تن اجلا من میلا۔۔جمال خان

گوتم بدھ کی بیوی “گوپا” ایک عقلمند اور باشعور خاتون تھی۔وہ جانتی تھی کہ مذہب جو اصول وضوابط عورت پر عائد کرتا ہے ان کی پابندی کس طرح کی جاتی ہے ۔۔لیکن وہ ظاہری پردہ نہیں کرتی تھی یعنی گوپا گھونگھٹ نہیں نکالتی تھی ۔۔ اس لئے انگلیاں اٹھانے والے کہنے لگے ۔۔ ” گوپا بہت بے حیا عورت ہے”۔اس الزام کے جواب میں گوپا نے شاہی محل کی تمام عورتوں کو اکٹھا کیا اور ان سے جو خطاب کیا اس کی روشنی میں ہمارے معاشرے کے ہر مرد اور عورت کے لئے اپنی اصلاح کا ایک بڑا سبق موجود ہے ۔

گوپا نے کہا ۔۔۔۔ “مذہبی لوگ جس حالت میں بھی رہیں اسی میں مناسب معلوم ہوتے ہیں۔ ایک سیاہ فام اگر ٹوٹی ہوئی جھونپڑی میں رہے اور گھاس سے بنا لباس پہنے لیکن اگر وہ نیک دل اور صاحب لیاقت ہوگا تو ضرور قدرومنزلت پائے گا۔ جس کا دل گناہ کا گھر ہوگا ظاہری پردہ بھی اس کی حفاظت نہیں کرے گا ۔بلکہ وہ تو زہر سے بھرے ہوئے مٹکے کی طرح ہے جس کے منہ پر دکھاوے کے لئے امرت لگا دیا گیا ہو ۔جسمانی خواہشات کا فاتح گفتگو کا سلیقہ رکھنے والا حواس پر قابو پانے والا خیالات کو بھٹکنے سے روک لینے والا اور دل کی مقدس خوشی کو حاصل کرلینے والا اگر ظاہری پردہ نہ بھی کرے تو محفوظ ہے۔ ایسے انسان کو اپنا چہرہ گھونگھٹ سے چھپانے کی حاجت نہیں۔ لیکن جو بے حیا ہے جس کے حواس اور دل بے قابو ہیں۔ جو فضول باتیں کرتا ہے اور جذبات پر قابو نہیں پا سکتا وہ ہزار پردوں میں بھی رہے تو کبھی محفوظ نہ ہو گا ۔مقدس رشتوں کی حفاظت اور اپنے دل پر آپ حکومت کرنے والے اگر چاند اور سورج کی دنیا کے سامنے بھی رہیں تو کوئی گناہ نہیں ہے ۔جو اپنی حفاظت کر سکتا ہے وہی محفوظ ھے۔اس کے برعکس ھو تو ہزار پردے اور گھروں کی مضبوط دیواریں بھی محافظ نہیں ہو سکتی۔

میرا نیک چلن ہونا ہی میرا سب سے بڑا پردہ ہے ۔میری خوبیاں ہیں میرا قلعہ ہے جسے کوئی فتح نہیں کر سکتا ہے۔ اس لئے مجھے کپڑے کے ایک گھٹیا سے ٹکڑے سے اپنا چہرہ چھپانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔گوپا کے اس خطاب میں ہمارے معاشرے کے ہر مرد اور عورت کے لئے ایک بہت بڑا سبق موجود ہے ۔۔ ہماری روزمرہ زندگی کے عام مشاہدے کی بات ہے کہ ہم اپنے درمیان موجود بہت سے ایسے لوگوں سے ملاقات کرتے ہیں جن کی ظاہری شخصیت دیکھنے سننے میں انتہائی نفیس دکھائی دیتی ہے ,پروقار ،سلیقے سے تراشے ہوئے بال، عمدہ لباس اور مہنگی خوشبو سے معطر جسم آپ پہلی نظر میں ہی ان کی شخصیت سے متاثر ہوجاتے ہیں۔۔ مگر پھر ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب آپ ایسے لوگوں سے کوئی کاروباری معاملہ کرتے ہیں یا پھر ان کے ساتھ دوستی یا قربت حاصل کرتے ہیں تو آہستہ آہستہ آپ پر آشکار ہوتا ہے کہ یہ صاحب تو کسی بھی طرح کے اخلاقی اصول کے پیمانے پر پورے نہیں اُترتے ۔۔ نہ وعدہ وفا کرتے ہیں نہ وقت کی پابندی نہ کاروباری اصول ،جھوٹ اور منافقت کینہ۔حسد اور اکثر مواقعوں پر تو گندی زبان تک استعمال کر جاتے ہیں ۔یہی حال مذہبی شخصیات کا ہے ۔چہرے پر سجی لمبی داڑھی سر پر نمازی ٹوپی یا پگڑی اور شلوار ٹخنوں سے اوپر ہاتھ میں تسبیح گھماتے اکثر لوگ آپ کے ارد گرد موجود ہوں گے۔۔۔ کیا کبھی ہم لوگوں نے اس نقطے پر غور کیا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے ؟؟ آخر ہمارے ظاہر اور باطن میں اس قدر تضاد کیوں ہے ؟اور وہ کون سے ایسے عمل اور طریقے ہیں کہ جس سے ہم اپنی ظاہری خوبصورتی کے ساتھ ساتھ اپنے باطن کو بھی خوبصورت اور اجلا بنانے کی کوشش کرکے ایک آئیڈیل زندگی گزارسکتے ہیں۔ ایک ایسی زندگی جس میں کسی بھی قسم کا خوف وسوسے اندیشے بےچینی ،گھبرائٹ ڈیپریشن ،رنج وغم کا دور دور تک سایہ بھی نہیں ہوگا ۔۔۔ کبھی ہم نے اس بات پر بھی غور کیا ہے کہ فقیر اور صوفی کے چہرے پر ہر وقت ایک اطمینان اور سکون کی لہر کیوں نظر آتی ہے ؟ تو پھر اپنے اندر کی گہری تاریکی کو اجالوں میں، من کی کالک کو سفیدی میں باطن میں کھڑی تعفن زدہ دیوار کو،اپنے اندرونی اخلاقی وجود کو مکر وفریب ، ریاکاری منافقت، جھوٹ حسد ، کینہ بغض اور نفرت کی غلاظت سے کیسے پاک صاف کیا جائے۔ اس معاملے میں بھی ہمارا دین اسلام ہماری مکمل رہنمائی فرماتا ہے۔۔۔ اپنے باطن کو پاک صاف کرنے اور تمام اخلاقی بیماریوں سے نجات کے لئے ہمیں تزکیہ نفس” کا حکم دیا گیا ہے۔تزکیہ نفس سے مراد ہے کہ نفسِ انسانی میں موجود شر کے فطری غلبہ کو دور کرنا اور اسے گناہوں کی ان آلودگیوں اور آلائشوں سے پاک کرنا جو کہ روحانی نشوونما میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہیں۔ ان تمام بدی کی خواہشات پر غلبہ پا لینے کا عمل تزکیۂ نفس کہلاتا ہے۔ اگر ہم نے ان تمام اخلاقی بیماریوں جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو جتنا وقت ہم  اپنی ظاہری خوبصورتی کو قائم رکھنے کے لئے کرتے ہیں اتنا ہی وقت ہمیں اپنے اندر کو خوبصورت بنانے کے لئے بھی صرف کرنا ہوگا ۔۔۔دیکھیں ہمارا رب العالمین ہمیں اپنے آپ کو پاک صاف رکھنے کا کیا انعام دے رہا ہے ۔
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکّٰیO ’’بیشک اس نے فلاح پائی جس نے اپنے آپ کو پاک کر لیا۔‘‘
یعنی ہماری فلاح ہماری نجات اور ہمارے مکمل سکون اور چین کا سارا علاج “تزکیہ نفس”میں ہے ۔۔تو آئیں آج سے ہی میں اور آپ ایک نئی زندگی کا آغاز کرتے ہیں اور وہ ہے اپنے باطن یعنی اپنی اندرونی صفائی کا اغاز۔۔یاد رکھیں ! جس دن آپ نے اپنے اخلاقی وجود کو پاکیزہ کرلیا اپنے کالے من کو سفید کرلیا تو پھر آپ چائیں تو انگریزی سوٹ پہن کر داڑھی مونچھ صاف کرکے یا لمبی داڑھی اور ٹوپی پہن کر لوگوں کی رہنمائی فرمائیں تو اسی دن معاشرے کے اندر انفرادی اور اجتماعی رویوں میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہونا شروع ہو جائیں گی۔۔ پاکیزگی سچائی کردار اجلےپن کا تعلق اپ کی روح سے ھے اور اخلاقی پاکیزگی آپ کی روح میں ہونی چاہیے ۔۔ ظاہری حلیے میں نہیں۔

کلین شیو انگریزی لباس پہننے والا منہ میں پائپ دبائے وہ شخص جسے دنیا ” جناح” کے نام سے جانتی ہے۔ نے نہ تو زندگی بھر کبھی جھوٹ بولا نہ خیانت کی نہ وعدہ خلافی، نہ کسی کی دل آزاری کی نہ کبھی منافقت نہ کسی کے لئے حسد نہ نفرت ،اہنے اصولوں پر مر مٹنے والا۔۔من کی پاکیزگی رکھنے والے اس دبلے پتلے شخص کو علامہ شبیر احمد عثمانی نے ویسے ھی “بیسویں صدی کا سب سے بڑا مسلمان قرار نہیں دیا تھا ۔۔۔ علامہ نے اس شخص کے اخلاقی وجود کی پاکیزگی اور اسلام کو اس کی روح کی گہرائی تک دیکھ لیا تھا۔ یہی بات ” گوپا” نے بھی کہی تھی کہ۔
مقدس رشتوں کی حفاظت اور اپنے دل پر آپ حکومت کرنے والے اگر چاند اور سورج کی دنیا کے سامنے بھی رہیں تو کوئی گناہ نہیں ہے۔۔
قرآن کہتا ہے۔۔۔’’یقیناً وہ مراد کو پہنچا جس نے (اپنے) نفس کو پاک کرلیا اور نامراد ہوا جس نے اسے خاک میں ملادیا۔‘‘

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *