امریکہ خود بھی تماشے کا حصہ بن چکا ہے۔۔اسد مفتی

سنتھیا رچی کے ملک امریکہ کا بجٹ خسارہ لگ بھگ سترہ کھرب ڈالر ہوگیا ہے۔صدر ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے جانے والے بجٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عراق اور افغانستان کی جنگوں کے باعث امریکہ کا بجٹ خسارہ مسلسل بڑھ رہا ہے،اور یہ کہ رواں سال کا بجٹ کا خسارہ ایک ریکارڈ ہے۔

سب سے پہلے ہم عراق،افغانستان کی جنگوں کا جائزہ لیتے ہیں۔امریکہ نے ۱۱ ستمبر کے مخالف امریکی حملے کے بعد افغانستان،عراق اور دوسرے مقامات پر دہشت گردی کے خلاف بلا وجہ لڑنے بھڑنے میں اب تک دس کھرب ڈالر سے زیادہ خرچ یا ضائع کردیا ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد دہشت گردی کے خلا ف یہ سب سے مہنگی جنگ ثابت ہورہی ہے۔امریکی کانگریس کی ریسرچ کمیٹی نے امریکی انقلاب کے بعد سے 230سال کا تحقیقی جائزہ لیا ہے،جس میں بتایا گیا ہے کہدوسری جنگ عظیم پر 40کھرب ڈالر سے زائد رقم خرچ ہوئی۔یہ جنگ1940کے عشرے میں لڑی گئی تھی،اس جنگ میں امریکہ کی قومی آمدنی کا 36فیصد جنگ میں کھپ گیا تھا،جبکہ11ستمبر 2001کے مخالف امریکہ حملے کے بعد امریکہ کی قومی آمدنی کا ڈیڑھ فیصد مخالف دہشت گردی جنگ پر خرچ ہوگیا،جو کہ دوسری جنگ عظیم کے بعدسب سے بڑا جنگی مصارف ہے۔

جنگوں پر عہد قدیم سے جو مصارف ہورہے ہیں،ان کی قدروں کا اندازہ لگانا ایک مشکل کام ہے،کہ وقت کے ساتھ رقم کی قدریں بھی بدلتی رہی ہیں۔تاہم آج ہم یہ جان سکتے ہیں،کہ امریکی حکومت کے قرضوں کا حجم 10کھرب ڈالر سے تجاوز کرکے تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے،اس دہلا دینے والے سنگ میل کو عبور کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ رقم امریکیوں پر مساری تقسیم کی جائے تو ہر امریکی 45ہزار تین سو ڈالر کا مقروض ہوگا۔

حکومتی حلقوں میں اخراجات پر بحث تو کئی عشروں سے ہوتی آرہی ہے،لیکن آنے والے دنوں میں امریکی کانگریس کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ قرضوں کی قانونی حد بڑھائی جائے یا نہیں؟۔۔
یا پھر قرضوں کے موجودہ حجم کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے بجٹ میں ردو بدل کرکے حکومتی اخراجات میں کمی کی جائے،حکومتی اخراجات میں “کمی”کی ایک تازہ مثال یہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی مغربی جمہوریت کے فرمانرواں صدر ترمپ گزشتہ ماہ اپنے کنبے کے افراد کے ہمراہ امریکی ریاست ہوائی میں بڑے تزک و احتشام کے ساتھ چھٹیاں مناتے ہوئے امریکی خزانے کے 20 لاکھ ڈالر پھونک دیے،جبکہ امریکہ پر 17کھرب ڈالر کا بوجھ لدا ہوا ہے،یہ بوجھ کیسے اُترے گا؟۔۔
اس کے لیے ماہرین کا خیال ہے کہ تمام امریکی اداورں پر ٹیکس لگانا پڑے گا،اور اس کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے روزگار ہوجائیں گے۔

امریکہ میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران افراطِ زر اور بے روزگاری دونوں کی شرح میں غیر متوقع اضافہ دیکھنے میں آیا ہے،امریکی ماہرینِ معاشیات نے امریکی معیشت کو بحالی کی جانب گامزن کرنے کی حکومتی دعوؤں کو غلط بیانی قرار دیا ہے۔امریکی لیبر ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت سے مراعات کے لیے رجوع کرنے والے بے روزگار شہریوں کی تعداد میں گزشتہ ماہ کرونا کے دوران 58ہزار کا اضافہ ہوا ہے،جس کے باعث امریکہ بھر میں بے روزگاروں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے۔اور اب یہ تعداد چار لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔
ادھر امریکی معیشت کی شرح نمو توقعات سے کم ہورہی ہے،ایک رپورٹ کے مطابق 2018 کی چوتھی سہ ماہی کے دوران دنیا کی سب سے بڑی معیشت امریکہ ی شرح نمو 3.2(تین اعشاریہ دوفیصد) رہنے کا تخمینہ لگایا گیا تھا،تاہم یہ 2.8(دو اعشاریہ آٹھ فیصد)رہی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جی ڈی پی نمو میں کمی تشویش ناک ہے،یہی وجہ ہے کہ امریکہ میں امیر اور غریب طبقے کے درمیان خلیج اتنی بڑھ گئی ہے جتنی کہ پہلے کبھی ریکارڈ نہیں کی گئی تھی۔
امریکی”دارالخلافہ” واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک اکنامک پالیسی انسٹی ٹیوٹ نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اس طرح کا امریکیوں کے درمیان اتنا زیادہ فرق نہیں دیکھا گیا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کے ایک فیصد امیر ترین شہری ننانوے فیصد اوسط امریکی شہری(گھرانوں)کے مقابلے میں 225گنا زیادہ دولت کے مالک ہیں،جبکہ ساٹھ کے عشرے میں یہ تناسب 125گنا تھا۔عالمگیر کساد بازاری کی وجہ سے 2009میں امیر ترین امریکی شہری اوسطاً 15ملین ڈالر کے مالک تھے،اور یہ رقم کساد بازاری کی وجہ سے 2007میں 27فیصد کم تھی،کہ امریکی گھرانوں میں اس عالمگیر اقتصادی بحران نے زیادہ شدید اثرات مرتب کیے،2009میں ان کے مالی اثاثے 64ملین ڈالر ریکارڈ کیے گئے،جو 41فیصد زیادہ تھے۔۔

میرے حساب سے سرمایہ دارانہ نظام کے علاوہ امریکہ کے سرکاری خسارے ا سب سے بڑا سبب “امریکی دفاعی بجٹ “ہے۔جو کہ 12سو ارب کے لگ بھگ ہے،جبکہ چین جیسے بڑے ملک کا دفاعی بجٹ 91ارب25 کروڑ ہے، صرف افغانستان میں امریکہ کے 97ہزار جوفی موجود ہیں،جو وہاں وقت ضائع کررہے ہیں،ان پر امریکی ٹیکس دہندگان کا روزانہ کا 30کروڑ ڈالر “ضائع “ہورہا ہے۔ان کے علاوہ امریکی کانگریس نے افغانستان کی جنگ کے لیے 345بلین ڈالر منظور کررکھے ہیں،جبکہ عراق کی جنگ میں 800بلین ڈالر کا تصرف عمل میں آچکا ہے،ان سب “فضول خرچیوں ” کے باوجود امریکی حکومت دفاعی بجٹ اور فوجی اخراجات کو 17کھرب ڈالر خسارے کا سبب ماننے کو تیار نہیں ہے،البتہ ٹرمپ اس بات پر تیار ہیں کہ غیر فوجی اخراجات کو پانچ برس تک منجمد کر دیا جائے،تو آئندہ دس برس تک 400بلین ڈالر سے زائد کے خسارے سے بچا جاسکتا ہے،اس وقت امریکہ کی مجموعی قومی پیداوار14890ارب ڈالر ہے،جبکہ چین 9854ارب ڈالرکی مجموعی قومی پیداوار کے ساتھ دوسرے نمبر پر پر ہے،اور جاپان 4333ارب ڈالر کی مجموعی قومی پیداوار کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔

حرفِ آخر کے طور پر یہ کہنا چاہوں گا،کہ امیرکہ کی زوال پذیر معیشت اور اس کے تناظر میں معیشت کی مسلسل بدحالیاور امریکی ریاستوں کی توڑ پھوڑ کی پیش گوئیاں اپنی جگہ پر تاہم حقیقت یہ ہے
کہآج بھی امریکہ گیارہ منٹ میں آدھی دنیا کو تباہ کرسکتا ہے۔
تیری یاد سے میری تنہائی کے لشکر ڈھیر ہوئے
ہجر میراجو وصل بنادے،ایسے بھی کچھ شعر ہوئے!

اسد مفتی
اسد مفتی
اسد مفتی سینیئر صحافی، استاد اور معروف کالم نویس ہیں۔ آپ ہالینڈ میں مقیم ہیں اور روزنامہ جنگ سے وابستہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *