ڈاکٹر خالد سہیل : عجب مرد آزاد ہے وہ…..دعا عظیمی

SHOPPING

اس سے پہلے میری معلومات فقط بت شکن تک محدود تھیں، جیسے کہ محمد بن قاسم اور سومنات میں رکھے بتوں کو توڑنے اور فتح کرنے والے محمود غزنوی جیسے فاتحین تک ،جنہیں اسلامی تاریخ کی کتابوں میں بت شکن کے طور پہ پڑھایا جاتا ہے۔ ۔۔ یہ الگ بحث ہے کہ جانے یہ جنگیں کن اغراض ومقاصد کے تحت لڑی گئی ہوں گی۔

ادب کی دنیا میں جب میں نے ڈاکٹر خالد سہیل کو پڑھا تو ایسے لگا کہ یہ مرد آزاد بت شکن ہی تو ہے۔ بھلا ایک بت شکن اور روایت شکن میں کیا فرق ہوگا ۔ میرے شعور نے تسلیم کیا کہ بعض فرسودہ رسمیں’ اقدار اور خیالات بھی بتوں ہی کی طرح ہوتے ہیں جنہیں ہم سالہا سال سے پوجتے چلے آرہے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر خالد سہیل کے انٹرنیٹ پرکالمز جہاں ادبی چاشنی کے رنگ میں بھیگے ہوئے قاری کے ادبی ذوق کی تسکین کا سامان فراہم کرتے ہیں وہیں اسے فلسفے کے قدیم و جدید نظریات سے ہم آہنگ ہونے میں بھی مدد دیتے ہیں۔یہاں تنقید وتحسین کا سلسلہ جاری رہتا ہے مگر یہ ہر دو سے بے نیاز سر جھکائے اپنے کام میں مگن نظر آتے ہیں۔ ۔کالمز کے ذریعے اپنے قارئین کے نفسیاتی مسائل سنتے اور ان سے مخاطب ہو کے باقی سینکڑوں پڑھنے والوں کے لیے نفسیات کی پیچیدہ گرہیں کھولتے ہیں۔

ڈاکٹر خالد سہیل

میں نے ان کے پروگرامز دیکھے، ان کی کتب کا بنظر غور مطالعہ کیا تو یہ پتہ چلا کہ یہ ایک روایت شکن ادیب بھی ہیں اور طبیب بھی،عالم بھی ہیں، فاضل بھی، مشرق اور مغرب کے درمیان محبتوں کے سفیر بھی ہیں، اور اپنے وطن سے محبت کے اسیر بھی ، درد دل بھی رکھتے ہیں اور انسانیت کے پرچارک ہیں۔اخلاق کے لیے مذہب کی لاٹھی کو سہارا بنانا ضروری نہیں سمجھتے بلکہ افراد کے لیےگناہ کے تصور کے متبادل جرم کا تصور متعارف کراتے ہیں۔
ان کی زیست میں الجھاؤ نہیں ہے۔راستے میں جاتے ہوئے پتھر پڑا ہو تو اسے اٹھا کے ایک طرف رکھ دیتے ہیں ،مبادا کسی کو ٹھوکر نہ لگے۔ لوگوں کی ریشم سی نفسیات کے الجھے دھاگوں کو انگشت شہادت سے سلجھائے دیتے ہیں۔ جانے کتنے مریضوں کو فقط مکالمے کی تھراپی نیز بغیر دوائیوں کے یا کم دوائیوں کے استعمال کے ساتھ شفایاب کر چکے ہیں۔جانے کتنوں کے جیون میں سہولت سے جینے کی امنگ کا دیا جلا چکے ہیں۔ یہ اپنے مریضوں کے احساس گناہ یا جرم سے پیدا ہونے والی مچھلی کے کانٹے سی پھانس نکالتے رہنے کا کام عبادت سمجھ کے کرتے رہتے ہیں۔

ان کے افسانے اور کتابیں پڑھنے کے بعد یہ احساس ہوا کہ ایک روایت شکن ہی اصل میں بت شکن ہوتا ہے۔انسان جب پیدا ہوتا ہے تو بوقت پیدائش ہی سماج ایک فرد کو اپنے علاقے’ اپنی ثقافت اور اپنے معاشرے کے رسم و رواج میں ڈھالنے کا بندوبست کرتا ہے۔ سب سے پہلے اس کا نام ہی اس کی شناخت بنتا ہے، اس کا نام بتاتا ہے کہ یہ دنیا کے کس حصے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کو اپنے علاقے کے حساب سے بیڑیاں پہنائی جاتی ہیں۔ زنجیروں میں بڑے اہتمام سے جکڑا جاتا ہے۔ مخصوص تعلیم و تربیت کے سانچے میں ڈھالنے کے لئے سماج کے ادارے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں ۔اس کے اچھے برےکے تصورات سے اس کو روشناس کروایا جاتا ہے۔ جب وہ ذرا بڑا ہوتا ہے مذہب اور تہذیب اور ثقافت اقدار کی صورت میں اس کے گلے میں بہت سی مالائیں پہنائی جاتی ہیں۔ جنہیں وہ تمام عمر سینت سینت کے رکھتا ہے۔

‪ ‬ڈاکٹر خالد سہیل کی ذکاوت اور ذہانت کو دیکھوں تو حیرت ہوتی ہے کہ اس مرد آزاد نے کسی نام پر کوئی بیڑی نہیں پہنی۔ وہ اوائل عمری میں ہی اپنے سماج کی نیت کو بھانپ جاتے ہیں اور اپنی زندگی کی کلی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں تھامنے کاخواب دیکھتے اور اس خواب کی تعبیر کی تدبیر کرتے ہیں ۔ بیس سال کی عمر میں ہی زندگی کے بڑے بڑے فیصلے کرتے ہیں اور اپنی آزادی کی قیمت دینے کو تیار ہوجاتے ہیں۔ مذہب کو رسوم و روایت کی گٹھڑی سمجھ کر اسے سر سے اتار پھینکتے ہیں انہوں نے اپنے سر پہ نہ ٹوپی پہنی نہ پگ۔۔۔۔۔۔ مگر ان کی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے باغی کے عام تصور سے بھی بغاوت کی۔
میری نظر میں ایک روایتی باغی تو ایسا ہوتا ہے جیسے کوئی سادھو، بھکشو، یا بنجارہ یا نشئ یا ہیپی جنہیں اکثر سڑک کنارے دیکھا گیا مفلوک الحال ایک پاؤں میں چپل اور دوسرا ننگا ٹوٹی چپل ہاتھ میں۔۔۔ اکثر ایسے باغیوں کو ادارے سے نکال باہر کیا جاتا ہے۔۔۔مگر یہ مرد آزاد اس لحاظ سے سمجھدار ثابت ہوتے ہیں کہ اعلی تعلیم مکمل کرتے ہیں، اپنے کیرئیر کو داؤ پر نہیں لگاتے۔ اپنے افکار کے ساتھ جیتے ہیں مگر نعرہ مستانہ بلند نہیں کرتے بلکہ دوسری زمین کی طرف ہجرت کرتے ہیں اور محفوظ پناہ گاہ تک پہنچتے ہیں ۔ اپنی آزادی کی قیمت تو چکاتے ہیں مگر سلیقے کے ساتھ ۔‪ ‬

‪یہ مذہب اور خدا کے تصور سے منکر نظر آتے ہیں۔ لیکن اپنے کردار میں ان اعلیٰ اوصاف کی خوشبو کو بساتے ہیں اور اس کردار کے سانچے میں خود کو ڈھالتے ہیں جس کا تقاضا ہر مذہب انسان سے کرتا ہے۔ یہ امن اور انسان دوستی کی بات کرتے ہیں، اخوت اور مساوات کے حامی ہیں۔ انصاف اور سچ سے جڑے ہیں۔ علم سے ادب سے محبت کرتے ہیں۔ لفظ کی حرمت کو سمجھتے ہیں۔ بھائی چارے کی زبان کو سمجھتے اور لوگوں سے ہمدردی کے ساتھ پیش آتے ہیں۔اور تمام مجبور و محروم طبقوں کے حق کے لیے آواز اٹھاتے ہیں ۔ان کی زندگی اعلی مقاصد سے جڑی ہے۔ وہ اپنے دن رات انسانیت کی خدمت کے لئے وقف کئے ہوئے ہیں۔

ادب میں ان کی خدمات کا ذکر ہو یا طب میں مشکل علوم کو آسان زبان میں اپنے ہم وطنوں کے لئے ترجمہ کرتے ہیں۔ بڑے بڑے فلسفوں اور کام کی باتوں کا رس نکالتے اور بانٹتے رہنے میں مصروف ہیں۔ ان کی زندگی نظم و ضبط کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ کچھوے کی چال چلتے بڑے بڑے تیز رفتاروں سے آگے نکلتے نظر آتے ہیں۔
‪ یہ وہ مرد آزاد ہیں جنہوں نے خود کو قلم سے باندھ لیا ہے۔ انسانوں کو شفا بانٹتے ہیں۔ آسانیاں تقسیم کرتے ہیں ۔ یہ لکھتے ہیں کہ
‪”‬بعض افراد مختلف روایات کے ساتوں رنگ اپنے اندر اس خوبصورتی سے جذب کرتے ہیں کہ ایک نئی روشنی، نئ صبح اور نئی منزل کی نشاندہی کرتے ہیں‪”‬
بلاشبہ ان “بعض “افراد میں ایک خود ڈاکٹر خالد سہیل ہیں۔ ایک اور جگہہ فرماتے ہیں۔
“میں اپنی ذات کو اس درخت کی طرح محسوس کرتا ہوں جس کی جڑیں مشرق کی مٹی میں پیوست توانائئ حاصل کر رہی ہوں اور جس کی شاخیں مغرب کی فضا میں جھولتی ہوئی تازہ ہوا میں سرشار ہوں۔”وہ اپنےادبی نثر پاروں کازکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ” میری تخلیقات انسانیت کے نام میرے محبت نامے ہیں”
انکی اردو ویب سائیٹ اپنے پڑھنے والوں کو پڑھنے کی دعوت اور فکر کے نئے باب کھولنے کا موقع عطا کرتی ہے۔آگے لکھتے ہیں کہ‪ ‬ ‘‬اس درخت پر جو پھل اورپھول لگے ہیں ان کی خوشبو اور ذائقہ آپ کو میرے افسانوں میں ملے گا۔‪”‬
عورت کی نفسیات کے بارے میں بتاتے ہوۓ رقمطراز ہیں کہ‪ “‬خدا جانے عورتیں تو بادلوں کی طرح ہوتی ہیں، وہ بادل جو کبھی ہفتوں نہیں برستے اور برستے ہیں تو برستے ہی جاتے ہیں، صحراؤں میں نہیں برستے اور دریاؤں میں برس پڑتے ہیں۔‪”‬ اس بات کی صداقت پر کوئی کیا کہہ سکتا ہےبقول ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کے ہر انسان سچ کے متعلق اپنے سچ کو ہی سچ سمجھتا ہے اور اس کا اسے پورا حق اور اختیار ہے۔ تمام انسانوں کو ایک دوسرے کے سچ کا احترام کرنا آنا چاہیے۔

‪ ہجرت کے پل صراط پر چلنے کا عذاب سہنے والے ڈاکٹر خالد سہیل بتاتے ہیں کہ سائنسدان عقل اور منطق کے زریعے اسی منزل تک پہنچتے ہیں جس پرپہنچنے کے لیے صوفی وجدان اور فنکار جمالیات کا راستہ اختیار کرتے ہیں ۔ ان کے راستے چاہے جدا ہوں ان کی منزل ایک ہوتی ہے۔ انسانوں کے لیے پرامن معاشرے کا خواب اور اس کی تکمیل کے لیے تگ ودو کرنا ہی وہ منزل ہے۔ یہ اس راز سے پردہ اٹھاتے ہیں کہ انسان دو طرح کے ہوتے ہیں ایک روائتی اکثریت اور دوسرے تخلیقی جوہر رکھنے والی اقلیت سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دوسری قسم کے انسان اصل میں اثاثہ انسانیت ہیں کیونکہ یہ من کی پگڈنڈی پہ چلنے والے انسانیت کے لئے بڑے بڑے کام کرنے کی صلاحیت لے کر پیدا ہوتے ہیں اور اکثر اپنے اپنے میدان میں کار ہائے نمایاں سر انجام دیتے ہیں۔ مختلف کامیاب تخلیقی افراد کی سوانح حیات کو پڑھنے کے بعد آپ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ایسے افراد کی زندگیوں میں نفسیاتی اور جذباتی نشیب وفراز ذیادہ ہوتے ہیں ۔ آپ ایسے تمام افراد کی زندگی میں آنے والے نفسیاتی دباؤ سے انہیں بچانے کے لیے حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

SHOPPING

‪ ڈاکٹرخالد سہیل وہ مرد آزاد ہیں جو دوزخ کے خوف اور جنت کے لالچ سے آزاد ہیں مگر انجانی بصیرتوں کے بہشت تک پہنچنے کاخواب فنی مسرت‪ artistic satisfaction ‬سے ہم کنار رہنے کے لئے ہر دم سعی کرتے ہیں‪ ‬،اور دوسروں کو بھی اسی راستے پہ چلنے کی دعوت دیتے نظر آتے ہیں۔ طب اور ادب نے اپنے میدان میں ان سا مرد مجاہد اور مرد آزاد کم ہی دیکھا ہوگا۔
ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کے ادبی محبت نامے اور تمام کتب پڑھنے کےلیے اردو ویب سائیٹ کا پتہ یہ ہے.
(www.drsohail.org)

SHOPPING

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”ڈاکٹر خالد سہیل : عجب مرد آزاد ہے وہ…..دعا عظیمی

  1. مکالمہ سائیٹ, ان کے ایڈیٹرز کا شکریہ.
    ڈاکٹر خالد سہیل اور ان کے دوستوں کا شکریہ جنہوں نے میری تحریر کو پزیرائی دی.

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *