ٹرانس جینڈر افراد کے انسانی حقوق اور ٹرانس فوبیا۔۔ارشد بٹ

انسانی تاریخ میں مذہبی، ثقافتی، سماجی اورقانونی سطح پر دو قسم کی جنسی یا صنفی شناخت اور سماجی کردار تسلیم کیے جاتے رہے ہیں یعنی عورت اور مرد۔ تیسری جنسی شناخت ہمیشہ سے انسانی سماج کا حصہ رہی ہے مگر معاشرے نے تیسری جنسی شناخت کو عورت اور مرد کے برابر انسانی حقوق اور قانونی شناخت کا درجہ نہ دیا۔ مگر دور حاضر میں عالمی سطح پرمتعد ممالک تیسری جنسی شناخت کو قانونی شناخت دے چکے ہیں۔ تیسری جنسی شناخت کے لئے عمومی طور پر ٹرانس جینڈر کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ ٹرانس مرد ایسے مرد کو کہا جاتا ہے جس کو پیدائشی زنانہ خواص بھی تفویض ہوتے ہیں جبکہ ٹرانس عورت ایسی عورت ہے جس میں پیدائشی مردانہ خواص بھی پائے جاتے ہیں۔ ٹرانس مرد اور ٹرانس عورت کے مذکورہ خواص فطری اور پیدائشی ہوتے ہیں۔ تیسری جنسی خواص سے انسانی پیدائش نہ کوئی بیماری ہے جو کسی میڈیسن سےدور ہو سکتی ہے، اور نہ ہی بطورتیسری جنس پیدا ہونے والی یا والے کی یہ اپنی پسند ناپسند  ہوتی  ہے۔

برطانیہ نے سب سے پہلے ٹرانس جینڈر شناخت کا قانون ۲۰۰۴ میں منظور کیا۔ اب عالمی سطح پر کئی ممالک تیسری جنسی شناخت کے قوانین منظور کر چکے ہیں۔ پاکستا ن نے مئی ۲۰۱۸ میں تحفظ حقوق برائے ٹرانس جینڈر کا قانون بنایا۔ تیسری جنس کی قانونی شناخت کے بعد ٹرانس جینڈر اشخاص کے لئے عورتوں او مردوں کے برابر انسانی اور قانونی حقوق کی جد و جہد کے نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے۔ مگر پسماندہ ثقافتی روئیے اور روائتی مذہبی حلقے تیسری جنسی شناخت کے حامل انسانوں کو مردوں اور عورتوں کے برابر انسانی اور قانونی حقوق دینے پر آمادہ نظر نہیں آتے۔ مغربی ممالک میں انسانی حقوق کی تنظیمیں اور ٹرانس جینڈر رائٹس موومنٹ نے تیسری جنسی شناخت کے حامل افراد سے امتیازی سلوک اور ان پر تشدد کے خلاف تحریک کا آغاز کر رکھا ہے۔ انکے نمایاں مطالبات میں رہائش، ملازمت، تعلیم، صحت ، خاندانی قوانین میں عورتوں اور مردوں کے مساوی حقوق اور پبلک مقامات پر احترام کیا جانا شامل ہیں۔

دنیا کے کئی ممالک بشمول مسلم ممالک میں ابھی تک ٹرانس جینڈر افراد کو حقارت اور نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ معاشرتی، مذہبی اور ثقافتی سطح پر ٹرانس جینڈر اشخاص کو انسانی درجہ سے کم تر مخلوق تصور کیا جاتا ہے۔ یورپی ممالک میں انسان دوست دانشور، سیاسی کارکن ، صحافی اور انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیمیں شدید ترین بحرانوں میں بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مفاہمانہ رویہ اختیار کرنے کو تیار نہیں ہوتیں۔ اس لئے مذہب، عقیدہ، رنگ و نسل، قومیت، ثقافتی پس منظر یا جنس کی بنیاد پر امتیازی سلوک کے خلاف تسلسل سے آواز بلند کی جاتی ہے۔ سیمیناروں، اجلاسوں، مظاہروں ، اخباری تحریروں اور میڈیا پر مباحثوں میں امتیازی سلوک کا شکار گروہ یا افراد کے حقوق کی پاسداری ، اور انہیں درپیش مسائل پر کھل کر اظہار خیال کیا جاتا ہے۔ کورونا وائرس وبا کے پھیلاؤ  کے بعد عوامی اجتماعوں پر پابندی لگا دی گئی، جس کی وجہ سے ہر قسم کی عوامی سر گرمیاں ماند پڑ چکی ہیں۔ مگر اس کی کمی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے پوری کی جاری ہے۔ آجکل ویبینار یعنی ویب سیمینار اور اجلاسوں کا رواج مقبول ہو رہا ہے۔

یورپ میں آباد پاکستانی پس منظر رکھنے والے انسان دوست دانشور اور انسانی حقوق کے کارکن انسان دوستی اور انسانی حقوق کی جد وجہد میں پیچھے نہیں رہتے۔ پاکستان کے اندر اور بیرون ملک پاکستانی کمیونٹی میں ٹرانس جینڈر اشخاص کے مسائل اورحقوق پر بات کرنا جہاں ایک ٹیبو ہے وہا ں قدامت پرست مذہبی حلقے اسے مذہبی تعلیمات اور روایات سے بغاوت تعبیر کرتے ہیں۔ انتہا پسند مذہبی رجحان رکھنے والے بعض علما تو فتویٰ بازی سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ جبکہ پسماندہ ثقافتی روایات پر کاربند افراد اسے اپنی تہذیبی، ثقافتی اور تاریخی روایات کے منافی قرار دیتے ہیں۔

ہالینڈ میں گزشتہ دنوں انسانی حقوق کی دوتنظیموں اوورسیز پروگریسو پاکستانیز، او پی پی، اورنیو ویمن کونیکٹر نے بڑی جرائت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹرانسجینڈر افراد کے قانونی حقوق اور ٹرانس فوبیا پر ایک مشترکہ انٹر نیشنل ویب سیمینار منعقد کیا گیا۔ جس میں ہالینڈ کے علاوہ بیلجئیم، برطانیہ، جرمنی، سویڈن، ناروے، آسٹریلیا اور روانڈا سے پاکستانی پس منظر رکھنے والے اور دیگر قومیتوں کے سکالر ، دانشور ، سیاسی کارکن اور صحافی شامل ہوئے۔ اس کا مقصد ٹرانس جینڈر افراد پر تشدد اور امتیازی سلوک کے واقعات کو سامنے لانا، انکے تدارک پر بات چیت کرنا اور تیسری جنس سے متعلقہ بیالوجیکل، سماجی، مذہبی، جذباتی، نفسیاتی اور اقتصادی پہلوں پر روشنی ڈالنا تھا۔

سماجی علوم کی معروف سکالر ڈاکٹر لین منیر، ٹینا ڈکسن ، او پی پی کے کوآرڈینیٹراور نیو وویمن کونیکٹر کی ڈائریکٹر انیلا نور کے مطابق ٹرانسجینڈر افراد کے خلاف تعصبات، نفرت اور امتیازی سلوک کی شاخیں پدرسری خاندانی نظام، مذہبی عقائد، نظام تعلیم اور ثقافتی رویوں سے پھوٹتی ہیں، جس کا اظہار انفرادی رویوں،قانونی نظام اور ریاستی پالیسیوں میں ہوتا ہے ۔ یہ معاملہ تیسری جنس کو قانونی طور پر تسلیم کرنے یا معاشرتی قبولیت تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک فرد کا وقاراور احترام کے ساتھ معاشرتی زندگی بسر کرنے کا انسانی حق ہے۔ آج کی دنیا میں ٹرانسجینڈر افراد کے حقوق کا تحفظ کئے بغیر انسانی حقوق، عورتوں کے حقوق اور معاشرتی تنوع کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ ٹرانس وومن ہیلتھ نے اپنے ذاتی تجربات کی روشنی میں بتایا کہ ٹرانسجینڈر افراد کو دنیا بھر میں کم و بیش ایک جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے واضع کیا کہ پدر سری طاقت کو انفرادی اور خاندانی سطح کی کاوشوں سے کمزور کیا جا سکتا ہے۔ ان کے نزدیک جب تک تعلیمی نصاب اور تخلیقی ثقافتی اظہار میں ٹرانسجینڈر کے متعلق منفی سوچ اور تصورات کا خاتمہ نہیں کیا جاتا عوامی سطح پر کسی مثبت تبدیلی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

Avatar