قومیں اپنی ثقافت کی محافظ اور امین ہوتی ہیں۔

میں نے اوڑھی ہے تیرے پیار کی اجرک ایسے
اب میں سندھ چھوڑ کر کہیں اور نہیں جا سکتا

قومیں اپنی ثقافت کی محافظ اور امین ہوتی ہیں۔
جس طرح ہم سندھی بھائیوں کی ثقافت ہے اسی طرح پنجابی، پٹھان، سرائیکی، بلوچی، ہزارہ اور بروہی بھائیوں کی بھی اپنی اپنی ثقافت موجود ہے۔ بلکہ حقیقت میں تو بلوچ، سندھ، پنجاب اور خیبر کی مشترکہ ثقافت ہی پاکستان کی ثقافت اور پہچان ہے۔

سندھی ثقافت کا دن منانے میں تمام سیاسی جماعتوں کی شرکت ایک خوش آئند اقدام ہے ۔ پاکستان قدرت کا ایک انمول تحفہ ہے لیکن اس وقت پاکستان کے چاروں صوبے ایک دوسرے سے کسی نہ کسی طرح تعصب کا شکار ہیں۔ اس عصبیت کا شکار سندھی، پٹھان، پنجابی، بلوچی، مہاجر سب ہیں۔ پورے ملک میں دہشت گردی عروج پر ہے۔ ہر طرف لاشیں گر رہی ہیں ۔پاکستان میں ہر سال ہزاروں عورتیں غیرت کے نام پر قتل ہو جاتی ہیں اور ان میں ایک بڑی تعداد صوبہ سندھ میں ”کاروکاری“ کے نام پر قتل ہونے والی خواتین کی ہے۔

جس سندھی ٹوپی کا دن جوش و خروش سے منایا گیا وہی ٹوپی سندھ کی ان غیرتمند ماﺅں، بہنوں کی اکثریت تیار کرتی ہے جو غیر کاروکاری کا شکار ہوتی ہیں۔ کیا اس دن کسی نے اُن خواتین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار بھی کیا ؟

کیوں نہ حکومت اور تمام سیاسی جماعتیں اکٹھی ہو کر پاکستان کی مشترکہ ثقافت کا دن منائیں اور اُس دن یہ تہیہ کرلیں کہ آئندہ پاکستان کو ہر قسم کے تعصب اور جاہلانہ رسومات سے پاک کیا جائے گا۔ اس وقت ہماری قوم کو یکجہتی اور اخوت کی سطحی باتوں سے نکل کر حقیقی یکجہتی، اخوت اور قومی اتحاد کی اشد ضرورت ہے۔
#مُساعدات

حمزہ حنیف مساعد
حمزہ حنیف مساعد
مکالمے پر یقین رکهنے والا ایک عام سا انسان

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *