جرنیلی سڑک۔ابنِ فاضل/قسط1

اہل علم کا کہنا ہے کہ جرنیلی سڑک کو جرنیلی سڑک اس لیے کہتے ہیں کہ یہ فوجیوں کی آمدورفت کے لیے بنائی گئی تھی ۔ ہمیں مگر اعتراض ہے ۔ پھر یہ فوجی سڑک کہلاتی جیسا کہ فوجی سیمنٹ، اورفوجی دلیہ ۔ حالانکہ فوجی دلیہ کھاتے نہیں ۔صرف بناتے ہیں ۔ پھر بھی اس کو فوجی دلیہ کہتے ہیں، شاید اس لیے کہ بہت سے فوجیوں کا دال دلیہ اس سے چلتا ہے ۔ لیکن جرنیلی سڑک ۔۔۔؟ اہلِ علم مگر بضد ہیں کہ کسی بھی جرنیلی چیز پر زیادہ سوال نہیں اٹھاتے ۔ چاہے وہ منطق ہو یا پینشن   اور ویسے بھی چیزیں جرنیلی ہو کر زیادہ زود ہضم اور قابلِ قبول ہو جاتی ہے ۔ جیسا کہ اپنی جرنیلی جمہوریت اور احتساب وغیرہ ۔ سب جانتے ہیں کہ جرنیلی سڑک شیر شاہ سوری نے بنوائی تھی۔ شیر شاہ کے مگر اپوزیشن لیڈر کا بیان پروفیسر ڈاکٹر رادھے شام نے کہیں سے ڈھونڈ کر نکالا ہے ۔کہتے ہیں یہ اس کی تعمیر اصل میں بلبن نے شروع کروائی لیکن شیر شاہ تیز نکلا ۔ تختی لگا کر اپنے نام کر گیا ۔ گو ماضی انتہائی قریب میں بھی ایسی مثالیں موجود ہیں لیکن پھر بھی ہم شیر شاہ کو ہی اس کا معمار تسلیم کرتے ہیں ۔ کیونکہ ہمیں لگتا ہے کہ شیر کا سڑکوں سے کوئی نہ کوئی واسطہ ضرور ہے ۔چاہے نام ہو یا انتخابی نشان ۔ انسان حاکم بن کرسڑکیں ضرور بناتا ہے ۔ اب شیر کے نشان والی گولی دیکھیں بڑی ہو کر یہ روایت قائم رکھتی ہے یا نہیں۔

اہل علم کے مطابق جرنیلی سڑک کولکتہ سے شروع ہو کر پشاور  پر ختم ہوتی ہے۔ جبکہ اہل پشاور کا دعویٰ ہے کہ یہ پشاور سے شروع ہوتی ہے ۔ اہل علم ،ان کی اس الٹ پھیر سے نالاں ہیں کہ یہ پشاور والے عمومی طور پر الٹے سیدھے کے معاملہ میں بے احتیاط ہیں۔ ہمارے خیال میں جرنیلی سڑک واہگہ سے شروع ہوتی ہے جب تک کہ کوئی زید حامد صاحب ایسا دھرتی کا لعل، لال قلعہ پر سبز ہلالی نہیں لہرادیتا۔ شروع میں یہ سڑک کچی ہوا کرتی تھی کہ مٹی وغیرہ سے بنی ہوتی۔ مگر آج کل پتھروں کو کوٹ کر پکی بنائی جاتی ہے ۔ باقی تمام سڑک پر پتھروں کو کوٹنے کا کام بلڈوزروں اور بھاری مشینوں سے لیا جاتا ہے مگر واہگہ بارڈر پر دونوں طرف یہ کارِ خیر لحیم فوجیوں سے لیا جاتا  ہے جو پوری استعداد سے ٹانگ اٹھا کر پورے زور سے زمین پر مار مار کر یہ فریضہ انجام دیتے ہیں ۔ ہماری طرح آپ بھی حیران ہوں گے کہ ایسا کیوں، تو ہماری ناقص رائے میں جس طرح آج کل کے مشینی دور میں بھی ہاتھ کی بنی سویاں اور جوتے الگ ہی مزا دیتے ہیں اسی طرح پاؤں کی کوٹی جرنیلی بھی الگ مزا دیتی ہو گی ۔باقی غیر ناقص رائے کے لیے آپ کسی جرنیل سے رابطہ کرلیں تو زیادہ بہتر ہے ۔ واہگہ سے شروع ہو کر یہ سڑک لاہور میں داخل ہوتی ہے ۔ مگر یہ لاہور میں ناشتہ نہیں کرتی کیونکہ اس نے دیکھ رکھا ہے کہ واہگہ کے راستے داخل ہو کر لاہور میں ناشتہ کرنے کی خواہش کس قدر مہنگی پڑ سکتی ہے ۔

داروغہ والا سے ہوتی ہوئی یہ شالامار کے سامنے سے گذرتی ہے۔ اس دوران اپنے دونوں اطراف اس کا واسطہ لوہے اور اس کا سامان بنانے والے سینکڑوں چھوٹے بڑے کارخانوں سے پڑتا ہے. جہاں لوہے کے چنوں اور آہنی ہاتھوں کے سوا لوہے کا ہر مال بنتا ہے ۔ مذکورہ بالا ہر دو شاید راولپنڈی میں کہیں بنتے ہیں ۔ اس کے بعد لاہور سے ہوتی ہوئی لاہور کو جاتی ہے ۔ پھر لاہور میں چلتے چلتے، لاہور میں رہتے ہوئے دریائے راوی پر سے گذرتی ہوئی لاہور کی طرف جانکلتی ہے ۔ اور بالآخر لاہور سے گذر کر آخر کار لاہور سے نکلتی ہوئی اگلی منزلوں کی جانب روانہ ہوتی ہے۔ گو کہ راوی اس بابت خاموش ہے تاہم ایسا لگتا ہے اپنے راوی اور جرنیلی سڑک کا خاص دوستانہ رہا ہے ۔ اور شاید راوی نے ہمیشہ اس کو دور جانے سے روکا ہوگا ۔ لیکن وہ نہیں رکتی ۔ ہربار اپنی مجبوریوں کا رونا رو کر نکل جاتی۔ ایک دن فرطِ جذبات میں روای نے اس سے کہہ دیا اگر جانا ہے تو میری لاش پر سے گذر کر جانا ہوگا ۔ وہ دن اور آج کا دن یہ راوی کی لاش پر سےہی گذر کر جاتی ہے۔

لاہور کے بعد یہ مریدکے میں سے گذرتی ہے۔ “مرید کے” شاید “کےمرید” کی سہل ہوئی شکل ہے۔ اور جو شاید “رن کے مرید” کا اختصاریہ ہے ۔اس حوالے سے یہ آفاقی نام ہے جو انسانوں کی کسی بھی بستی کو دیا جا سکتا ہے ۔ مریدکے اور اس کے نواح میں چمڑا رنگنے اور اس سے بنی اشیاء کے کارخانے ہیں۔ اس لیے یہاں پر بہت سی جوتوں کی بڑی چھوٹی درجنوں دکانیں ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ معیاری جوتے ارزاں نرخوں پر بیچتے ہیں ۔ اس سلسلے میں ہمارا تجربہ بھی کچھ ایسا ہے۔ جو جوتا شہرمیں دو ہزار کا بکتا ہے وہ یہاں محض انیس سو نوے روپے میں مل جاتا ہے ۔ مریدکے سے نکل کر گوجرانوالہ کی طرف جاتے ہوئے قابل خرگوشوی نے نوٹ کیا کہ دورویہ سڑک کے بائیں جانب یعنی جانے والے حصے کے کنارے باقاعدہ الٹی سمت میں ٹریفک رواں ہے۔ گویا پورے طمطراق سے، چڑھے دن ون وے کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ اور اس غیر قانونی ٹریفک میں موٹر سائیکل، گدھا گاڑیوں سے لیکر ٹریکٹر ٹرالی تک سب حسبِ توفیق شامل ہیں ۔ اور پھر ہم نے مشاہدہ کیا کہ ایسا کسی ایک علاقے میں نہیں بلکہ ساری جرنیلی سڑک پر ہے یہ معمول ہے۔

ہمارے خیال میں اس کی ایک وجہ تو سروس روڈز کی عدم دستیابی، اور دوسری ہماری روایتی قانون شکنی کی عادت ہے۔ تاہم قابل خرگوشوی کے خیال میں یہ حکومت کی رٹ کو سرِ عام چیلنج کیا جا رہا ہے اور سرکار کو چاہیے کہ ریاست کے اندر ریاست بنانے والے ان قانون شکنوں کے خلاف بالکل ویسے ہی سخت اور فوری نوٹس لے جیسے وہ لوڈشیڈنگ اور دیگر اہم قومی امورپر لیتی رہی ہے ۔ ہمار تیسرے ہمسفر مایوس دقیانوسی کا خیال ہے سرکار کو فوری طورپر یہ سڑک اکھاڑ کر یہاں گندم کاشت کرنی چاہیے، اس سے نہ صرف ملک گندم کی پیداوار میں خود کفیل ہو گا، بلکہ شیر شاہ سوری قیامت تک گناہِ جاریہ سے بچا رہے گا کیونکہ ان کے خیال میں جتنا گناہ خلاف ورزی کرنے والوں کو ہوتا ہے اتنا ہی گناہ اس علت کے موجد کو بھی برابر پہنچتا رہتا ہے ۔

مریدکے کے بعد قصبہ”کامونکی” یا “کامونکے” آتا ہے۔ لفظ کامونکے سن کر فوراً خیال کوندتا ہے جیسے کوئی کہہ رہا ہو ہم آپ کے “کاموں کے” بارے میں، ہم بہت نہیں جانتے یا یہ کہ ” ایسا لگتا ہے کہ ان لوگوں کو شاید اپنے “کاموں کی” اتنی لگن ہے کہ یہ مداری “کا ‘مونکی” کا تماشہ بھی نہیں دیکھتے”۔ یا جیسے کوئی اپنے مددگار کو ندا دے رہا ہو نی ‘کامو نِکی’ ایدر آ۔ کامونکی کی خاص نشانی اونچی پانی کی ٹینکی جس پر ایک بین الاقوامی مشروب کا اشتہار لگا ہوتا  ہے  ،عرصہ دراز تک، دور سے مسافروں کے کامونکی پہنچے کا گویا اعلامیہ ہوتی ۔ اب تغیر زمانہ کی نذر ہو کر دیگر اونچی عمارتوں کے جھرمٹ میں کہیں غائب ہو گئی ہے ۔ جو بذات خود ایک پیغام ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا ۔۔۔۔۔۔۔کامونکی کے چاول ، لوہا کوٹنے والے پریس اور محصول چونگی پورے ملک میں مشہور ہیں ۔

جاری ہے۔۔

ابن فاضل
ابن فاضل
معاشرتی رویوں میں جاری انحطاط پر بند باندھنے کا خواہش مندایک انجینئر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *