پتے میں غوطہ ۔ زندگی (12) ۔۔وہاراامبار

ذرا ایک سیکنڈ کے لئے آسمان کی طرف نگاہ ڈالیں۔ اس اثنا میں آپ کی آنکھ سے ایک لاکھ چھیاسی ہزار کا روشنی کا کالم ٹکرایا ہے۔ اسی ایک سیکنڈ میں زمین کی نباتات اور فوٹوسنتھیسز کرنے والے مائیکروب اس شمسی روشنی کے ستون کو استعمال کرتے ہوئے سولہ ہزار ٹن نیا نامیاتی مادہ بنا چکے ہیں جو درختوں، گھاس، گلاب اور سیب وغیرہ کی شکل میں ہے۔ اس سب عمل میں پہلا قدم کیسے ہوتا ہے؟ اس کے لئے اپنی ننھی سے آبدوز سے پتے کے غوطہ لگاتے ہیں۔

اندر کی جگہ کشادہ ہے اور سبز خلیوں کے فرش کے اوپر سے سلنڈریکل تاریں گزر رہی ہیں۔ یہ پتے کی رگیں ہیں جہاں سے پانی اور شوگر کا تبادلہ ہوتا ہے۔ اب ہم اپنا سائز مزید کم کر کے دس نینومیٹر کرلیتے ہیں۔ سبز خلیہ اب بڑے سٹیڈیم کی طرح نظر آ رہا ہے۔ اس کی سطح پر رسیاں سی بچھی ہیں۔ فرش ویسا ہے جیسے موٹے پٹ سن کا قالین۔ یہ خلیاتی دیوار ہے۔ اب اس کو کاٹتے ہوئے ہم اس کے اندر گھس کر خلیے کی ممبرین تک جا پہنچے۔ یہ خلیے کے اندرون اور بیرون کو جدا کرنے کی آخری رکاوٹ ہے۔ اس کو قریب سے دیکھا تو ہمیں پانی سے بھرے سوراخ نظر آئے۔ یہ خلیے کی پلمبنگ کا کام ہے۔ ان کو پورِن کہا جاتا ہے۔ اس پورِن کے قریب کھڑے ہو گئے۔ یہاں سے غذائی اجزاء اندر جاتے ہے اور فاضل مادہ باہر آتا ہے۔ اس چینل سے اندر داخل ہونے کے بعد ہمیں فوری نظر آ گیا کہ اندرون اور بیرون میں بڑا فرق ہے۔ باہر کی سادگی، کشادہ جگہ اور سیدھ میں لگے گئے ستونوں جیسا ماحول نہیں۔ یہ بڑے رش اور گڑبڑ والی مصروف جگہ لگتی ہے۔ گاڑھا سیال، سائیٹوپلازم بھرا ہوا ہے جو گاڑھا ہے۔ کئی جگہوں پر کسی جیلی جیسا۔ اور اس میں عجیب عجیب شکلوں کے ہزاروں آبجیکٹ ہیں جو مسلسل حرکت میں نظر آ رہے ہیں۔ یہ پروٹین انزائم ہیں۔ اور خلیے کے میٹابولک پراسسز کے ذمہ دار۔ غذائی اجزاء کو کو توڑتے ہیں اور کاربوہایڈریٹ، ڈی این اے، پروٹین اور فیٹ جیسے بائیومالیکیول بناتے ہیں۔ ان میں سے کئی انزائم تاروں کے جال (سائیٹوسکیلیٹن) سے منسلک ہیں۔ یہ تاریں ویسی ہیں جیسے کسی چیئرلفٹ کی تاریں ہوں۔ اور ان پر بہت سا سامان خلیے کے ایک حصے سے دوسرے میں منتقل ہو رہا ہے۔ ٹرانسپورٹ کا یہ نیٹ ورک کئی مراکز سے نکلتا محسوس ہوتا ہے۔ یہاں پر تاریں بڑے سبز کیپسولوں کے ساتھ بندھی ہوئی ہیں۔ یہ کیپسول کلوروپلاسٹ ہیں اور یہ فوٹوسنتھیسز کے عمل کا مرکز ہے۔

ہم اپنی آبدوز کو گاڑھے سیال میں سے مشکل سے گزارتے ہوئے قریب ترین کلوروپلاسٹ تک پہنچ گئے۔ یہاں پر ہمارے نیچے ایک بڑا سا سبز غبارہ ہے۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اس پر شفاف ممبرین ہے جس سکے جیسی سبز اشیاء کے بڑے ڈھیر نظر آ رہے ہیں۔ یہ تھائیلاکوائیڈ ہیں۔ اور کلوروفل کے مالیکیول سے بھرے ہوئے ہیں۔ یہ وہ پگمنٹ ہے جس کی وجہ سے پودے سبز ہیں۔ تھائیلاکوائیڈ فوٹوسنتھیسز کا انجن ہیں۔ فوٹون کا ایندھن استعمال کرتے ہوئے ہوا سے جذب کردہ کاربن کے ایٹموں کو جھٹکا دیتے ہیں اور ہمارے سیب کے لئے شوگر تیار ہوتی ہے۔ ہم اپنی آبدوز اس میں سے سب سے اوپر والے سبز سکے کی طرف لے گئے۔ یہ ہماری منزل تھی۔ فوٹوسنتھیسز کے ایکشن کا پاور ہاوٗس۔ دنیا کا بائیوماس بنانے والی فوٹوسنتھیسز کی مشینوں میں سے ایک۔

یہاں پر بھی ہمیں نظر آیا ہے کہ اگرچہ بہت سے بے ہنگم مالیکیولر ٹکراوٗ جاری ہیں لیکن بہت متاثرکن ترتیب بھی ہے۔ تھائیلاکوائیڈ کی سطح میں سبز جزیرے ہیں جس میں درختوں جیسے سٹرکچر کا جنگل ہے اور کسی اینٹینا کی طرح کے پلیٹیں لگی ہیں۔ یہ اینٹینا روشنی پکڑنے والے مالیکیول ہیں جنہں کروموفور کہا جاتا ہے۔ اس کی سب سے مشہور مثال کلوروفل کی ہے اور یہاں پر فوٹوسنتھیسز کا سب سے پہلا اور اہم کام سرانجام پاتا ہے۔ یعنی روشنی پکڑنا۔

ڈی این اے کے بعد زمین پر شاید دوسرا سب سے اہم مالیکیول کلوروفل ہے۔ مرکز میں میگنیشیم کے ایٹم کو زیادہ تر کاربن اور نائیٹروجن نے گھیرا ہوا ہے۔ اور کاربن، آکسیجن اور ہائیڈروجن کی لمبی دم ہے۔ میگنیشیم کے ایٹم کے سب سے باہر الیکٹران ڈھیلا ڈھالا سا بندھا ہوا ہے اور بہت آسانی سے آزاد کروا کے اپنا گھیرا کئے کاربن کے پنجرے میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ یہ کام شمسی توانائی کے فوٹون کو جذب کر کے ہو سکتا ہے۔ اب یہاں پر الیکٹران کا سوراخ رہ جائے گا جسے ایک مثبت چارج والا سوراخ سمجھا جا سکتا ہے۔ فوٹون نے ٹکرا کر ایک مثبت سوراخ پیدا کیا اور بھاگے ہوئے الیکٹران کی وجہ سے اس کے گرد منفی چارج۔ یہ سسٹم ایکسائیٹون کہلاتا ہے اور اس کو چھوٹی سی بیٹری سمجھا جا سکتا ہے جو توانائی کو بعد میں کسی اور کام کے لئے سٹور کرنا ممکن کرتا ہے۔

ایکسائیٹون مستحکم نہیں اور اگر یہ الیکٹران اور سوراخ اگر الیکٹروسٹیٹک کشش کی وجہ سے آپس میں مل گئے تو اصل فوٹون سے لی گئی توانائی حرارت کی صورت میں ضائع ہو جائے گی۔ پودے کو توانائی کے لئے اس ایکسائیٹون کو بہت جلد مالیکیولر مینوفیکچرنگ یونٹ میں لے کر جانا ہے جسے ری ایکنشن سنٹر کہا جاتا ہے۔ یہاں پر توانائی والی الیکٹران کو ایٹم سے مکمل طور پر الگ کر کے پڑوسی مالیکیول کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔ اس سے ایک مستحکم بیٹری وجود میں آتی ہے (NADPH) جسے فوٹوسنتھیسز کے کیمیائی ری ایکشن کو چلانے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

لیکن ری ایکشن سنٹر قریب نہیں۔ راستے میں توانائی نے اس جنگل میں اینٹینا کے ایک مالیکول سے دوسرے میں منتقل ہوتے ہوئے ری ایکشن سنٹر پہنچنا ہے۔ کلوروفل کے ٹائٹ سٹرکچر کی وجہ سے اس کے ایک سے اگلے مالیکیول تک ہوتی ہوئی منزل تک جا پہنچتی ہے۔ اور اب یہاں پر مسئلہ ہے۔

راستہ کونسا لینا ہے؟ اگر یہ غلط سمت کو نکل جائے تو پھر جنگل میں گم جائے گی۔ کہاں جائے؟ کس سمت موڑ کاٹے؟ راستہ بہت لمبا نہیں ہو سکتا ورنہ ایکسائیٹون کی معیاد پوری ہو جائے گی۔ یہ واپس الیکٹران جذب کر لے گا۔

یہ سمجھا جاتا تھا کہ توانائی جس طریقے سے کلوروفل کے ایک مالیکیول سے دوسرے تک پھدکتی ہے، یہ رینڈم ہے۔ یہ راستہ ڈھونڈنے کا سب سے ناقص طریقہ ہے۔ اس کو رینڈم چال یا شرابی کی چال کہا جاتا تھا۔ اگر شرابی کا گھر دور نہیں تو وہ کبھی نہ کبھی لڑکھڑاتا ہوا اس تک پہنچ جائے گا لیکن اس طریقے سے ڈھونڈنے میں فاصلے میں معمولی سا اضافہ بھی کارکردگی پر بڑا اثر ڈالے گا۔

اور یہی وجہ ہے کہ جراثیم ہوں یا جانور، کبھی بھی رینڈم چال کا طریقہ خوراک یا شکار ڈھونڈنے کے لئے نہیں اپناتے۔ یہ صرف اس وقت اپنایا جاتا ہے جب کچھ اور میسر نہ ہو۔ مثلاً، ایک چیونٹی خوراک کی تلاش میں اِدھر اُدھر پھر رہی ہے تو جیسے ہی اسے خوشبو سنگھائی دے گی تو یہ طریقہ چھوڑ کر سیدھا اس کی طرف جائے گی۔ اس رینڈم مٹرگشت کو منزل کی طرف جانے والی چال میں تبدیل کئے جانا زندگی کے نظام کے لئے ضروری ہے۔

اب اس ایکسائیٹون کے پاس نہ ہی ناک ہے اور نہ ہی راستہ تلاش کرنا آتا ہے تو یہی خیال تھا کہ کلوروفل کے جنگل میں اس کی حکمتِ عملی سوائے لڑکھڑانے کے کوئی اور نہیں ہو سکتی۔ جبکہ مسئلہ یہ تھا کہ اس جواب کی کوئی تُک نہیں بنتی تھی۔ کیونکہ یہ نتائج سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ فوٹوسنتھیسز بہت ہی ایفی شنٹ عمل ہے۔ اینٹینا سے ری ایکشن سنٹر تک توانائی پہنچانے کی شرح سو فیصد کے قریب ہے۔ توانائی کے تقریباً تمام پارسل منزل تک پہنچ جاتے ہیں۔ جبکہ لڑکھڑاتی چال کی صورت میں اس کی کارکردگی بہت ہی ناقص ہونی چاہیے تھی۔ شاید ہی کوئی پہنچ پاتا۔

تو پھر یہ فوٹوسنتھیسز کی یہ توانائی منزل کیسے تلاش کر لیتی ہے؟ کسی شرابی، چیونٹی یا توانائی کی ہماری بنائی بہترین ایفی شنسی رکھنے والی ٹیکنالوجی سے بھی کہیں بہتر؟ تقریباً صفر فیصد کے بجائے یہ سو فیصد کیوں ہے؟ یہ بائیولوجی کا بڑا معمہ تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پتوں میں ہونے والی کوانٹم پراسسنگ کے خیال پر گراہم فلیمنگ ایک تحقیاتی ٹیم کی سربراہی کر رہے ہیں۔ اس کا طریقہ 2D-FTES کہلاتا ہے۔ یہ مختصر مدت کی لیزر نبض سے چھوٹے سے چھوٹے مالیکیول کو نشانہ بنانے کا طریقہ ہے۔ ان پر تین نبضیں یکے بعد دیگرے پھینکی جاتی ہیں اور ڈیٹکٹر سے سگنل کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ گریگ اینگل نے رات دن ایک کر کے سگنلز کا ڈیٹا اکٹھا کر کے نتائج کو پلاٹ کیا۔ انہیں نظر آنے والے نتائج ویسے تھے جیسا ڈبل سلٹ تجربے میں روشنی کے پیٹرن نظر آتے ہیں۔ انہیں یہ بتا رہے تھے کہ ایکسائیٹون کلوروفل کے بھول بھلیوں میں سے ایک راستہ نہیں لیتا۔ یہ بیک وقت تمام راستوں پر جاتا ہے! یہ ویسے نظر آتے ہیں جیسے گٹار کی دھنوں کے نوٹ ٹیون ہو رہے ہوں۔

یاد رہے کہ کوانٹم کوہرنس بہت نازک ہے اور اسے برقرار رکھنا غیرمعمولی طور پر مشکل۔ کیا جراثیم اور پودے وہ کام کر رہے تھے جو ایم آئی ٹی میں کوانٹم کمپیوٹنگ کے بہترین محققین کے لئے مسئلہ ہے؟ یعنی کوانٹم ڈی کوہرنس کو دور رکھنا؟

جی، فلیمنگ کے پیپر کا یہی بڑا دعویٰ تھا۔ اور یہ وہ دعویٰ تھا جس کو سن پہلی بار سن کر کوانٹم گپ بازی کہہ کر ایم آئی ٹی کے سائنسدان ہنس پڑے تھے۔ فلیمنگ کا گروپ یہ تجویز کر رہا تھا کہ پودے کی ایف ایم او پروٹین کوانٹم کمپیوٹر کی طرح کام کر کے کمپیوٹر سائنس کا مشہور ۔۔ سفر کرتے سیلزمین کا مسئلہ ۔۔ حل کر رہی تھی۔

لیکن اس گروپ نے اسے ہنس کا ٹال دینے کے بجائے اس کو تحقیق کرنے کا فیصلہ کیا اور نتائج سب کے لئے حیران کن تھے۔ ایف ایم او کمپلیکس میں کوانٹم دھڑکن کے دستخط تھے۔ لائیڈ نے نتیجہ نکالا کے کلوروفل کے مالیکیول راستہ ڈھونڈنے کا اچھوتا طریقہ استعمال کر رہے ہیں جسے کوانٹم چال کہا جاتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لیکن ابھی شک دور نہیں ہوا تھا۔ یہ نتائج اب کئی جگہوں پر پڑھے جا رہے تھے اور اعتراض اٹھ رہے تھے۔ پہلا یہ کہ تجربات بہت کم درجہ حرارت پر ایک بیکٹیریا کے ساتھ کئے گئے تھے۔ ان کو عام درجہ حرارت پر اور نباتات پر کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے؟ برطانیہ میں 2009 میں فوٹوسنتھیسز کے ایک اور سسٹم (لائیٹ ہاروسٹنگ کمپلییکس ٹو) پر ہونے والے تجزیے نے یہی نتائج دئے۔ یہ سسٹم نباتات سے قریب تھا۔ 2010 میں آبی الجی پر کینیڈا میں کوانٹم دھڑکن مل گئی۔ اور بالآخر کیلے فورنیا میں فلیمنگ کی لیبارٹری نے پالک کے پودے پر یہی نتائج حاصل کر لئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ اس عمل کا آغاز تھا۔ اس سے بھی دلچسپ یہ ری ایکشن سنٹر کے اندر جا کر ہو جاتا ہے۔ یہاں کوانٹم دنیا کا ایک اور بہت اچھوتا پراسس آکسیڈیشن کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ پانی میں الیکٹران مضبوطی سے پکڑے گئے ہوتے ہیں۔ یہاں آکسیڈیشن کے عمل میں الیکٹران پانی سے حاصل کئے جاتے ہیں یعنی پانی کو “جلایا” جاتا ہے اور یہ قدرتی دنیا میں واحد ایسا عمل ہے جہاں پانی کے ساتھ ایسا ہوتا ہو۔

یہاں سے لے کر روبسکو انزائم کے ٹوٹ کر شوگر بننے کا سفر ۔۔ ہوا، پانی اور دھوپ کے ملاپ سے سیب کا ٹشو بننے کا سفر ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جانوروں کا تنفس اور پودوں کا فوٹوسنتھیسز بنیادی طور پر بہت مختلف نہیں ہیں۔ فرق وہاں پر آتا ہے کہ پودے کاربن ہوا سے لیتے ہیں جبکہ جانور دوسرے نامیاتی ذرائع سے۔ دونوں کو بائیومالیکیول بنانے کے لئے الیکٹران درکار ہیں۔ ہم نامیاتی مالیکیول جلا کر انہیں حاصل کرتے ہیں جبکہ پودے پانی کو جلا کر۔ دونوں کو توانائی کی ضرورت ہے۔ ہم زیادہ توانائی والے الیکٹرونز کو ریسپائیریٹری انزائم کی پہاڑی سے گرا کر جبکہ پودے شمسی فوٹون سے توانائی کشید کر کے۔ یہ سب بنیادی ذرات کی حرکات ہیں جو کوانٹم رولز کے تابع ہیں۔ لگتا ہے کہ زندگی ہمیشہ سے کوانٹم پراسس پر انحصار کرتی رہی ہے۔

کوانٹم کوہرنس کی دریافت پودوں اور جراثیم جیسے گرم، گیلے اور مصروف نظاموں میں ملنا کوانٹم فزکس میں کام کرنے والوں کے لئے بڑا شاک تھا۔ اب تحقیق کا ایک کام اس پر کیا جا رہا ہے کہ دریافت کیا جا سکے کہ جاندار یہ آخر کر کیسے لیتے ہیں۔ کیا مستقبل کے کوانٹم کمپیوٹر انتہائی سرد کمروں میں چلنے کے بجائے لوگوں کی میزوں تک بھی پہنچ سکیں گے؟ کیا شمسی توانائی سے حاصل کردہ توانائی کی ایفی شنسی دگنی یا اس سے بھی زیادہ کی جا سکتی ہے؟ بائیولوجی ہماری دنیا کے بڑے مسائل حل کرنے اور صاف توانائی حاصل کرنے میں بہت مدد کر سکتی ہے۔

کوانٹم دنیا ہمیں عجیب لگتی ہے اور کئی بار کہا جاتا ہے کہ اس کا عجیب لگنا اس کی علامت ہے کہ کوانٹم دنیا اور کلاسیکل دنیا میں کوئی تفریق ہے لیکن حقیقت میں دنیا پر حکومت صرف کوانٹم قوانین کی ہی ہے۔ صرف یہ کہ ڈی کوہرنس کا عدسہ اس میں سے عجیب چیزیں چھان دیتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ ہمیں شروڈنگر کے پیش کردہ خیال کی اہمیت کا بتاتا ہے۔ جانداروں کے لئے ترتیب صرف بے ترتیبی سے نہیں، ترتیب سے بھی نکلتی ہے اور کوانٹم فینامینا میکروسکوپ دنیا میں ایمپلی فائی ہو جاتی ہے۔ کوانٹم چال اس کی صرف مثال ہے۔ اس میں زندگی کوانٹم اور کلاسیکل دنیا کے درمیان میں کھڑی نظر آتی ہے۔ اور یہ اس کی سمجھ میں حالیہ برسوں میں ہونے والی پیراڈائم شفٹ ہے۔

اب اپنی توجہ ایک اور سوال کی طرف کرتے ہیں۔ سیب کے پھول تک پولن لانے والے کیڑے نے اس پھول کو ڈھونڈا کیسے تھا؟ اس کا جواب قوتِ شامہ میں ہے۔

(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *