میں معذور ہوں یا آپ۔۔سدرہ کمال

زندگی ہمیشہ سے ہی سب کے لیے مختلف رہی ہے۔  ہزار رنگ ہیں  اور ہر رنگ سب کو میسر نہیں۔ دیکھنے میں یہ تقسیم عجیب تو لگتی ہے مگر خدا نے زمین کا توازن برقرار رکھنے کے لئیے اسے منقسم کیا ہے تو یقیناً اسی میں بہتری کا راز پوشیدہ ہے، جسے شعور رکھنے والا ذہن باآسانی سمجھ سکتا ہے۔ اسی تقسیم کی وجہ سے ہر انسان کی کہانی مختلف ہے۔ کچھ انسان پیدا ہی جاگیر دار ہوئے ہیں تو کچھ کی قسمت   فقیری کا بوریا بستر  لاد دیتی ہے۔
ایک دن ہم لوگ حسب معمول جھگیوں کی طرف گئے۔ میرے ساتھ ہمیشہ کی طرح میری بڑی بہن سائرہ بھی تھی۔ وہاں تقریباً تیس کے قریب جھگیاں نظر آئیں۔ جو نیلے آسمان کے نیچے خدا کی زمین پر، کھلے میدان میں جھگیاں لگائے، پھٹے پرانے کپڑوں کے خیموں میں زندگی کے دنوں کو بغیر مقصد حیات جانے، گزار رہے تھے۔  روٹی کے حصول کے لئیے زندگی کو مسلسل تگ و دو میں گزار دینا ان خانہ بدوشوں کا ہی کام ہے۔ یہ لوگ بارش، آندھی، طوفان اور دھوپ کی پروا کیے بغیر ، ماتھے پر تیوری چڑھانے کی بجائے، لبوں پہ مسکان سجائے روٹی کی تلاش میں سرگرداں ہی نظر آتے ہیں۔
وہاں تقریبا ً ہر جھگی کے سامنے بچے کھیل رہے تھے۔ جگہ جگہ گندگی کا بسیرا تھا۔ بچوں کے بال بکھرے ہوئے تھے اور یوں محسوس ہوتا تھا جیسے عرصہ دراز سے پانی کے لیے ترس رہے ہوں۔ ان کے ننگے پیروں کی جلد اتنی سخت تھی کہ انہیں گندگی پہ بغیر جوتا پہنے چلنے میں کوفت محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ ان کے جسم پر سردی کے موسم میں گرمیوں والے کپڑے تھے۔ اس سب کے باوجود ان کی آنکھوں میں ایسی چمک تھی جو کسی کو بھی اپنی طرف متوجہ کر سکتی تھی۔ میں ان سب چیزوں کو ابھی غور سے دیکھ ہی رہی تھی کہ اچانک نظر کوڑے پر اوندھے منہ گری بچی پر پڑی۔ میں اور میری بہن سائرہ اس طرف دوڑ کر گئیں۔ ایک بچی جس کی عمر لگ بھگ 2 سال ہو گی، کوڑے پر پڑی ہلکی آواز میں رو رہی تھی، اس کے چہرے سے بیزاریت صاف واضح تھی، بظاہر اس کا دماغ تو اس لفظ سے مانوس نہیں تھا مگر روح اسے محسوس ضرور کر رہی تھی، اسے اندازہ تھا کہ وہ انسان ہے جانور نہیں، اس لئیے کوڑے پر پڑی رونے کے انداز میں انسانوں کو اپنی طرف بلا رہی تھی۔ میں نےاس کی ماں کو بلایا اور کہا کہ اسے یہاں کیوں پھینکا ہوا ہے؟ یہ انسان ہے جانور نہیں، اسے کپڑے پہنائیں، اسے چارپائی پر لٹا دیں۔  وہ ہنستے ہوئے کہنے لگیں بیٹا یہ ٹھیک نہیں ہے۔ سائرہ نے فورا ً کہا کہ پھر اسے ہسپتال لے کر جائیں، دوائی لے کر آئیں۔ اس پر وہ کہنے لگیں کہ بی بی اس کا ذہن ٹھیک نہیں، چل بھی نہیں سکتی، اس کی ٹانگیں کمزور ہیں۔ یہ سن کر مجھے دلی دکھ ہوا۔ ایسے ہی میرے ذہن میں خیالات آنے لگے کہ  اس بچی کا مستقبل کیا ہو گا؟ کیا اس کا شمار بھی ان لوگوں میں ہو جائے گا جنہیں بازاروں میں بٹھا دیا جاتا ہے تا کہ لوگ ترس کھا کر کچھ پیسے دیں، پھر اس سے کون شادی کرے گا؟ یا ساری زندگی یہ دوسروں کے ہاتھوں استعمال ہو گی؟  پہلے ماں اس کے نام کی بھیک مانگے گی، ماں کے بعد بہن بھائی اس کی جھولی میں کاسہ رکھ کر کسی بازار میں بٹھا آئیں گے۔ جب یہ بوڑھی ہو جائے گی تو خاندان کے افراد کسی رش والی جگہ کرسی پر بٹھا آئیں گے۔ راہی ترس کھا کر پیسے دے جایا کریں گے، پھر اچانک ایک دن اس کی سانس رک جائے گی اور نا جانے اسے دفن بھی کیا جائے گا یا نہیں۔
میرے ذہن میں اچانک سے اس بزرگ عورت کی تصویر گھومنے لگی جو جی سی سٹریٹ میں اکثر ہاتھوں کو پھیلائے بیٹھی ہوتی تھی۔ اسے دیکھ کر مجھے اپنی دادی یاد آتی تھیں۔ اس کا ہاتھ باہر کی طرف لپک رہا ہوتا تھا، مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کہ کیا ان کا ہاتھ تھکتا نہیں۔ میں سوچتی تھی کون انہیں یہاں چھوڑ کر جاتا ہو گا؟ شام کے وقت انہیں کون یہاں سے لے کر جاتا ہو گا؟ ایک دن صبح کے وقت جی سی  سٹریٹ جانا پڑا، میں نے دیکھا کہ ایک عورت منہ چھپائے ان کی کرسی کو سیدھا کر رہی تھی۔ اس کا ہاتھ باہر کی طرف لپکا دیا اور کان میں نا جانے کیا کہہ کر چلی گئی۔ میرا دل کیا اس عورت کا راستہ روکوں، اسے چیخ چیخ کر کہوں کہ  آپ لوگ انسان ہیں، خدارا انسانوں والے کام کریں لیکن اسی وقت ناجانے وہ نصیحت کہاں سے یاد آ گئی جو چند دن پہلے ہی کسی نے کی تھی کہ اپنی حرکتوں سے باز آ جاؤ، بھکاریوں کے پاس جانا چھوڑ دو، ہمیں تم سلامت چاہیے ہو، اس لئیے میں خاموشی سے ہی واپس یو نیورسٹی آ گئی۔کوڑے پر پڑی بچی کا مستقبل بھی مجھے اس بوڑھی عورت کی تصویر دکھا رہا تھا۔ میں نے اور سائرہ نے سوچا اس بچی کو کسی دن ہسپتال لے جائیں گے۔ بچی کی ماں نے بچی کو اپنے ہاتھوں میں لیا اور  ایک طرف کو چل دیں۔ میں اور سائرہ بھی ان کے پیچھے ہی چل دیں۔ بائیں جانب ایک اور جھگی تھی وہ اس کے اندر چلی گئیں، لیکن میرے اور سائرہ کے قدم باہر ہی رک گئے۔ کیوں کہ باہر ایک چارپائی کے ساتھ ایک اور بچی کو رسی کے ساتھ باندھا گیا تھا۔ جس کے جسم پر کپڑے نہ  ہونے کے برابر تھے۔ مکھیوں کو اس کے منہ تک باآسانی رسائی حاصل تھی۔ اس کی ناک بہہ رہی تھی لیکن بچی ان سب چیزوں سے بے خبر حیرانگی سے کبھی آسمان کو تکنے لگتی، کبھی ہماری طرف دیکھتی پھر زمین کی طرف دیکھ کر ہنسنے لگتی۔ مجھے ایک دم لگا جیسے وہ ہم پر ہنس رہی ہو۔ مجھے لگا جیسے وہ پوچھ رہی ہو کہ میں معذور ہوں یا آپ؟ ہم نے اسی جھگی کی عورتوں میں سے ایک عورت کو بلایا تا کہ ان سے پوچھ سکیں کہ یہ پیدائشی معذور ہیں یا پھر کوئی مسئلہ پیش آیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ نہیں پیدائشی معذور تو نہیں ہے، اس سے پہلے کہ میں اور سائرہ اس پہ کوئی بات کرتے، انہوں نے مزید بتایا “باجی اندر بھی ہمارا ایک بچہ ہے جو چل نہیں سکتا”۔۔میں نے رب سے اُس عورت کی طرف دیکھا اور واپسی کی راہ لے لی۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *