک غلط فہمی لاحق ہوئی اور انہوں نے بجائے پیرس والے فرانس پر چڑھائی کرنے کے، فیض عام والے فرانس پر چڑھائی کر دی۔ مجاہدین کی تازہ دم سپاہ، غوری ڈنڈوں سے لیس دارالحکومت کی طرف بڑھ رہی تھی۔ کس شیر کی آمد تھی کہ رن کے ساتھ ساتھ بھاری بھرکم کنکریٹ میں لتھڑا، میٹرو ٹریک بھی کانپ رہا تھا۔ مسلح لشکر نے سب سے پہلے اسی ٹریک پر قبضہ کیا تاکہ اس کی کپکپی منتقل ہو کر ایوان حکومت پر طاری ہو جائے۔ گو حکومت نے مجاہدین کی جدید ٹیکنالوجی ڈی فیوز کرنے کے لئے مواصلاتی ذرائع مفقود کر رکھے تھے لیکن پھر بھی اگلے مورچوں سے، گاہے بگاہے آنے والی معلومات سے اندازہ ہوتا تھا کہ امیر المجاہدین کی سربراہی میں یہ لشکر فرانس کی ناپاک حکومت کو تہ تیغ کر کے ہی واپس لوٹے گا۔
اور تب تو کافروں کا ایمان بھی تازہ ہو گیا جب ایک ویڈیو دیکھنے کو ملی جس میں غازیوں کا ایک دستہ چند فرانسیسی پولیس اہلکاروں پر چڑھ دوڑا اور انہیں مار مار کر گیند بنا دیا۔ گمان کیا جا رہا ہے ان پولیس والوں میں وہ ملعون کارٹونسٹ بھی شامل تھا جس نے گستاخانہ خاکے شائع کئے تھے۔ جب کہ ایک غازی صاحب بتا رہے تھے کہ فرانس کا صدر جس کی سربراہی میں یہ سب گستاخی کی گئی تھی وہ خود بھی اسی سکوارڈ میں شامل تھا تاکہ آگے بڑھ کر مجاہدین کی یلغار روک سکے لیکن پھر مجاہدین نے اسے بھی مار مار کر برکس نکال دیا اور سننے میں آیا ہے کہ اسے دارالحکومت کے بڑے چوک میں مرغا بھی بنایا گیا ہے۔

دوستو ! مجاہدین کی یلغار ابھی جاری تھی اور قریب تھا کہ ایک دفعہ پھر انقلاب فرانس برپا ہو جاتا کہ فرانسیسی بادشاہ کو شرم آ گئی اور اسے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا لہذا پھر بادشاہ سلامت نے اسی رات امت کے عظیم جرنیل، امیر المجاہدین سے معافی مانگی اور یوں مسلمان سرخ رُو ہوئے۔

SHOPPING

ادھرجب ملک فرانس کے دارالحکومت فیض عام میں یہ ساری کاروائی جاری تھی تو دوسری طرف ملک فرانس کے دارالحکومت پیرس میں بیٹھا فرنچ صدر یہ ساری کاروائی دیکھ رہا تھا اور خوش ہو رہا تھا کہ امت میں انتشار کے باعث وہ اپنے مقاصد میں ضرورت سے زیادہ کامیاب ہو رہا ہے۔ وہ سوچ رہا تھا کہ یہ کتنے بے وقوف لوگ ہیں جو دوسروں کی لگائی گئی آگ اپنے گھر میں لے گئے ہیں۔
لیکن فیض عام کے غازیو ! آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔ بھلا، اتنی چھوٹی چھوٹی باتوں کو کون سوچتا ہے۔ بس فرانس فتح ہو گیا نا، یہی بہت ہے۔

SHOPPING