• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ذاتی اصلاح و کردار سازی سے جنت نظیر معاشرے کی طرف سفر۔۔شاہد محمود

ذاتی اصلاح و کردار سازی سے جنت نظیر معاشرے کی طرف سفر۔۔شاہد محمود

فرد معاشرے کی اکائی ہے۔ فرد سے ہی خاندان تشکیل پاتا ہے۔ مختلف خاندان جب ایک جگہ رہتے ہیں تو معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ اگر افراد کے اپنے ذاتی معاملات اور دوسروں سے معاملات صاف شفاف ہوں تو معاشرہ جنت نظیر بن جاتا ہے۔ اس کے لئے فرد کی کردار سازی و اصلاح، معاشرے کی اصلاح کی بنیاد ہے۔
ذاتی اصلاح و کردار سازی کے لئے نوجوان نسل کے لئے درج ذیل امور کو مدنظر رکھنا مفید ہے۔ آپ سب احباب بھی اپنی رائے سے آگاہ کیجئے۔

1۔ گلے شکوے ختم کیجئے؛
سب سے پہلے تو اپنی زندگی سے گلے شکوے ختم کر دیجئے۔ تقدیر، والدین، بہن بھائیوں، دوست احباب، اساتذہ، ماحول اور معاشرے کے دوسرے کرداروں سے کسی بھی قسم کا گلہ شکوہ کئے بغیر کسی بھی معاملے میں اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں اور نتیجہ اللہ کریم پر چھوڑ کر توکل کیجئے۔

احمد فراز نے کہا تھا؛
شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

اپنی بات کی وضاحت کے لئے ایک اور شعر پیش خدمت ہے جس کے شاعر کا نام معلوم نہیں؛

توکل کا یہ مطلب ہے کہ خنجر تیز رکھ اپنا
نتیجہ اس کی تیزی کا مقدر کے حوالے کر

2۔ اپنے خیالات، جذبات، رویے اور ردعمل پر کنٹرول کرنا سیکھیں؛
آپ کے خیالات و رویہ آپ کے الفاظ کی طرح صرف اس وقت تک آپ کے ہیں جن تک آپ ان کا اظہار نہیں کر دیتے۔ اور بجائے خیالات اور وسوسوں کا غلام بننے کے اپنے خیالات کو کنٹرول کرنا سیکھیں اور کسی کی تلخ بات کے جواب میں بھی تحمل و برداشت کا مظاہرہ کریں۔ تحمل و برداشت سرکش نفس کو زیر کرنے میں اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں۔ کسی کی منفی بات کا مثبت ردعمل دینا آپ کی اخلاقی فتح ہے۔

3۔ اپنے آپ کو معاف کرنا؛
غلطیاں و گناہ انسان سے سرزد ہوتی ہیں۔ زندگی میں کبھی ایسا ہو جائے تو اپنی غلطی سدھاریں، گناہ کی توبہ کریں اور زندگی کے سفر میں آگے بڑھ جائیں۔ خود کو ملامت کرتے رہنا یا اپنے عمل پر بار بار پچھتاتے رہنے سے گزرا ہوا وقت تو واپس نہیں آئے گا البتہ آپ کی زندگی سلجھ جائے گی۔ اس لئے غلطیاں سدھار کر، توبہ کر کے، خود کو معاف کر کے زندگی میں آگے بڑھ جائیں۔

4۔ دوسروں کو معاف کرنا سیکھیں؛
جس طرح آپ چاہتے ہیں کہ دوسرے آپ کی غلطیوں سے درگزر کریں، آپ کی خطائیں معاف کر دیں اور اللہ کریم بھی آپ کو معاف فرما دے تو دوسروں کو معاف کرنا سیکھیں۔ کسی کے خلاف نفرت، غصے یا انتقام کے جذبات دل و دماغ میں رکھ کر آپ خود کو اور اپنی صلاحیتوں کو بیڑیوں میں جکڑ دیتے ہیں۔ دوسرا شخص مزے سے زندگی انجوائے کر رہا ہوتا ہے۔ اس لئے الجھنے کی بجائے معاف کر کے اپنے آپ کو اور اپنی۔صلاحیتوں کو غصہ، نفرت و انتقام جیسے جذبات اور ان سے پیدا ہونے والے نتائج سے بچا کر زندگی میں آگے بڑھ جائیں۔

5۔ خود ترسی و خودسری دونوں سے بچیں؛
خودسری انسان کو زیبا نہیں۔ خود ترسی یعنی ہر وقت روتے دھوتے رہنا کہ میرے ساتھ یہ ہو گئا، وہ ہو گیا، میں بہت مظلوم ہوں وغیرہ وغیرہ میں کھوئے رہنے سے بچیں اور ایسے لوگوں کی صحبت سے بھی بچیں۔

6۔ اپنی اور دوسروں کی غلطیوں سے سبق / تجربہ حاصل کریں؛
عملی زندگی میں اقدامات اٹھاتے ہوئے اپنوں اور دوسروں کی غلطیوں سے سیکھے ہوئے اسباق / تجربے کو مدنظر رکھیں۔ غلطی پر ڈٹ جانا یا غلطیاں دہرانا بڑی غلطی ہے۔

7۔ کڑھنا چھوڑ دیجئے؛
کچھ چیزیں / معاملات آپ کے اختیار میں ہوتے ہیں انہیں آپ احسن طریقے سے سرانجام دیں۔ لیکن جو چیزیں و معاملات آپ کے اختیار میں نہیں ہیں ان کی بابت کڑھنا صحت، وقت اور صلاحیتوں کو ضائع کرنا ہے۔

8۔ اپنے آپ کو عقل کل نہ سمجھیں؛
دنیا میں جتنے انسان ہیں اللہ کریم کی مخلوق ہیں۔ بہت سے انسان علم و تجربہ میں آپ سے بڑھ کر ہو سکتے ہیں۔ سب انسانوں کے ساتھ احترام کا رویہ رکھیں۔ سب کے انفرادی وجود کو سلیم کرتے ہوئے زندگی گزاریں تو زندگی آسان ہو جائے گی۔

9۔ سب کو خوش کرنا دیوانے کا خواب ہے؛
زندگی میں آپ سب کو خوش نہیں کر سکتے۔ اس لئے آپ کے کام یا آپ کے متعلق دوسرے کیا کہتے ہیں یا “لوگ کیا کہیں گے” والا رویہ چھوڑ دیجئے۔

10۔ اپنی صلاحیتوں کو نکھاریں؛
اپنی صلاحیتوں اور وسائل کو مل بانٹ کر استعمال کرنا سیکھیں اس سے آپ کی صلاحیتیں نکھرتی ہیں اور معاشرے میں آپ کی افادیت بڑھتی ہے۔

11۔ موجود کے لمحے میں رہنا سیکھیں؛
ماضی کو آپ بدل نہیں سکتے، مستقبل آپ کے اختیار میں نہیں ہے۔ ماضی میں رہنا یا مستقبل کے خدشوں سے الجھنے والے “سلجھن” والوں یعنی ماہر نفسیات کی فیس ادا کر کے اس مرض سے نجات پائیں۔

12۔ اپنے مقاصد طے کیجئے؛
غور و فکر و مشاورت سے اپنے مقاصد طے کیجئے اور پھر ان کے حصول کی منصوبہ بندی کیجئے۔ اس پر اپنی بہترین صلاحیتوں کے مطابق عملدرآمد کیجئے۔ اگر آپ ناکام ہوتے ہیں تو اپنی ناکامی کی وجوہات کا تجزیہ کر کے دوبارہ کوشش کیجئے۔

13۔ ٹیم ورک؛
ٹیم ورک کرنا سیکھیں۔ دوسروں پر اعتماد کر کے ان کی صلاحیتوں کے مطابق انہیں کام سونپیں۔ دوسروں کی کامیابی کی تعریف کرنا سیکھیں۔ اپنے اوپر ہونے والی تنقید برداشت کر کے اس کا تجزیہ کرنا سیکھیں۔

14۔ اپنی سوچ ہمیشہ مثبت رکھیں۔

15۔ کسی کے نقصان کا باعث نہ بنیں۔

16۔ با ادب با نصیب

17۔ زندگی بے بندگی شرمندگی ہی شرمندگی

18۔ قناعت و تقویٰ کو اپنا شعار بنائیں

19۔ بقول اقبال رح
خدائے لم یزل کا دستِ قُدرت تُو، زباں تُو ہے
یقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوبِ گُماں تو ہے

یقیں محکم ، عمل پیہم ، محبت فا تح عا لم
جہاد زندگانی میں یہ مردوں کی شمشیریں

عمل سے زندگی بنتی ہے جنّت بھی، جہنّم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نُوری ہے نہ ناری ہے

20۔ اور اگر کوئی بات سمجھ نہیں آئی تو پھر بقول اقبال رح
اپنے من میں ڈوب کر پا لے سرا غِ زند گی
تو ا گر میرا نہیں بنتا نہ بن ، اپنا تو بن

سب کی کامیابیوں، خوشیوں اور خوشحالی کے لئے دعاگو

شاہد محمود
شاہد محمود
میرج اینڈ لیگل کنسلٹنٹ ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *