بہادر شاہ ظفر سلطنت مغلیہ کا آخری فرمانروا۔۔مہرساجدشاد

مرزا ابو ظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ ظفر جو اکبر شاہ ثانی کا دوسرا بیٹا تھا لال بائی کے بطن سے 24 اکتوبر 1775ء کو دہلی میں پیدا ہوا۔ ان کا سلسلہ نسب گیارھویں پشت میں شہنشاہ بابر سے جا ملتا ہے۔ خاندان مغلیہ کا آخری بادشاہ، اردو کے شاعر ابراہیم ذوق کا شاگرد شاعر تھا، ذوق کی وفات کے بعد انہوں نے مرزا غالب سے شاعری میں رہنمائی حاصل کی۔ 7اکتوبر 1837ء کو قلعہ دہلی میں تخت نشینی کی رسم ادا کی گئی تو صورتحال یہ تھی کہ “خلقت خدا کی بادشاہت مغلوں کی حکم کمپنی بہادر کا” ۔

بادشاہ اور اسکا تیموری خاندان انگریز کے وظیفہ خوار تھے۔ وظیفہ بھی کیا تھا اس وقت صرف چنگی ٹیکس کی آمدن پچاس لاکھ کے قریب تھی اور بادشاہ کو پوری سلطنت انگریز کے حوالے کرنے کے بعد اپنے خاندان اور بادشاہت کیلئے بارہ لاکھ وظیفہ ملتا تھا، مغلیہ خاندان ہر طرح کی مالی تنگی کا شکار تھا وظیفے کی رقم پر گزارا نہ ہوتا تو کبھی کوئی سامان بیچتے تو کبھی قرضہ لیتے، رسوائیاں تھیں جو بڑھتیں ہی جارہی تھیں۔ واقعہ مشہور ہے کہ بہادر شاہ ظفر ایک بار درگاہ غریب نواز حضرت معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ علیہ پر حاضری کیلئے گیا تو دربار کے متعلقین سے سلطنت کی مشکلات اور مصائب پر مشورہ مانگا، انہوں نے کہا حضور ایک صورت ہے حضرت کا فیض مل سکتا ہے آپ جانتے ہیں محمد شاہ رنگیلا جو حضرت کے قدموں میں حضرت امیر خسرو کیساتھ مدفن ہیں وہ عاشق اور پیر کے درمیان حائل ہیں اگر انہیں قبر کشائی کر کے کہیں منتقل کر دیا جائے تو دونوں بزرگان کو راحت ملے گی آپکی سلطنت بچ سکتی ہے، بہادر شاہ ظفر نے کہا میں ایسا نہیں کر سکتا تاریخ مجھے خود غرض کہے گی جس نے اپنی سلطنت بچانے کیلئے اپنے دادا کی قبر اکھاڑ دی۔ یہ ایک واقعہ ہے لیکن دیکھا جائے تو اس وقت تاریخ میں باعزت اور باوقار ہونے کی خواہش خاندان تیمور عرصہ سے فراموش کر چکے تھے اور انگریز کی تابعداری کو مقدر سمجھ لیا تھا۔

انگریز ایک ایک کر کے سارے علاقوں پر قابض ہو رہے تھے، بہادر شاہ ظفر کے دور میں سندھ بھی انگریز کی مکمل عملداری میں آ گیا، بعد ازاں اسے ممبئی کیساتھ شامل کر کے ایک کمشنر کے زیر انتظام دے دیا گیا۔ پنجاب پر بھی انگریز کا قبضہ ہو گیا، سکھوں سے زبردست لڑائی کے بعد تخت لاہور کو بطور تاوان ڈیڈھ کروڑ روپے سالانہ ادا کرنا پڑا، انگریز فوجی دستہ بھی یہاں مستقل آ گیا اور سکھ سیاسی آلہ بن کر رہ گئے۔ پنجاب کے بعد اودھ کو بھی برطانوی سلطنت میں شامل کر لیا گیا۔

پھر شاہی خاندان کی باری بھی آگئی انکی اپنی ملکیت کے دیہات جاگیریں باغ اور مکانات کو بھی انگریز نے صرف تین لاکھ سالانہ اضافی وظیفہ پر اپنی تحویل میں لے لیا، شاہ عالم اور اکبر شاہ سے پہلے کے بادشاہوں کی تمام اولادوں کو شاہی قلعے سے انگریزوں نے نکال باہر کیا کہ اب ان کا یہاں کیا کام ؟ شاہی قلعے کے اندر ہونے والے تمام تر اخراجات کا کنٹرول بھی انگریز نے اپنے ہاتھ میاں لے لیا۔ بادشاہت یہ رہ گئی تھی کہ ایک معمولی کھاٹ جس پر گدا بچھا ہوا ہوتا اس پر سفید لباس میں سفید مخروطی پگڑی جو کبھی پہنی ہوتی تو کبھی سامنے رکھی ہوتی اسکے ساتھ بادشاہ سلامت بیٹھے ہوتے البتہ دو مفلوک الحال ملازم پشت پر کھڑے مورچھلوں سے انہیں ہوا کر رہے ہوتے۔

پھر بھی کچھ ایسا ہوا کہ جس کا نتیجہ ایک صبح لال قلعہ کے قیدی اس ضعیف بادشاہ نے ایک کمرہ میں دیکھا، اس کے سامنے ایک کھانے کا خوان رکھا تھا جسے کپڑے سے ڈھکا ہوا تھا۔ بہادر شاہ ظفر نے پوچھا میجر اس میں کیا ہے ؟ وہ بولا “ یہ آپکی نذر ہے جو بند ہو گئی تھی اور جسے دوبارہ حاصل کرنے کیلئے آپ نے باغی سپاہیوں کا ساتھ دیا”۔ انگریز میجر ہڈسن نے کپڑا ہٹایا تو اس میں بادشاہ کے تین شہزادوں کے سر تھے۔

یہ کیونکر ہوا ؟۔۔۔۔لمبی کہانی ہے، مختصر بتائے دیتے ہیں کہ انگریز چربی والے کارتوس ہندوستان لائے جنہیں چلانے کیلئے دانتوں سے کاٹ کر چربی ہٹانا ہوتی تھی پھر اسے بندوق میں بھر کر فائر کرتے تھے ان کے بارے میں مشہور ہو گیا کہ یہ چربی گائے اور سور کی ہے، گائے ہندوؤں کیلئے مقدس تھی تو سور مسلمانوں کیلئے حرام ، اب یہ چربی منہ سے کون ہٹائے۔
دیسی سپاہیوں میں بغاوت ہو گئی، انگریز بضد تھے کہ دیسی سپاہی انہیں استعمال کریں اور سپاہیوں نے کہا یہ ہم سب کے مذہب اور ایمان کا معاملہ ہے، بنگال میں ڈمڈم اور بارک پور کے مقامات پر بغاوت شروع ہوئی فوجیوں نے انکار کیا تو انہیں قید کر دیا گیا حالانکہ ان فوجیوں کی انگریزوں کیلئے بے پناہ قربانیاں تھیں، لکھنو میں بھی یہی کچھ ہوا، میرٹھ سے بغاوت کو خون ملا، دوسپاہیوں منگل پانڈے اور ایشوری پانڈے نے انگریزوں پر حملہ کر دیا۔ منگل پانڈے کو گرفتار کرلیاگیا اور اسے سزائے موت دی گئی۔ایک رجمنٹ کے سپاہیوں کو نہ صرف دس سال قید با مشقت کی سزا دی گئی بلکہ انکی بے انتہا تذلیل بھی کی گئی۔فوجیوں نے انگریز کے خلاف ہتھیار اٹھا لئے وہاں چھاؤنی جیل اور شہر میں موجود انگریزوں کو قتل کر کے باغی فوجی دہلی جا پہنچے، وہاں انہوں نے بادشاہ کو کہا آپ ہمارے سرپرست ہیں آج آپ نے ہمارے دین کی حفاظت کیلئے عَلم بلند نہ کیا تو باقی کیا بچے گا۔

بادشاہ نے انہیں تسلی دی اور حالات سنبھالنے کیلئے انگریزوں کو پیغام بھیجا، وہاں کپتان ڈگلس اور کمشنر فریزر بات چیت کرنے کو آئے لیکن باغیوں نے چڑھائی کر دی اور یہ اپنے سپاہیوں سمیت لال قلعہ میں مارے گئے۔

بغاوت کے نتائج سے خوفزدہ بادشاہ نے اس بغاوت کے کسی طور خاتمہ کی بہت کوشش کی لیکن باغی سپاہی، عوام اور ان میں شرپسند ایسے گھل مل گئے تھے کہ مسئلہ سلجھانے کا کہیں سرا نہ ملتا تھا چاروناچار اب بادشاہ نے سوچا شائد وقت آ گیا ہے کہ یہ بغاوت ہی ہمیں انگریز سے چھٹکارا دلا دے، مالی مسائل سے گھرے ہوئے ضعیف بادشاہ نے اپنے بیٹوں کو باغیوں کی کمان کرنے بھیج دیا، پھر ہر طرف خط بھی لکھے کہ ریاستیں اس جنگ جسے ہندوستانی جنگ آزادی کہتے تھے تو انگریز غدر کہتے تھے اس کے لئے اکٹھے ہو جائیں اور اپنا جان و مال لگائیں۔ جنگ آزادی کا نعرہ ’’انگریزوں کو ہندوستان سے نکال دو‘‘ تھا، اس لیے اس میں انگریز سے نقصان اٹھانے والے مہارانا پرتاب ، بادشاہ اکبر اور شیوا جی کی اولادوں سمیت متضاد عناصر ایک مشترکہ دشمن کے خلاف یکجا تو ہوئے لیکن کوئی منظم قوت نہ بن سکے، ان میں مفاد پرست فتنہ پرداز لوگوں نے مذہب کے نام پر تفرقہ ڈالا، دکان داروں کو لوٹا کسی گھر یا محلہ کو لوٹنے کے لیے یہ افواہ کافی تھی کہ یہاں گورا(انگریز) چھپاہوا ہے ۔
شروع میں ہندو مسلم سکھ سب اس جنگ میں شامل تھے لیکن آہستہ آہستہ ہندو اور سکھ اس جنگ سے الگ ہو گئے بلکہ انہوں نے انگریزوں کی بھرپور مدد کی یوں یہ جنگ مسلمانوں اور انگریزوں کی جنگ بن گئی۔ اس دوران لاہور میں بھی بغاوت ہوئی لیکن اسے سینکڑوں سپاہیوں کے قتل سے دبا دیا گیا اسی طرح پنجاب اور سرحدی صوبہ میں بھی اٹھتی بغاوت فورا ہی کچل دی گئی یوں بھی یہاں سکھ انگریز کے پوری طرح ساتھ تھے۔

بخت خان روہیلہ روہیل کھنڈ سے باغی سپاہیوں کیساتھ دہلی آ گیا یہ توپ خانے کا صوبے دار ماہر اور دانشور تھا اس نے بڑی بے جگری سے لڑائی کی اور انگریزوں کو دہلی میں داخل نہ ہونے دیا۔ بادشاہ نے بھی ہر جگہ محاذوں پر جا جا کر سپاہیوں کا حوصلہ بڑھایا عوام و خاص میں بادشاہ کی آمد صبح شام جاری رہی۔ جنرل نکلسن نے انگریز فوجوں کی مدد سے تقریباً چار مہینے تک دہلی کا محاصرہ کیے رکھا، لیکن پھر بادشاہ کے قریبی رفقاء اور جاسوسوں حکیم احسن اللہ خان ، مرزا الہی بخش، گوری شنکر مہاجن ، کمند لال، جاٹ مل نے غداری کی انگریز کو معلومات دیں تو دہلی کے کمزور حصوں پر گولہ باری سے انگریز فوج شہر میں داخل ہو گئی لیکن ہر گلی ہر مکان پر انہیں شدید مزاحمت کا سامنا تھا۔

یہاں بادشاہ نے ایک فیصلہ کیا جو بھی آج تاریخ ہے اس فیصلہ کا نتیجہ ہے ، بخت خان نے بادشاہ کو کہا کہ آپ میرے ساتھ چلیں دہلی میں ہمیں شکست ہو رہی ہے لیکن سارا ہندوستان باقی ہے آپ جہاں ہونگے لوگ آپکے نام پر جمع ہو جائیں گے اگر پھر ہم مارے جاتے ہیں تو ہمیں حسرت نہیں ہوگی کہ ہم نے کوشش نہیں کی۔ لیکن یہاں بادشاہ کا قریبی رفیق اور سمدھی مرزا الہی بخش آڑے آ گیا اور اس نے کہا انگریز آپ کی مجبوری سمجھیں گے میں آپکے سارے معاملات صاف کروا دونگا آپ یہیں رہیں۔ اس موقع پر ایک خواجہ سرا نے بھی کہا انگریز سے رحم مانگنا بزدلی ہے تیمور کی اولاد کو کٹ مرنا چاہیئے ایسی ذلت و رسوائی سے موت بہتر ہے۔
لیکن بادشاہ نے جو جواب دیا اس نے ہندوستان کی تاریخ میں مغلیہ خاندان کے مستقبل کا واضع تعین کر دیا، بہادر شاہ ظفر نے کہا
” میں اس ضعیفی میں کہاں پھرتا پھروں گا، مرزا کہہ رہے ہیں وہ انگریز سے بات کریں گے، مجھے معافی مل جائے گی، باقی دن گوشہ نشینی میں کاٹ دونگا، اب تم جاؤ اللہ نگہبان”۔

بخت خان مایوس ہو کر اپنی جمعیت کیساتھ دہلی سے بخیریت نکل گیا اور وہ لوگ پھر کہیں سامنے نہیں آئے۔ بادشاہ نے مرزا الہی بخش کے کہنے پر قلعہ چھوڑا اور مقبرہ جہانگیر میں اپنے عیال اور خیر خواہوں سمیت پناہ لے لی، یہ الگ کہانی ہے کہ وہاں سے انگریز میجر ہڈسن کے ہاتھوں مرزا الہی بخش ، منشی رجب علی حکیم احسن اللہ اور دیگر نے کیسے گرفتار کروایا۔ اسکے بعد شہزادے قتل کئے گئے انکی لاشیں کوتوالی لٹکائی گئیں اور سر بادشاہ کو پیش کر دئیے گئے، جس معافی کی امید میں ساری مزاحمت لپیٹی تھی وہ کیا ملتی، بادشاہ کو انگریز کی عدالت میں بطور مجرم پیش کردیا گیا، یہ مقدمہ اکیس دن چلتا رہا مارچ کی 9 تاریخ کو فیصلہ ہوا، قریب اٹھارہ مشتبہ چشم دید گواہ پیش کیے گئے، دو سو کے قریب دستاویزات پیش کی گئیں، جن کا تعلق بہادرشاہ ظفر سے تھا ، بادشاہ نے صحت جرم سے انکار کیا اور کہا یہ بغاوت میری برپا کی ہوئی نہیں تھی حالات کے جبر کے تحت عوام کی قتل و غارت اور لوٹ مار روکنے کیلئے مجھے اسکی قیادت کرنا پڑی۔ بہادر شاہ ظفر کو اپنی ہی سلطنت میں قومی مجرم اور غدار قرار دے کر رنگون جلاوطن کر دیا گیا۔

وہاں بھی بادشاہ ہو یا ملکہ زینت محل، شہزادے جواں بخت ہوں یا شہزادہ عباس شاہ سب نے خاندان تیمور کی ناموس کو بالائے طاق رکھ کر انگریزوں کو بار بار خط لکھے اپنی معافی اور آزادی کیلئے نہیں بلکہ چند سو روپے کا وظیفہ بڑھانے کیلئے جو انہیں قید میں گذر واوقات کیلئے ملتا تھا۔
حمیت نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سے

دہلی پر انگریزوں کے  قبضہ کے بعد ہر جگہ جنگ آزادی ٹھنڈی ہو گئی۔ مارچ 1858ء میں لکھنؤ پر بھی دوبارہ انگریزوں کا قبضہ ہوا اور ظلم وستم کا خوف ناک باب رقم کیا گیا۔اس سے پہلے دہلی کی فتح کے بعد انگریز فوجوں نے شہری آبادی کو بے دریغ قتل کیا۔ سینکڑوں کو پھانسی دی۔ مجرم و بے گناہ مسلمان ہندو کی تمیز کے بغیر ہزاروں نفوس گولیوں سے اڑا دیے گئے۔ ہندوستانیوں کو توپوں کے سامنے کھڑاکر کے توپ چلادی جاتی جس سے ان کے جسموں کے چیتھڑے اڑ جاتے۔

صرف ایک دن میں 24 مغل شہزادے پھانسی کے تختے پر لٹکا دیے گئے مسلمان تو چن چن کر قتل کیے گئے۔ بہت سے مقتدر اور متمول مسلمانوں کی معمولی شک وشبہ کی بنا پرجائدادیں تباہ کر دیں انکو جاگیروں سے بے دخل کر دیا گیا جس کی وجہ سے وہ کوڑی کوڑی کو محتاج ہو گئے۔دہلی ،لکھنؤ ،کانپور، جھانسی کے علاوہ دیگر مقامات بھی انگریزوں کے تصرف میں آ گئے۔

جنگ آزادی کے دوران چار ہزار انگریزوں کی موت واقع ہوئی جس کے جواب میں 12 لاکھ ہندوستانیوں کا خون بہا کر بھی انگریز کا غصہ کم نہ ہوا۔ انہوں نے اگلے 90 سال تک کبھی ہندو اور کبھی مسلمان کا خون بہایا۔ اگست 1858ء میں برطانوی پارلیمنٹ نے اعلان ملکہ وکٹوریہ کے ذریعے ایسٹ انڈیا کمپنی کا خاتمہ کرکے ہندوستان کو تاج برطانیہ کے سپرد کر دیا۔

بہادر شاہ ظفر کی رنگون میں اپنے کنبے اور قریبی لوگوں کے ہمراہ قید کی داستان بھی حسرت ناک ہے اور کسی تفصیلی تحریر کی متقاضی ہے، اکتوبر 1858 میں انہیں یہاں لایا گیا وہ تقریباً چار سال قید رہے، 7 نومبر 1862ء کو انکا انتقال ہو گیا، انہیں شہزادے جواں بخت اور شاہ عباس نے اپنے استاد حافظ محمد ابراہیم دہلوی کے ہمراہ غسل دیا، انہیں ایک لکڑی کے صندوق میں رکھ کر اوپر سرخ چادر ڈال دی گئی، جنازے میں وہاں کے مسلمانوں کے ایک ہجوم نے شرکت کی جنہیں کافی فاصلہ پر دور کھڑا کیا گیا۔ یوں انہیں اسی دن برطانوی افسران نے اپنی نگرانی میں رنگون کے مشہور شویداگون پیگوڈا کے قریب ایک بےنشان قبر میں دفن کر دیا۔

کئی سال بعد ہندوستان سے کچھ دولت مندمسلمان رنگون گئے اور انہوں نے قبر کے گرد لوہے کا کٹہرا اور ٹین کا چھت ڈال دیا، بہادر شاہ ظفر کا پوتا سکندر بخت قبر کی مجاوری کرنے لگا، جو مسلمان رنگون آتے اس قبر پر بھی آتے ، زمانے کے رنگ دیکھیے شہنشاہ ہند کے پوتے کو لوگ قبر پر جھاڑو لگاتے دیکھتے اور چلتے وقت کچھ نہ کچھ اسکے ہاتھ پر رکھ دیتے یہی اس کا ذریعہ معاش تھا اسے انگریزوں نے وہاں سے ہٹا دیا تو قبر زمین کیساتھ مل گئی ، قریبا چوبیس سال بعد 1886 میں ملکہ زینت محل کا انتقال ہوا اور وہ بھی اسی احاطے میں دفن ہوئی۔

یہ قبریں پھر لمبا عرصہ گمنام رہیں قریباً 1906 میں کچھ ارباب اختیار کی کوشش سے قبروں کے گرد اینٹوں کی چھوٹی چھوٹی دیواریں بنا دی گئیں، ایک بار پھر حالات اور موسموں کے اثرات یہاں تک اثر انداز ہوئے کہ نشانات تک معدوم ہو گئے، پھر 1991 میں مزدوروں کو ایک سیوریج لائن کھودتے کھودتے اینٹوں کا چبوترہ ملا ، تحقیقات سےمعلوم ہوا کہ یہ دراصل بہادر شاہ ظفر کی قبر ہے بعد میں عطیات کی مدد سے یہاں مقبرہ تعمیر کیا گیا۔
ہندوستان میں قائم دوسرے مغل بادشاہوں کے عالی شان مقبروں کی نسبت یہ مقبرہ بہت معمولی ہے۔ ایک آہنی محراب پر ان کا نام اور خطاب رقم ہے۔ نچلے حصہ پر ان کی ملکہ زینت محل اور پوتی رونق زمانی کی قبر ہے۔

اب یہ مقبرہ درگاہ کا درجہ اختیار کر گیا ہے اور یہاں رنگون کے مسلمان حاضری دیتے ہیں۔
بطور بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے پاس اپنا کوئی لشکر نہیں تھا، لیکن وہ جنگِ آزادی کے دوران علامتی رہنما کے روپ میں سامنے آئے جن کے پیچھے ہندو اور مسلمان دونوں کھڑے ہو گئے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس دوران ہزاروں مسلمان اور ہندو سپاہیوں نے ان کی شہنشاہی بحال کرنے کے لیے اپنی جانیں قربان کر دیں۔

وہ کوئی جنگی ہیرو یا انقلابی رہنما نہیں تھے، لیکن وہ اپنے جدِ امجد اکبرِ اعظم کی طرح مسلم ہندوستانی تہذیب کی برداشت اور کثیر القومیت والی سوچ رکھنے والے بادشاہ تھے، ہندوستان کے دو بڑے مذاہب کے اتحاد کی طرف بہادر شاہ ظفر کے جھکاؤ کی ایک وجہ خود ان کا خاندان تھا۔ ان کے والد اکبر شاہ ثانی مسلمان جب کہ والدہ لال بائی ہندو راجپوت شہزادی تھیں جو قدسیہ بیگم بنیں۔
اس وقت بہادر شاہ ظفر کا اولاد سے بھی بڑا ورثہ ان کی اردو شاعری ہے کیونکہ یہ انکی پہچان قائم رکھے ہوئے ہے جبکہ انکی اولاد گمنامی کے اندھیروں میں کھو گئی ،محبت اور زندگی کے بارے میں ان کی غزلیں برصغیر بھر کے ساتھ ساتھ برما میں بھی گائی اور سنی جاتی ہیں۔

بہادر شاہ ظفر جب بادشاہ بنے تو اورنگزیب کو دنیا سے رخصت ہوئے تقریباً ایک سو بیس سال گذر چکے تھے، یہ عرصہ خاندان مغلیہ کے زوال کی بڑی دلخراش داستان ہے، جاہ و جلال اور شان و شوکت خاندانی نسب سے باقی نہیں رہتی اسکی بقا کیلئے اوّل اپنے خاندانی وقار سے ایسی محبت چاہیئے جسکے لئے اپنی جان سمیت ہر قربانی معمولی لگے۔ پھر دوم اپنی رعایا کی جان و مال عزت آبرو کی حفاظت اور انکی خوشحالی کیلئے درد رکھنے والا نظام حکومت چاہیئے۔ خاندان مغلیہ کے اس آخری ڈیڈھ سو سالہ دور کو دیکھیں تو یہ دونوں باتیں نظر نہیں آتیں یہی وجہ ہے کہ ایک طرف تیموری خاندان کی عزت پامال ہوئی تو دوسری طرف سلطنت بھی ہاتھوں سے نکل گئی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”بہادر شاہ ظفر سلطنت مغلیہ کا آخری فرمانروا۔۔مہرساجدشاد

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *