• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • جوزف بائیڈن کی جیت سے امریکی اسٹبشلمنٹ کا خوف ظاہر ۔۔محمد سلمان مہدی

جوزف بائیڈن کی جیت سے امریکی اسٹبشلمنٹ کا خوف ظاہر ۔۔محمد سلمان مہدی

SHOPPING

گو کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی شکست تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے نتائج چیلنج کرنے کا کہہ رہے ہیں، لیکن بڑے امریکی ذرائع ابلاغ نے امریکی صدارتی الیکشن میں  ڈیموکریٹک رہنماء جوزف بائیڈن کو فاتح قرار دے دیا ہے۔ سات نومبر کو دنیا بھر سے حکمران شخصیات نے بائیڈن کو صدر منتخب ہونے کی مبارکباد بھی دے ڈالی۔ یعنی بظاہر جوبائیڈن صدر اور کمالا ہیرس نائب صدر کا انتخابی معرکہ جیت چکے ہیں۔ امریکا کے فیڈرل الیکشن کمیشن کی خاتون رکن ایلن وینٹراب کا کہنا ہے کہ الیکشن میں جعلسازی (دھاندلی) کے شواہد نہیں ملے لیکن ٹرمپ کی الیکشن مہم چلانے والوں نے دھاندلی کی نوعیت اور تفصیلات جاری کیں ہیں۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو صدارتی الیکشن 2020ء ٹرمپ کے حامیوں کے لیے 1876ء کے فراڈ آف دی سینچری صدارتی الیکشن جیسا ہی صدی کا فراڈ ہے۔ لیکن ڈیموکریٹک پارٹی کے حامیوں کے لیے یہ صورتحال 1932ء کے صدارتی الیکشن جیسی ہے، جب ری پبلکن صدر ہربرٹ ہوور بھی ڈیموکریٹک امیدوار ایف ڈی آر یعنی فرینکلن ڈیلانو روزویلٹ کے مقابلے میں صدارتی الیکشن ہار گئے تھے۔ اس تحریر کے لکھے جانے تک ان کے آخری تین ٹویٹس میں انہوں نے خود کو الیکشن کا فاتح اور ریکارڈ سات کروڑ دس لاکھ قانونی ووٹ لینے والا قرار دیا۔ انہوں نے دھاندلی کا الزام بھی دہرایا۔ اب ٹرمپ اور ان کی جماعت الیکشن 2020ء کے نتائج کے خلاف عدالتی چارہ جوئی پر اصرار کرتے ہیں یا ہیلری کلنٹن کی طرح شکست تسلیم کرتے ہیں، اس کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔

چونکہ امریکی صدارتی نظام میں الیکشن کے بعد نئے صدر کی صدارت کا آغاز 20 جنوری کی دوپہر سے ہوتا ہے، اس لیے فریقین اور متعلقہ اداروں کے پاس جعلی ووٹوں اور الیکشن دھاندلی سے متعلق دیگر شکایات پر فیصلہ کرنے کے لیے کچھ وقت باقی ہے۔ البتہ پوری دنیا میں امریکی الیکشن 2020ء کی شفافیت سے متعلق شکوک و شبہات برقرار ہیں۔ یونائٹڈ اسٹیٹس آف امریکا کو ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارت کے چار سالہ دور میں دفنا کر رکھ دیا اور شاید جاتے جاتے بھی پورے امریکی انتخابی نظام کی ساکھ کو بھی چیلنج کرگئے۔ جوزف بائیڈن صدر بن بھی گئے تو ڈونلڈ ٹرمپ کے دھاندلی کے الزامات کی بازگشت اگلے چار سال تک انہیں سنائی دیتی رہے گی۔ البتہ ٹرمپ جاتے جاتے اور بھی بہت سے موضوعات پر ایک نہ ختم ہونے والی بحث کا آغاز کرچکے ہیں۔ ٹرمپ امریکی ڈیپ اسٹیٹ یا اسٹیبلشمنٹ سے نواز شریف کی طرح یہ سوال کر رہے ہوں گے کہ مجھے کیوں نکالا اور ڈیپ اسٹیٹ کا کوئی طاقتور کردار کہہ رہا ہوگا: میں نہیں بتاؤں گا۔ لیکن ہم 18 اکتوبر 2020ء کو اسلام ٹائمز کے انہی صفحات پر ڈونلڈ ٹرمپ کی جگہ جوزف بائیڈن امریکی صدر؟ کے عنوان سے بتا چکے تھے کہ بائیڈن کی جیت امریکی اسٹبلشمنٹ کے خوف کی علامت ہوگی، یعنی امریکی اسٹبلشمنٹ دنیا کے ردعمل سے خوفزدہ ہے، ورنہ ٹرمپ نے زایونسٹ اسرائیلی مفاد میں جتنے بڑے عملی اقدامات کیے، اس کی بنیاد پر امریکی ڈیپ اسٹیٹ کی جیوش لابی پر لازم تھا کہ اگلے چار برس بھی ٹرمپ ہی کو صدر بنائے رکھتی۔ اتنی خدمات کے ہوتے ہوئے ٹرمپ پر بائیڈن کو ترجیح دینے کے پیچھے امریکا میں طاقت کے پس پردہ اور اصلی مراکز کا خوف تھا۔

داخلی وجوہات بھی ہیں، لیکن ہم اس تحریر میں خارجی عوامل کو فوکس کر رہے ہیں۔  ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی مفاد میں فلسطین، اس کے دوست ممالک اور مسلح قومی مزاحمتی و مقاومتی تحریکوں کے خلاف سخت ترین عملی اقدامات کیے۔ متحدہ عرب امارات، بحرین اور سوڈان سے اسرائیل کو تسلیم کروا لیا۔ سب سے پہلے امریکا کا نعرہ لگا کر ٹرمپ نے اسرائیل کو امریکا سے پہلے کر دیا۔ بین الاقوامی معاہدوں اور اداروں سے امریکا کو دستبردار کروا دیا۔ چائنا کے ساتھ تجارتی جنگ چھیڑ دی۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری سی پیک منصوبہ ختم کروانے کے لیے پاکستان پر دباؤ بڑھا دیا۔ امریکی نیشنل سکیورٹی ڈاکٹرائن اور خارجہ پالیسی میں محض ایک آدھ موقف ایسا ہوگا کہ جس پر بائیڈن اور ٹرمپ کے مابین اختلاف ہو، ورنہ انیس بیس کے فرق سے دونوں کا ہدف ایک ہی ہے۔ ٹرمپ کے امریکا نے ماحولیاتی تبدیلی کے بین الاقوامی معاہدے اور ایران نیوکلیئر ڈیل سے دستبرداری کا اعلان کیا۔ بائیڈن اگر ان دو معاہدوں میں امریکا کی واپسی کی بات کرتے ہیں، تب بھی ان کا ہدف چین اور ایران پر دباؤ بڑھانا ہے۔ چین پر توانائی کے شعبے میں کاربن کے اخراج کا الزام بائیڈن کی خارجہ پالیسی کا جزو لاینفک ہے اور اسی ایشو کو انہوں نے بیلٹ روڈ انیشی ایٹیو سے بھی نتھی کر دیا ہے اور اسی بیلٹ روڈ چینی منصوبے کا ایک حصہ سی پیک منصوبہ بھی ہے۔ یعنی اب پاکستان کی بھی خیر نہیں ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی یا کلائمیٹ چینج سے متعلق قوانین کو بہانہ بنا کر جو بائیڈن کا امریکا بھی چین اور پاکستان پر دباؤ ڈالے گا۔ شمالی کوریا کے حوالے سے بائیڈن چائنا سے تعاون کی درخواست کرے گا۔

چین فیکٹر کی وجہ سے جوزف بائیڈن کا امریکا نریندرا مودی کے بھارت کو بدستور اہمیت دے گا۔ ساتھ ساتھ امریکا کے دیگر روایتی اتحادی جاپان، جنوبی کوریا اور آسٹریلیا کو بھی چین کی سمندری حدود کے آس پاس کے علاقوں اور گذرگاہوں میں وہی حیثیت اور اہمیت دی جاتی رہے گی، جو ٹرمپ نے دی۔ بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے نہ صرف جو بائیڈن کو مبارکباد دی ہے بلکہ نائب صدر منتخب ہونے والی کمالا ہیرس کو الگ سے بھی مبارکباد دی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ کمالا ہیرس ماں کی طرف سے بھارتی نژاد ہیں۔ مودی ان کی کامیابی کو بھارتی نژاد امریکی کمیونٹی کی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ روس کے حوالے سے بھی جو بائیڈن اسی نوعیت کی دوغلی و دہری پالیسی پر عمل کریں گے، جیسی چین، پاکستان اور ایران کے لیے ہے۔ یوکرین اور جارجیا سمیت اس طرف کے خطے یعنی ٹرانس اٹلانٹک خطے میں روس کے اثر و رسوخ کو ختم کرنے کے لیے جمہوریت کا پرانا راگ الاپنے کی تیاریاں مکمل ہیں۔ جو بائیڈن نے امریکا کے روایتی یورپی اتحادیوں کے ساتھ مل کر انتخاباتی عمل کی ساکھ کے لیے ایک نیا اتحاد قائم کیا ہے۔ ٹرانس اٹلانٹک کمیشن آن الیکشن انٹیگریٹی کے نام سے یہ اتحاد سال 2018ء میں قائم ہوا اور بائیڈن اس کے بانی اراکین میں سے ہے۔ صدر ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے بھی اس اتحاد میں شامل ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو چاہیئے کہ وہ امریکی صدارتی الیکشن میں اس کمیشن کی پس پردہ مداخلت کی تحقیقات کروائیں، مبادا بائیڈن نے روس کے اثر و رسوخ کو روکنے کے بہانے ٹرمپ پر تو یہ حربہ نہیں آزما لیا، جو روس کے اتحادی ملکوں کے حکمرانوں اور حکمران جماعتوں پر آزما کر انہیں ہروانا تھا۔

جو بائیڈن نے اسرائیل کی سکیورٹی کے حوالے سے آہنی عزم کا اعادہ کیا۔ اسی تناظر میں ان کے دیگر انتخابی وعدوں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ایران نیوکلیئر ڈیل میں امریکا کی واپسی بھی اسی ارادے سے ہوگی، زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈال کر ایران کو مجبور کیا جائے کہ وہ اسرائیل کی مخالفت سے باز رہے۔ دو وعدے ایسے ہیں کہ جن پر مکمل عمل بے حد مشکل ہے۔ بائیڈن نے افغانستان اور یمن میں ہمیشہ کی جنگیں ختم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اس ضمن میں یمن پر سعودی جنگ کی حمایت سے امریکا کی دستبرداری اور افغانستان سے امریکی فوجی انخلاء کا بھی کہا ہے۔ حالانکہ ایف پاک کی اصطلاح کے تحت پاکستان کو بھی افغانستان کے ساتھ نتھی کرنے والی انہی کی ڈیموکریٹک اوبامہ حکومت تھی، جس میں بائیڈن خود نائب صدر تھے۔ بائیڈن کے اعلانات اور وعدے اپنی جگہ، یہ سوال اپنی جگہ جواب طلب ہوگا کہ ٹرمپ کو کیوں نکالا؟ یہ سارے کام ٹرمپ تو ریکارڈ تیزی کے ساتھ انجام دینے کی صلاحیت ثابت کرچکا تھا۔ پھر اس پر بائیڈن کو فوقیت دینے کا سبب کیا ہوسکتا ہے تو اس کا جواب ہم 18 اکتوبر 2020ء کی تحریر میں پیشگی عرض کرچکے تھے کہ ممکن ہے کہ اب امریکا دنیا کے ردعمل سے خوفزدہ ہوکر بائیڈن کو لائے کہ جو بداچھا بدنام برا کے مصداق اسی ایجنڈا پر چرب زبانی کے بغیر کام انجام دے۔

ٹرمپ امریکا کا ان گائیڈڈ سیاسی میزائل تھا، جو بظاہر کامیاب حملے کیا کرتا تھا۔ مگر ایران کے خلاف اس نے دو تین بڑے ناکام خودکش حملے کیے۔ نیوکلیئر ڈیل سے یکطرفہ دستبرداری بھی ایسا ہی ایک ناکام خودکش ٹرمپ امریکی حملہ تھا۔ ممکن ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی اور کمانڈر ابو مھدی مھندس کو عراق میں غیر قانونی حملے میں شہید کرنا بظاہر ٹرمپ حکومت کی کامیابی تصور کی جائے، لیکن اس کے جواب میں ایران نے عین الاسد عراق میں امریکا کے زیر استعمال فوجی اڈے پر میزائل برسا کر امریکی تنصیبات کو کباڑی کے اسکریپ میں تبدیل کیا، یہ امریکا کی سپرپاور حیثیت کی موت کا سرٹیفیکیٹ تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے کسی ملک نے اعلانیہ اس طرح امریکا پر دفاعی فوجی حملہ نہیں کیا تھا۔ جو بائیڈن اس زندہ درگور امریکا کے سپرپاور اسٹیٹس یا عالمی سیاسی منظر نامے میں امریکا کی قائدانہ حیثیت کی بحالی کے لیے لائے گئے ہیں۔ یاد رہے خوفزدہ امریکی ڈیپ اسٹیٹ نے ایجنڈا تبدیل نہیں کیا ہے، محض امیج بہتر کرنے کی ایک کوشش کی ہے، جو ناکام بھی ہوسکتی ہے۔

SHOPPING

بشکریہ اسلام ٹائمز

SHOPPING

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *