• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ہندوستانی موسیقی کو امیر خسرو کی دین: ایک معمّا، تحریر: یوسف سعید (ترجمہ: ف س اعجاز)

ہندوستانی موسیقی کو امیر خسرو کی دین: ایک معمّا، تحریر: یوسف سعید (ترجمہ: ف س اعجاز)

14 ویں صدی کے شاعر امیر خسرو نے ہندوستانی سنگیت میں کیا ایجاد کیا یا اُسے کیا دیا ، اس بارے میں بہت سے دعوے کیے جاتے ہیں خصوصاً ہندوستانی کلاسیکی اور شمالی ہندوستانی اور پاکستان کے صوفیانہ موسیقی کے پیشہ وروں کی طرف سے ۔  ایسے دعووں کی فہرست میں خصوصیت سے ستار اور طبلہ آلاتِ موسیقی میں،  اور گیتوں میں قوالی ، قول ، قلبانہ ، ترانہ ، خیالہ ، سہیلہ اور بسیط،  اور راگوں  میں  ایمن ، ساز گیری ، عشاق ، باخراز  اور صولِ فاختہ جیسی تالیں شامل ہیں ۔ یہ تمام نام اور اُن کی خسرو سے وابستگی بظاہر شمالی ہند کے موسیقاروں کے خاندانو ں کی صدیوں کی زبانی روایتوں کے ذریعہ یاد رکھی گئیں اور مغل عہد کے تاریخی متون میں بھی درج پائی گئیں ۔ ہم عصر ذرائع سے خسرو کے عہد تک رسائی کے بارے میں بہت کم معلومات حاصل ہوتی ہیں ۔

دلچسپ بات ہے کہ امیر خسرو نے خود موسیقی اور موسیقیت  میں شغف رکھتے ہوئے یہ نہیں لکھا کہ انہوں نے موسیقی میں کچھ ایجاد کیا ہے ، حالانکہ انہوں نے شاعری اور زبان میں اپنی ایجادات فخریہ بیان کی ہیں ۔ البتہ ایک نظم کے ایک شعر میں موسیقی اور شاعری کے اچھے بُرے پہلوؤں پر کچھ فرماتے ہوئے انہوں نے کہا ہے ، ’’ (تاحال) میں نےشاعری کے تین دیوان مرتب کیے ۔ اور اگر آپ یقین کریں تو کہوں ، میں موسیقی کی بھی تین جلدیں محفوظ کر سکتا تھا ‘‘ (بحوالہ  ملک  رشید ، ’’ امیر خسرو کا علم موسیقی ‘‘ ، 2000) ۔ اس بیان کی اکثر یہ کہہ کر تشریح کی جاتی ہے کہ اگر موسیقی کی دھنوں کو مرتب کرنے کی زبان اور قاعدہ اُس عہد میں موجود ہوتا تو خسرو اپنی دھنوں کو محفوظ کر جاتے ۔ یہ بھی دلچسپ ہے کہ کسی اور جگہ وہ یہ دعوے کرتے ہیں کہ وہ ہندوی میں شعر کہتے ہیں اور ہندوی میں شاعری کرتے ہیں لیکن اپنا (ہندوی ) کلام انہوں نے دوستوں میں تقسیم کر دیا ہے (بحوالہ ، دیباچہ غرۃ الکمال ، مترجمہ  لطیف اللہ  ، 2004) ۔ یہ ممکن ہے کہ انہوں نے دربار میں گانے والوں کے لیے اپنی غزلوں کی دھنیں بنائی ہوں لیکن وہ دھنیں محفوظ نہ رکھی جا سکی ہوں ۔ آئیے ، اس مضمون میں ان ذرائع پر نظر ڈالیں جن سے خسرو کی ہندوستانی سنگیت کو دین پر کچھ معلومات حاصل ہو سکیں ۔

خسرو کے اپنے ذرائع سے الگ اُن کے ایک معاصر اور دوست ضیاء الدین برنی کی اس مختصر عبارت سے بات شروع کی جا سکتی ہے کہ ’’ گائیکی اور سنگیت کی دھن بنانے میں وہ ایک بڑے ماہر تھے ‘‘ ۔ اگرچہ یہ بیان  سنگیت کے کسی طرز (ہندوستانی یا ایرانی) کی وضاحت نہیں کرتا ، نہ ہی دُھن سازی کی تعریف بیان کرتا ہے (حاشیہ از مصنف : برنی نے فارسی لفظ ’’ ساختن ‘‘ استعمال کیا ہے جس کے معنی ہیں تخلیق کرنا یا بنانا  )۔ لیکن آگے چل کر مورخوں اور موسیقاروں نے اسی فقرے کو خسرو کی حمایت میں بہت اہم گردانا ہے ۔

بہرحال فارسی موسیقی کے مقالوں مثلاً  ’’ غُنیات الُمنیہ ‘‘ (چودھویں صدی ) یا کچھ بعد میں ’’ لہجات ِ سکندر شاہی ‘‘ (پندرھویں صدی کے اواخر) میں امیر خسرو یا اُن کی ایجادات ِ موسیقی کا ذکر نہیں ملتا (بحوالہ   ملک رشید ،  1993) ۔  نہ اُن میں ستار یا طبلہ کے الفاظ شامل ہیں ۔ سولہویں صدی سے قبل خسرو کی موسیقی کا ذکر نہیں ملتا ۔ ابوالفضل کی ’’ آئین اکبری ‘‘ دہلی کے دو قوالوں سامَت اور تاتار کا حوالہ پیش کرتی ہے جو امیر خسرو کے قول اور ترانہ قسم کی چیزیں  گاتے تھے (بحوالہ  ملک رشید ، 1993) ۔ غالباً یہ فقرہ یہاں سے اس دعویٰ کی بنیاد بن گیا کہ خسرو قوالی کے موجد تھے ۔ تآنکہ بیسیویں صدی میں محمود شیرانی نے معلوم کیا کہ یہ دو قوال خسرو کے ہم عصر ہو سکتے تھے ۔ اور غالباً نظام الدین  ؒ       کی سرائے کے اطراف میں رہا کرتے تھے (بحوالہ ملک رشید ، 1993) ۔  خسرو قول اور ترانہ کے الفاظ محض اپنی شعری یا موسیقانہ اقسام کے طور پر بیان کرتے ہیں ، وہ یہ نہیں لکھتے کہ یہ (اصناف) انہوں نے ایجاد کیں یا کمپوز کیں ۔ ممکن ہے وہ اگلے وقتوں سے چلی آ رہی ہوں اور ان کی ادبی معنویت کے برخلاف وہ ان قول اور ترانہ سے مختلف رہی ہوں جنہیں لوگ آج سنتے ہیں (بحوالہ ملک رشید ، 1993) ۔

عبدالحمید لاہوری (متوفی ، 654ء ) اپنے بادشاہ نامہ میں ابوالفضل سے بھی ایک قدم آگے نکل گئے ہیں (بحوالہ ملک رشید ، 1993)  ۔  وہ اضافہ فرماتے ہیں کہ خیال اور فارسی (موسیقی کی ایک قسم ) قول اور ترانہ کے علاوہ خسرو کی مزید ایجادات تھیں ۔ کچھ بعد ، مغل بادشاہ اورنگ زیب کے ایک امیر فقیر اللہ سیف خان نے اپنی تحقیق ’’ راگ درپن ‘‘ (1666ء ) میں خسرو کی موسیقی کی ایجادات میں اضافہ کرتے ہوئے دس راگوں کو خسرو کی تخلیق بتایا جن میں زیلف ، فرغانہ ، سرپردہ ، سازگیری ، ایمن وغیرہ شامل ہیں ۔ یہ پہلا موقع تھا جب راگوں کو خسرو سے منسوب کیا گیا ۔ دلچسپ بات  ہے کہ ان میں سے کم از کم چار راگ ایرانی یا ترکی الاصل ہیں  جو ممکن ہے کہ ہندوستان میں خسرو کے وقت رائج رہے ہوں ۔ اور اگر یہ کافی نہ رہا ہو تو فقیر اللہ  نے ایک مسالہ دار داستان سنائی ہے جب خسرو نے دربار میں اپنے عہد کے بڑے ماہرِ موسیقی نائیک گوپال سے سنگیت کا مقابلہ جیت لیا ۔ خسرو نے دربار میں تخت کے نیچے (گویا چھپ کر ) پہلی بار گوپال نائیک کو یہ راگ گاتے ہوئے سنا تھا ۔ اور اس کے بعد تخت کے نیچے سے برآمد ہو کر گوپال کے گائے ہوئے ہر راگ کو اُس سے بہتر گا کر دکھایا تھا  (بحوالہ رشید ملک ، 1988) ۔

خسرو کی موسیقی پر بعد میں جو کچھ لکھا گیا ہے چاہے فارسی میں ہو کہ انگریزی اور اردو میں ، راگ درپن ہی اُس کی بنیاد بنا ۔ شبلی نعمانی نے لکھا، پھر مولانا آزاد نے لکھا (بحوالہ  ملک رشید ، 1993) ۔ جنہوں نے بعد میں اپنی تحقیق سے خسرو کی مذکورہ اصنافِ موسیقی کی فہرست میں اضافہ کیا ۔ لیکن  ملک رشید ، راگ درپن کو مشکوک وسیلے کے طور پر دیکھتے ہیں کیونکہ اس میں بعض طویل بند ’’ آئین اکبری ‘‘ سے راست اٹھائے ہوئے معلوم  پڑتے ہیں جب کہ فقیر اللہ کا دعویٰ ہے کہ اسے 19ویں صدی کے وسط میں بیشتر ایک مقامی زبان مانک آتھوہالا سے ترجمہ کیا گیا ۔ منشی کرم امام نے راگ درپن سے بڑی حد تک استفادہ کیا ۔ انہوں نے ’’ معدن الموسیقی ‘‘ (مطبوعہ 1935ء ) میں خسرو کی خدمات مندرج کرنے کے لیے راگ درپن کو وسیلہ بنایا ۔ اور اس سے نقی محمد خورجوی نے اپنی اردو کتاب ’’ حیاتِ امیر خسرو میں ایجادِ موسیقی ‘‘ میں استفادہ کیا ( بحوالہ  نقی ایم خان ، 1980) ۔

خسرو سے منسوب گیتوں کی قسمیں بڑھتی  ہی جا رہی ہیں  ۔ ان میں اب تالیں بھی شامل ہو گئی ہیں مثلاً ’’ صول فاختہ ‘‘ اور فردوست وغیرہ ۔ بیسویں صدی میں خسرو  کے سنگیت پر جس قدر لکھا گیا ، اس کا مآخذ یہی کتابیں بنیں ۔ ان کے اصل مآخذ کے بارے میں تحقیق کیے بنا ان (کتابوں ) میں مشمولہ معلومات یا تو پڑھ کر حاصل کی گئیں یا پیشہ ور سنگیت کاروں تک زبانی منتقل ہو گئیں ۔ اسی لیے ان راگوں  یا تالوں کے نام ترانہ ، ساز گیری ، صول فاختہ وغیرہ خسرو سے منسوب ہو کر ایک کتاب میں محفوظ ہو گئے ۔

تاہم خسرو کی موسیقی کی زبانی تاریخ کو وسیع تر لوک ریت (folklore) سے منقطع نہیں سمجھنا چاہیے ۔ محمد حسین آزاد کی ’’ آبِ حیات ‘‘ (1907ء)  جو مسالہ دار تو ہے لیکن اردو شاعری کی مستند تاریخ کم پیش کرتی ہے ، کئی کہانیوں اور عوامی گیتوں کو خسرو سے منسوب کرتی ہے ۔ ان میں وہ دیہاتی گیت بھی ہیں جو لڑکیاں اور عورتیں  ساون، بسنت (بہار) ، شادیوں اور برہ (محبوب سے جدائی ) کے وقت گاتی تھیں جن میں ان  کے ثقافتی متعلقات اجاگر ہوتے تھے ، مثلاً لڑکیوں کے وہ گیت جو وہ آم کے پیڑوں کے نیچے جھولا جھولتے ہوئے گاتی تھیں  (بحوالہ ، محمد حسین آزاد، 1907) ۔ محمد حسین آزاد نے ایسے دعوے بھی کیے ہیں مثلاً دُھرپد کو خسرو نے قول اور قلبانہ سے بدل دیا اور ہندوستان کے قدیم ساز بِین کو مختصر کر کے ستار ایجاد کر دیا ۔ انہوں نے یہ دلچسپ باتیں بھی لکھی ہیں کہ خسرو نے فطرت اور سنگیت کی موزوں آوازوں کی فارسی کے ارکان (syllables) اور شاعری میں نقالی کر ڈالی ۔ ان فارسی الفاظ اور فقروں میں سے بعض اب بھی موجود ترانوں کے بولوں اور تالوں میں گونجتے ہیں اور خسرو سے منسوب ہیں ۔

بیسویں صدی میں خسرو کی تحریروں اور خسرو کے بارے میں لکھی گئی چیزوں میں بہت دلچسپی دیکھی گئی ۔ ان کی وراثت کو محفوظ کرنے کے ایک پراجیکٹ میں ان کی شاعری اور نثر کی نو (9) جلدیں 1917ء سے 1933ء کے درمیان علی گڑھ سے شائع ہوئیں ۔ ان میں ان کے ہندوی کلام کی بھی ایک جلد مرتب کی گئی ۔ ’’ جواہرِ خسروی ‘‘ ان کی مقبول ِ عام پہیلیوں ، کہہ مکرنیوں ، شعروں اور ان گیتوں پر مشتمل ہے جن میں بسنت ، قلبانہ  اور ایسی کئی نظمیں شامل ہیں جنہیں قوال گاتے ہیں ۔ نواب اسحٰق خان جو اس پراجیکٹ کو فروغ دینے والے تھے ، نے بیان کیا کہ خسرو کے ہندوی کلام کو مختلف ذرائع سے یکجا کرنے کی بڑی کوششیں کی گئیں ۔ نظام الدین اولیاء ؒ       کے مزار کے اطراف میں رہنے والے قوالوں سے بڑی پوچھ تاچھ کر کے  معلومات حاصل کی گئیں ۔ امین عباس چریاکوٹی ’’ جواہر خسروی ‘‘ کے مرتبین میں شامل تھے ۔ انہوں نے لکھا ہے کہ نظام الدین اولیاء کی درگاہ کے خاص صوفی حسن نظامی نے اس کتاب کے لیے بہت سا مواد فراہم کیا ۔ اس سے اُن زبانی اور تحریری روایتوں کے فرق کا بھی پتہ چلتا ہے جو خسرو کی تاریخ لکھنے میں بہت اہم ہیں ۔

وحید مرزا نے 1927ء میں خسرو کی حیات اور خدمات پر پہلا ڈاکٹریٹ کا مضمون لکھا تو انہوں نے ستار کی ایجاد کے آگے سوالیہ نشان لگایا ۔ کیونکہ خسرو کی تحریروں میں ستار کا لفظ کہیں نہیں نظر آیا تھا ۔ انہوں نے ستار کی جڑیں وسطیٰ ایشیا یا قدیم  ’’ وی اینا ‘‘ کے حوالوں میں ڈھونڈنے کی کوشش کی ۔ بہرحال خسرو کے سنگیت پر مرزا صاحب نے کئی معلومات یکجا کیں ۔ مثلاً ان کے ایجاد کردہ راگوں یا نائیک گوپال کا قصہ ، راگ درپن کے حوالے سے انہوں نے اپنے بعد کے اردو ایڈیشن میں لکھا ہے (بحوالہ مرزا وحید ، 1986) ۔  انہوں نے واجد علی شاہ کی ’’ صورت المبارک ‘‘ سے حوالہ نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ خسرو ایک نائیک تھے لیکن صرف ’ خیال ‘ کے ، ’ دھرپد ‘ کے نہیں ۔ تاہم واجد علی شاہ شاکی تھے کہ خسرو نے ایک ہزار سال پرانے سنگیت کے نظام اور ہندوستانی سنگیت کے آلات کو مسمار کر دیا  اور ’’ ان کے (سنگیت کے) شاگردوں نے کلاونتوں (ماہر گائیکوں) کی نقالی شروع کر دی جو مہادیو کے زمانے سے سنگیت کے استاد تسلیم کیے جاتے تھے ‘‘ ۔ یہاں مرزا  نے یہ کہہ کر  خسروکا دفاع کیا  ہے کہ خسرو کی ایجادات نے ممکن ہے کہ سنگیت کے قدیم سسٹم کو بدلنے کی راہ ہموار کی ہو جو ایک جگہ پر آ کر ٹھہر گیا تھا ۔

اس موضوع پر سرگرمیوں کی اگلی لہر ۔۔۔ جنوبی ایشیا کی اب تک کی سب سے بڑی لہر ۔۔ خسرو کے 700ویں جشن سالگرہ پر دیکھی گئی جو 1975ء میں منایا گیا ۔ جب ہندوستان اور پاکستان میں خسرو پر نئی تحریریں ، نئی کتابیں شائع  کی گئیں ۔ ان میں سے بعض سرکاری اداروں یا سرکاری سرپرستی میں منظرعام پر آئیں مثلاً ہندوستان میں نیشنل امیر خسرو سوسائٹی اور پاکستان میں نیشنل کمیٹی برائے سات سو سالہ تقریبات ِ امیر خسرو کی جانب سے کئی افراد نے خسرو پر لکھنے کی شروعات کی (بحوالہ، ’’ امیر خسرو اور موسیقی ‘‘ ، 1975؛ افضل پرویز ، 1975)۔  اُس سال سب سے زیادہ مصرف ظ۔انصاری رہے ہوں گے جنہوں نے آٹھ سے زیادہ کتابیں مرتب کیں اور کئی طویل مضامین بھی لکھے ۔ ریڈیو پروگرام دیے۔ خسرو کے لاتعداد اشعار کا ترجمہ کیا (بحوالہ ، ظ-انصاری، 1977)۔  ظ ۔ انصاری اور دیگر کی مرتبہ کلیات میں خسرو کی موسیقی پر لکھے گئے  کئی مضامین بھی تھے ۔

ایسے ایک مضمون میں  جس کا عنوان   تھا ’’ غزل سرا خسرو ‘‘ ، شہاب سرمدی نے سلطنت ِ دہلی کا وہ منظر دوبارہ تخلیق کر دیا ہے جس کی بدولت ان وسائل اور ذرائع کا تجزیہ سامنے آیا جنھیں خسرو نے درباری سنگیت پر اپنی غزلیں پیش کرنے میں آزمایا ہو گا ۔ آج کے قلبانہ ، ترانہ اور قوالی کی چیر پھاڑ کرتے ہوئے شہاب سرمدی نے اپنے انکشافات  کی روشنی میں خسرو اور برلی کے کارناموں پر بحث کی ہے اور ان پیچیدہ تجربات پر بھی بحث کی ہے جو خسرو (یا ان کی نگرانی میں دوسرے سنگیت کاروں ) نے سُروں ، راگوں ، لے اور بولوں وغیرہ میں کیے ہوں گے تاکہ وہ دربار میں یا صوفی سماع میں مطلوبہ نتیجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوں ۔ عام آدمی کے لیے یہ تکنیکی بات ہو گی لیکن شہاب سرمدی کے اس مضمون نے  ایک معمے کے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو جوڑ سا دیا ہے ۔ انہوں نے زبانی اور دستاویزی تاریخوں کو سلوٹیں دور کر کے پیش کر دیا ہے ۔ اور اس مضمون میں چُھٹ پُٹ  دیگر دلچسپیوں کا سامان بھی موجود ہے ۔ مثلاً انہوں نے لکھا ہے کہ قول اور قلبانہ تار سَپتک (Upper   Octave) میں کیوں گائے جاتے ہیں۔ عبدالحلیم جعفر خان نے اسی جلد میں تار سَپتک کو امیری سَپتک کے نام سے گردانا ہے (بحوالہ عبدالحلیم جعفر خان ، ’’ خسرو اور ہندوستانی موسیقی ‘‘ ) ۔

ایک اور عالم جس نے خسرو اور جنوبی ایشیا کی کلاسیکی موسیقی کو مسلمانوں کی دین کے موضوع پر کام کیا ہے ، وہ ہیں ’’ کیلا ش چند ر  برہسپتی ‘‘ جن کی نواب  رام پور سے قربت کی وجہ سے مشہور رام پور رضا لائبریری کے فارسی اور سنسکرت مسودات تک رسائی تھی (بحوالہ  کیلاش چندر  برہسپتی ،  1974)۔ وہ اپنے نئے دلائل کے ساتھ سامنے آئے ۔ مثلاً اس حقیقت سے انہوں نے پردہ اٹھایا کہ راگوں کی قدیم جاتی یا مُرچھانہ طریقہ پر درجہ بندی کو سلطنت کے دور میں ایک نئے میلہ سسٹم سے بدل دیا گیا تھا  ۔ جس میں خسرو کا اہم رول تھا (حالانکہ جیراز بھائی (Jairazbhoy)  ان دونوں سسٹموں کے بیچ وقت کا بڑا فاصلہ بتاتے ہیں (بحوالہ جیراز بھائی ، 1971 )۔ برہسپتی کا سب سے انوکھا کام یہ ہے کہ انہوں نے گوپال نائیک اور خسرو کی داستان کو یہ کہہ کر ایک نیا رخ دے ڈالا کہ مُرچھانہ قاعدہ غیر برہمنوں کو نہیں سکھایا جا سکتا تھا ۔ اسی لیے خسرو کو ایک نیا میلہ پڈھات (قاعدہ) بنانا  پڑا جس میں انہوں نے ایرانی مقامات کا استعمال کیا ۔ اور گوپال نائیک اور خسرو کے سنگیت کے مقابلے میں ہر چند کہ گوپال کو ہار ہوئی لیکن اصلیت میں وہ جیت گئے تھے کیونکہ مُرچھانہ کے اسرار انہوں نے چھپائے (گُپت ) رکھے جب کہ خسرو نے میلہ قاعدہ کو ظاہر (پرکٹ) کر دیا (بحوالہ  آچاریہ برہسپتی ، 1987) ۔ برہسپتی نے اپنی مدافعت میں ایک ایسا دھرپد گیت نقل کیا ہے جو بیجو سے منسوب ہے (حاشیہ از مصنف : برہستپی نے سنگیت چنتامنی کے ایک مضمون کا حوالہ دیا ہے ) ۔

برہسپتی نے یہ نکتہ بھی اٹھایا ہے کہ ستار امیر خسرو کی بجائے خسرو خان کی ایجاد ہو سکتا ہے جو مغل دربار کے سنگیت کار سدا رنگ کا چھوٹا بھائی تھا ۔ لیکن بدرالزماں  (بحوالہ  ’’ سدا رنگ ‘‘ ، 1998) کے علاوہ ایلن (Allyn)  جس نے فروغ ِ ستار کے سلسلے میں اٹھارویں صدی میں ایک اور امیر خسرو کو ڈھونڈ لیا تھا ، نے بھی اس نظریے کو رد کر دیا (بحوالہ ایلن ، 1997) ۔ (اس تحقیق کی ضرورت ہے کہ ان بعد والے خسروؤں کا چودھویں صدی کے خسرو کی موسیقی کی Myth ایجاد کرنے میں کوئی رول تھا یا نہیں)۔ برہسپتی کی دوسری اہم کوشش یہ  رہی کہ انہوں نے ان سنگیت کاروں کا سراغ لگایا جو سالہا سال امیر خسرو کے سنگیت میں ریاضت کرتے رہے ۔ ان کے مطابق خسروو کا نظام موسیقی  (میل یا اندرپرستھ مَت) حسن گنگوہی کی معرفت جنوبی ہند پہنچ گیا تھا ۔ حسن گنگو، نظام الدین کے شاگرد اور خسرو کے دوست تھے جنہوں نے دکن میں برہمنی سلطنت قائم کی ۔ ان کے دربار کو بعد میں یہ وقار حاصل ہوا کہ اس میں خسرو کی غزلیں گانے  کے اہل تین سو (300) موسیقار تھے ۔ شمال میں یہ ریاضت جونپور  میں  حسین شاہ شرقی (1456 – 1505) کے ماتحت جاری رہی جہاں سے وہ آگرہ ، گوالیات، اترولی اور قریبی قصبوں میں جا پہنچی اور تاحال علمی خزانے میں محفوظ ہے  ۔ گرچہ برہسپتی کے حوالے میں یہ بچ نکلی ہے لیکن ان میں سے بعض محققین راگ درپن تک پہنچا دیتے ہیں جس کے ماہرین میں کئی معاصر سنگیت کار مثلاً سنگ اور سید خان لوہار بھی شامل ہیں  جو امیر خسرو کے سنگیت کے ماہر ہیں (بحوالہ ملک رشید ، 1998)  ۔

خسرو کے سنگیت پر جن سنگیت کاروں نے کام کیے ، انہیں نظر انداز کرنا نامناسب ہو گا ۔ ایسے بیشتر کاموں کی اشاعت خسرو کے سات سو سالہ جشن پر ہوئی ۔ ایک کارنامہ ’’ نغماتِ خسرو ‘‘ کے عنوان سے لاہور کے غلام حیدر نے انجام دیا جس میں خسرو کے نغماتِ جدید ترتیب وار ان ہی کے راگوں اور تالوں میں کمپوز کیے گئے (بحوالہ  غلام حیدر، 1977)۔ دوسری  پیشکش دہلی کے استاد چاند خاں کی تھی جس کا عنوان تھا ’’ موسیقی ِ حضرت امیر خسرو ‘‘ (بحوالہ  استاد چاند خاں ، 1978) ۔ اس میں ستار، طبلہ اور راگوں پر قلبانہ ، سوہلا ، صنم ، غنم وغیرہ جیسے گیت شامل کیے گئے ۔ لیکن چاند خاں کی کتاب کا بیشتر حصہ یہ بتانے کے لیے وقف ہے کہ ہندوستانی سنگیت کے کتنے بڑے حصے کی جڑیں عرب مین موجود ہیں ۔ انہوں نے کئی دیسی راگوں کے عربی متبادل بتائے ہیں ۔ لیکن انہوں نے ان کے ماخذات مفصل بیان نہیں کیے اور شاید اسی وجہ سے علماء نے انہیں سنجیدگی سے نہیں لیا۔ وگرنہ  چاند خاں اور ان کے ورثاء غالباً آج کے عہد کے خسرو کے سنگیت کی ایجادات میں سب سے زیادہ خود کو وقف کیے ہوئے فنکار ہیں ۔

ملک رشید بہرحال خسرو کے بارے میں ان ساری باتوں کو موسیقاروں کی خواہش مندانہ سوچ (wishful   thinking) پر محمول کرتے ہیں جن پر اسکالر آنکھیں بند کرکے یقین کرتے آئے ہیں (بحوالہ  ملک رشید ، 1993)۔  وہ اصرار کرتے ہیں کہ خسرو کی ہندوستانی سنگیت کو کوئی دین ہے ہی نہیں ۔ خسرو اپنی شاعری  کو موسیقی پر فوقیت دیتے ہیں جو ان کے کلام سے واضح ہے  (بحوالہ مدھوتردیدی ، 2004) ۔  ملک ، ترانہ ، قول ، قلبانہ ، زیلف ، فرغانہ ، سرپردہ وغیرہ کو وسطیٰ ایشیا سے خسرو سے پہلے حیات خسرو کے دوران اور اس کے بعد وارد ہونے والی اصناف قرار دیتے ہیں  جو نغمات ، مقامات یا دیگر موسیقانہ اصطلاحات کے نام سے موسوم تھیں ۔ دوسری جانب خسرو کے موسیقی اور ریاض کے بہت سارے ثبوت مل جاتے ہیں ۔  رباب اور چنگ بجانے میں انہیں غیرمعمولی مہارت حاصل تھی اور دوسرے سنگیت کاروں کو سکھا بھی سکتے تھے ۔ خسرو کے نثری  کام ’’ اعجازِ خسروی ‘‘ کے سنگیت کی جڑوں اور شاخوں کے بارے میں لکھتے ہوئے مدھوتردیدی  اور دوسرے سکالر نقل کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ سنگیت کے وہ استعارات و رموز جو اُس عہد میں تھے ، کس قدر پیچیدہ تھے ۔ خسرو کی ہندوستانی سنگیت کی خدمات کا معما اُن کی مفصل تفسیر کیے بغیر حل نہیں کیا جا سکتا ۔

انجام یہ کہ خسرو کی سنگیت کی خدمات  کے بارے میں پیش کیے گئے سب دعووں کو رد نہیں کیا جا سکتا ۔ یہ تحقیق کرنا لازم ہے کہ ان کا آغاز کہاں سے ہوا ۔ ہند فارسی ادب کے مآخذ جو ساری دنیا میں ملتے ہیں انہیں بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ ان کے بغیر خسرو کی سنگیت کی وراثت کو پورے طور پر سمجھنا اور اس کی دادوستائش ممکن نہ ہو گی ۔ تاہم خسرو کی ایک کُلی شبیہہ بنانے کے لیے کسی کو نہ صرف سنگیت اور فنِ موسیقی کا ماہر ہونا پڑے گا بلکہ زبان و ادب کا بھی ایکسپرٹ ہونا ہو گا کیونکہ سنگیت اور ادب ایک دوسرے سے الگ نہیں کیے جا سکتے خصوصاً امیر خسرو کی نگاہوں سے ۔

کتابیات

ملک رشید ، ’’ امیر خسرو کا علم ِ موسیقی ‘‘ ، مجلہ موسیقی  تہران ، مطبوعہ لاہور 2000، ص 223

امیر خسرو ، ’’ دیباچہ غرۃ الکمال ‘‘ ، اردو ترجمہ لطیف اللہ ، کرچی ، 2004

ملک رشید ، ’’ امیر خسرو اساطیر کے نرغے میں ‘‘ ، المعارف لاہور، ادارۂ ثقافتِ اسلامیہ ، مئی تا جون 1993، ص 55 تا ص 79

ملک رشید ، ’’ فقیر اللہ سیف خان کی راگ درپن کا تنقیدی جائزہ ‘‘ ، لاہور ، 1988

نقی  ایم خاں ، خورجوی  ، ’’ حیاتِ امیر خسرو میں ایجادِ موسیقی ‘‘ ، کراچی ، 1980

محمد حسین آزاد، ’’ آبِ حیات ‘‘ ، لاہور ، نول کشور، 1907

مرزا وحید ، ’’ امیر خسرو ‘‘ ، دہلی نیشنل امیر خسرو سوسائٹی ، 1986، ص 74 تا 76

مختلف مصنفین ، ’’ امیر خسرو اور موسیقی ‘‘ (منتخب مضامین ) ، پیش لفظ از فیض احمد فیض ، اسلام آباد، نیشنل کمیٹی برائے سات سو سالہ تقریبات امیر خسرو، وزارت ِ تعلیم ، 1975

افضل پرویز ، ’’ حضرت امیر خسرو اور موسیقی ‘‘ ، اسلام آباد، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فوک ہیریٹج ، جولائی 1975( غیر مطبوعہ تحقیقی رپورٹ)، ص 12

ظ۔ انصاری ، ’’ خسرو کا ذہنی سفر ‘‘ ، دہلی  ، انجمن ترقی اردو ہند ، 1977

ظ- انصاری  اور ابولفیض سحر ، ’’ خسرو شناسی ‘‘ ، دہلی ، ترقی  اردوو بیورو ، 1975

عبدالحلیم جعفر خان ، ’’ خسرو اور ہندوستانی موسیقی ‘‘ ، ایضاً

کیلاش چند برہسپتی ، ’’ مسلمان اور بھارتیہ سنگیت ‘‘ ، دہلی ، راج کمل ، 1974

این اے جیراز بھائی ، ’’ The   Ragas   of   North   Indian   Music ‘‘ ، اسلام آباد ، لوک ورثہ ، 1971

آچاریہ برہستپی ، ’’ بھارتیہ سنگیت کو امیر خسرو کا یوگ دان ‘‘ ، ملک محمد امیر خسرو میں ، دہلی پتامبر ، 1987، ص 266 تا 274

بدرالزماں ، ’’ سدا رنگ ‘‘ ، لاہور، ادارۂ فروغ ِ فن موسیقی ، 1998

ایلن می نائر ، ’’ Sitar   and   Sarod   in   the   18th   and   19th   centuries ‘‘ ، دہلی ، موتی لال ، 1997

غلام حیدر خان ، ’’ نغمات ِ خسرو ‘‘ ، لاہور، مشرقی میوزک سینٹر ، 1977

استاد چاند خاں ، ’’ موسیقی ِ حضرت امیر خسرو ‘‘ ، دہلی  ، موسیقی منزل ، 1978

مدھوتردیدی ، Music   patronage   in   Indo-Pesian   Context:   An   Historical   Overview ، 2004

http://Music   patronage   in   Indo-Pesian   Context:   An   Historical   Overview ، 2004

(http://yousufsaeed.com)

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *