صبر کیا؟ کب؟ اور کیسے؟۔۔اشفاق احمد

اس موضوع کے بہت سے پہلو ہیں، میں صرف ایک پہلو پر بات کرونگا۔ زندگی کے نشیب و فراز سے جب شناسائی ہوئی  تو تین لفظوں صبر، شکر اور امتحان پر بہت سوچا۔ کچھ اشکالات تھے جو بہت پریشان کرتے تھے۔ صبر کو برداشت کے معنی میں لیا تو خود کو بارہا قائل کرنے کی کوشش کی لیکن اندر کا انسان قائل نہیں ہو پاتا تھا۔ بڑوں کے وعظ میں تکرار کے ساتھ صبر کی تلقین مزید مایوس کرتی تھی۔ دراصل انسان کا معاملہ بھی عجیب ہے۔ یہ زندگی کی کھوج میں جب بھی نکلتا ہے تو اس کا واسطہ دنیا میں اپنے وجود کے حوالے سے ان تین لفظوں سے لازمی پڑتا ہے، ، صبر، شکر اور امتحان۔

میں دوسروں کی بات نہیں کرونگا کیونکہ ہر ایک کا زاویہ نظر مختلف ہے۔ میں صرف اپنے سفر کی روداد آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ صبر کو برداشت کے معنی میں جب لیا تو یہ لفظ مزید ہولناک لگا۔ برداشت کے لیے بڑا دل گردہ درکار ہوتا ہے اور معصوم سے ذہن میں یہ سوال بارہا اُبھرتا تھا کہ برداشت کا حاصل سے کیا جوڑ؟ جب آپ کسی الجھن میں ہوں اور ایسی الجھن جو آپ کو تھکا کر رکھ دے، ایسے میں موٹیویشن کی ہر بات بھی بیکار ہی رہتی ہے۔ یہ ایسا ہے گویا کسی میراتھن ریس میں میں ہلکان ہوکر گر پڑوں اور کوئی  چیخ چیخ کر مجھے دوبارہ اٹھانے کی بے سود کوشش کرے۔

tripako tours pakistan

پھر جب شعور کی عمر کو پہنچا تو سیرت ﷺ پڑھی۔ اس وقت چونکہ شعور کی بہت سی منزلیں ابھی طے کرنا باقی تھیں لہذا تب بھی کچھ سوال اُبھرے۔ لیکن یہ وقت بھی کسی استاد کی مانند بہت کچھ سکھا دیتا ہے۔ میرے ساتھ بھی یوں ہوا۔ بعد کے زمانے میں سیرت رسولﷺ کے مطالعے کا نچوڑ جب سامنے آیا تو اس حوالے سے کوئی  سوال تشنہ نہ رہا۔ اس عظیم ہستی کے اخلاقی وجود کا جب پورا خاکہ ذہن پر نقش ہوا تو پتہ چلا کہ صبر درحقیقت محض برداشت نہیں بلکہ یہ patience اور acceptance کا ایک بامعنی امتزاج ہے۔ patience ہو یا acceptance, یہ احساس قبولیت کے وہ روئیے ہیں جو کسی بھی صورتحال کو بناء کسی دوسرے جذبے کے اپنی خالص حالت میں قبول کرنے کے لیے اپناۓ جاتے ہیں۔ ہمارےنبی ﷺ کی شخصیت اسی کا تو عکس ہے۔

کوئی  بھی مسئلہ جب بھی سامنے آۓ تو ابتدائی  چند لمحے ہی اگلی تمام صورتحال کے نتائج کا فیصلہ کرتے ہیں۔ ہوتا یوں ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار یا چیلنجنگ صورتحال کے بعد دراصل ہمارے ردعمل کا ظہور ہوتا ہے۔ یہ ردعمل ہر شخصیت کی مناسبت سے الگ الگ ہوتا ہے۔ کوئی  ہیجان زدہ ہو جاتا ہے، کوئی  گھبرا جاتا ہے، کوئی  مایوس ہو جاتا ہے وغیرہ۔ واقعہ اگر کسی ایک ہی نوعیت کا بھی ہے مثلاً  کوئی  ایسا واقعہ جس میں خوف ایک لازمی امر ہے تو بھی خوف کی نوعیت ہر انسان کے لیے الگ الگ ہے۔ اگر ہم یہ بات تسلیم کر لیں تو پھر یہ ماننے میں کوئی  تامل نہیں ہونا چاہیے کہ نیت ہو، کام ہو، ردعمل ہو یا پھر اس کے نتائج ان سب کا انحصار ہمارے اندر کی شخصیت پر ہے۔ وہ کیسے بنتی ہے؟ یہ الگ موضوع ہے۔

میں جہاں تک سمجھا ہوں تو وہ یہ کہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال اور ردعمل کے ابھرنے کے بیچ چند لمحے ہوتے ہیں۔ چند سیکنڈ کا ایک مختصر سا وقفہ۔ یہ لمحے ہمارے اختیار میں ہوتے ہیں اور انہی لمحوں میں جذبات اور اس کےنتیجے میں ابھرنے والے ردعمل سے پہلے اگر ہم اس صورتحال کو جیسی کہ وہ ہے ٹھیک اسی طرح قبول کر لیں تو یہ صبر ہے۔ یہ سیکنڈوں کی بات ہوتی ہے اس کے بعد جذبات اور ردعمل نے شروع ہونا ہی ہونا ہے۔ لیکن انہی لمحوں میں اس صورتحال کو قبول کرنے کا کمال یہ ہے کہ اس کے بعد جذبات اور ردعمل بڑی حد تک معنویت کا روپ دھار لیتے ہیں اور سارا معرکہ پھر شعوری میدان میں برپا ہوتا ہے۔ شعور ہمیشہ مسئلے کے حل میں دلچسپی لیتا ہے جبکہ محض جذبات ہمیشہ مسئلے کو گنجلک اور پیچیدہ بنانے میں ہی منہمک۔ جونہی کوئی  مسئلہ سامنے آئے تو ایک سیکنڈ دیر کیے بغیر بس دل میں اتنا کہہ دیں کہ میں اس صورتحال کو قبول کرتا ہوں اس کے بعد دیکھتے جائیے۔ اب یہاں ایک اہم سوال یہ ابھرتا ہے کہ انسان بغیر کسی ڈھارس کے اور طمع کے ایسے کیسے کہہ دے؟ یہی اس ساری بحث کا نچوڑ ہے۔ یاد کیجیے پروردگار نے کیا کہہ رکھا ہے؟ ” میں صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوں”۔

ہم ایسی صورتحال کے انہی ابتدائی  چند لمحوں میں بس ایک بار یہ کہہ دیں کہ پروردگار مسئلہ در آیا ہے لیکن میں تیری رضا پر راضی اور اس کو تیری رضا کے لیے قبول کرتا ہوں۔ پھر دیکھتے جائیے کہ ہوتا کیا ہے؟ حل کے عقدے کیسے کھلتے ہیں۔

بات اور کچھ نہیں بس اتنی ہے کہ بناء قبول کیے ہر ردعمل اور اسکے نتائج گویا ہمارے اپنے ذمے ہو جاتے ہیں جبکہ ردعمل اور جذبات سے بھی پہلے کے چند لمحوں میں پورے شعوری احساس کے ساتھ کہے یہ الفاظ نتائج پروردگار کے سپرد کردیتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ نتائج وہی نکلیں جو میں اور آپ چاہتے ہیں البتہ یہ یقین ضرور رکھیے کہ جو بھی نتائج ہونگے وہ ہمارے اطمینان کے لیے کافی ہونگے۔
نعم المولیٰ و نعم النصیر۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *