جرمن اسکالر ڈاکٹرالموٹ ڈیگنرسے طارق اقبال کی بات چیت

’روحزن‘ اردو ادب میں ایک نئی اور انوکھی آواز ہے۔

طارق اقبال: اردو زبان سے آپ قریب کیسے ہوئیں؟
الموٹ دیگنر: یہ بات اس وقت کی ہے یا یوں کہیں کہ بہت عرصہ ہوا جب میں چھوٹی تھی، مطلب میرا طالب علمی کا زمانہ تھا۔ ہماری یونیورسٹی میں ایک ہندوستانی طالب علم تھا جس کی مادری زبان اردو تھی اس وقت میں ہندوستان کی صرف ایک زبان جانتی تھی سنسکرت، تب ہوا یوں کہ پہلی بار اس لڑکے سے اردو کا کوئی شعر سنا۔مجھے یہ احساس ہوا کہ اس زبان میں، اس شاعری میں کوئی بات ہے جو کسی اور زبان میں نہیں ہے۔ہماری جرمن زبان میں بھی نہیں۔ اس طرح اردو سے آشنا ہوئی۔ اردو سیکھی، یہ سوچا جرمنی میں کیوں نہ دوسرے لوگ بھی اردو سے واقف ہوں،چنانچہ خود یہاں کی ایک یونی ورسٹی میں اردو پڑ ھانے لگی۔ جرمنی میں اکثر لوگ اس وقت اردو سے واقف نہیں تھے۔ ایسے بھی ہوں گے جنھوں نے نام بھی نہیں سنا ہوگا۔ پاکستان سے آئے ہوئے لوگوں کی زبان اردو تھی لیکن وہ اس کا استعمال نہیں کر پاتے تھے۔ ہم نے ایک ادارہ قائم کیا ہے جہاں ہم طالب علموں کو میر، اقبال، غالب، منٹو اور دوسرے ادیبوں کے بارے میں پڑھاتے ہیں۔

طارق اقبال: اس وقت جرمنی میں اردو کی کیا صورت حال ہے؟
الموٹ دیگنر: اس وقت یہاں کئی یونی ورسٹیوں میں اردو پڑھائی جاتی ہے لیکن ہندی سے زیادہ مقبول نہیں ہے حالانکہ مجھے لگتا ہے ہندی سے زیادہ اردو کی اہمیت ہوناچاہیے کیونکہ اس زبان میں جس طرح کی نزاکت اور تہذیب ہے وہ ہندی میں نہیں ہے۔

طارق اقبال: یہ بتائیں اردو آپ کے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟
الموٹ دیگنر: میرے لیے اردو ایک نازک احساس اور تہذیب سے وابستگی کا وسیلہ ہے۔

طارق اقبال: جب آپ اردو سے آشنا ہو ئیں یا لرننگ پروسیس میں تھیں آپ کو یاد آتا ہے تب پہلی بار آپ نے کسے پڑھا؟ اردو فکشن یا شاعری؟
الموٹ دیگنر: ہاں شاعری ہی پڑھی۔

طارق اقبال:آپ نے انتظار حسین کو پڑھا ہے ترجمہ بھی کیا ہے، قرۃ العین کے ’ناول آگ کا دریا‘ پر بھی لکھا ہے اور اب آپ رحمان عباس کے ناول ’روحزن‘ کا جرمن زبان میں ترجمہ کر ر ہی ہیں؟ایسا کیا لگا آپ کو روحزن میں؟
الموٹ دیگنر: رحمان عباس کا ناول بہت دلچسپ ہے بلکہ اردو ادب میں ایک نئی اور انوکھی آواز ہے۔ اس لیے میں نے اسے جرمن زبان میں ترجمہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

طارق اقبال: آپ لسانیات پر کام کرتی رہی ہیں، ہمالیائی زبانوں پر آپ نے کام کیا ہے۔ ہمالیائی خطے کی چھوٹی چھوٹی زبانوں کا کیا مستقبل ہے؟
الموٹ دیگنر: مجھے لگتا ہے جو چھوٹی چھوٹی بولیاں ہیں وہ بول چال کی زبانیں ہی رہیں گی۔ یہ اردو اور فارسی کی طرح ادبی زبانیں نہیں بن سکیں گی۔

طارق اقبال: آ پ اس وقت پاکستان میں لکھے جانے والا ادب بھی پڑھ رہی ہوں گی، ایسی کوئی کتاب پاکستان سے جس نے آپ کو متاثر کیا ہو؟ جیسے ہندوستان سے آپ نے رحمان عباس کو دریافت کیا ہے۔
الموٹ دیگنر: میرے خیال میں یا پھر یوں کہہ لیں کہ میں جرمن ہوں تو جب میں باہر سے دیکھتی ہوں تو دونوں ملکوں میں مجھے ادب میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتاجب فہمیدہ ریاض یا انتطار حسین کراچی یا لاہور کی بارے میں لکھ رہے ہوتے ہیں تو اردو کی ثقافت کی جڑیں ایک ہی ہوتی ہیں۔

طارق اقبال: آپ نے ہندوستانی فلمیں دیکھی ہیں؟
الموٹ دیگنر: نہیں ابھی تک تو نہیں۔ امید ہے ضرور دیکھوں گی۔

طارق اقبال: انگریزی اور فرانسیسی کے بعد جرمن زبان کے ادیبوں کو سب سے زیادہ نوبل انعام ملا ہے، اس کے بارے میں آپ کیا کہیں گی؟
الموٹ دیگنر: یہ اچھی بات ہے لیکن اس کے ساتھ یہ ایک سیاسی بات بھی ہے اور مجھے لگتا ہے جن کو نہیں ملا ہے یا کبھی نہیں ملے گا وہ اچھے رائٹر نہیں ہیں یا کمتر زبان میں ادب تخلیق کرتے ہیں ایسا بھی نہیں ہے۔

طارق اقبال: جب آپ جرمنی میں ہوتی ہیں تو کیا اردو زبان بولنے والے آپ کو مل جاتے ہیں؟
الموٹ دیگنر: ملتے ہیں لیکن آسانی سے نہیں۔

طارق اقبال: اردو شاعری میں آپ کو کون پسند ہے؟
الموٹ دیگنر: غالب میرا سب سے زیادہ پسندیدہ شاعر ہے۔میر بھی پسند ہے۔ نئی شاعری بھی پسند ہے لیکن کس کا نام لوں، ہاں جون ایلیا بھی پسند ہے۔ غالب کلاسیکل ہیں تو جون ایلیا موڈرن ہیں۔

طارق اقبال: فکشن میں آپ کس کو پسند کرتی ہیں؟
الموٹ دیگنر: (ہنسی کے ساتھ) ہاں مجھے منٹو بہت پسند ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(ڈاکٹر المرٹ ڈیگنر کا مختصر تعارف)
ڈاکٹرالموٹ ڈیگنرجرمنی میں مائنز یونی ورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف انڈولوجی میں پروفیسر ہیں۔ اُنہوں نے ہمبرگ یونی ورسٹی سے ایرانی اور ہندستانی مطالعات میں ڈکٹوریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے۔ ان کی دلچسپی نورستانی، داردیک، کوہستانی اور اردو زبان کے مطالعے کے ساتھ ساتھ بدھ مت میں بھی ہے۔ان زبانوں، ثقافت اور لسانیاتی مطالعات پر ان کی چار کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔علاوہ ازیں کچھ کتابیں اُنہوں نے دیگر محققین کے ساتھ مل کر لکھی ہیں جو کیمرج اور ہارورڈ یونی ورسٹی پریس نے شائع کی ہیں۔ ڈاکٹر المرٹ ڈیگنرکے بہت پچاس سے زائد علمی، لسانی اور ثقافتی مطالعات پر مبنی مضامین جرمنی کے مؤقر علمی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں جن میں قرۃ العین حیدر کے ناول’آگ کا دریا‘ اور انتظارحسین کی فن کاری پرمضامین بھی شامل ہیں۔یہاں وہ رحمن عباس کا ناول ’روحزن‘ اردو سے جرمن زبان میں ترجمہ کر رہی ہیں جسے جرمنی کا مشہور پبلی کیشن draupadi-verlag مئی 2018 میں شائع کرنے کا اعلان کر چکا ہے۔ان دنوں وہ بھارت کے شہر لکھنؤ میں ایک تعلیمی پروجیکٹ پر آئی ہوئی ہیں۔ (طارق اقبال)
۔۔۔۔۔۔۔

طارق اقبال
(طارق اقبال بنیادی طور پر افسانہ نگار ہیں اور متعدد اخباروں کے لیے مضامین اور اسٹوریز کور کرتے ہیں۔)

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *