امام حسینؑ کی خدا سے باتیں۔ ڈاکٹر ندیم عباس

 دعا و مناجات خدا کے نیک بندوں کی مشترکہ میراث ہے۔تمام انبیائے الہی نے دعاؤں کی صورت میں معارف الہی کا ایک عظیم مجموعہ انسانوں کی رہنمائی کے لیے چھوڑا ہے۔خاتم الانبیاء ؑ کے پروردہ معرفت الہی کی اعلی منزل پر فائز تھے مدینہ سے مکہ اور مکہ سے کربلا تک امام حسینؑ نے مختلف دعاؤں اور مناجات کی صورت میں پرودگار عالم کو مخاطب کیا،پرودگار سے اپنے دل کی باتیں کی ہیں،دل ِ مطمئن سید الشہداءحضرت امام حسینؑ سے نکلنے والی یہ دعا و مناجات معارف دین کا عظیم الشان خزانہ ہے ۔دعا و مناجات کا ایک ایک لفظ دل میں گھر کر جاتا ہے،ویسے بھی کہا جاتا ہے کلام الامام امام الکلام کہ امام کا کلام کلاموں کا امام ہوتا ہے۔امام حسینؑ پردگار کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں :ماذا وَجَدَ مَنْ فَقَدَکَ وَمَا الَّذی فَقَدَ مَنْ وَجَدَکَ پروردگار! جس نے تجھے کھو دیا اس نے کیا پایا؟ اور جس نے تجھے پا لیا اس نے کیا کھویا؟ جس کو دنیا مل گئی مگر اس نے خدا کو کھو دیا اس کی یہ دنیا کسی کام کی نہیں ہے اور جس نے پروردگار کو پا لیا اگر پوری دنیا بھی اسے چھوڑ جائے تو اسے کوئی پرواہ نہیں ہونی چاہیے کیونکہ پرودگار عالم اس کے ساتھ ہے۔

كَيْفَ يُسْتَدَلُّ عَلَيْكَ بِما هُوَ فى وُجُودِهِ مُفْتَقِرٌ اِلَيْكَ اَيَكُونُ لِغَيْرِكَ مِنَ الظُّهُورِ ما لَيْسَ لَكَ حَتّى يَكُونَ هُوَ الْمُظْهِرَ لَكَ مَتى غِبْتَ حَتّى تَحْتاجَ اِلى دَليلٍ يَدُلُّ عَليْكَ وَمَتى بَعُدْتَ حَتّى تَكُونَ الاْ ثارُ هِىَ الَّتى تُوصِلُ اِلَيْكَ عَمِيَتْ عَيْنٌ لا تَراكَ عَلَيْها رَقيباً، اے پروردگار ،وہ چیز کیسے تیری رہنمائی کرسکتی ہے، جو اپنے وجود میں ہی تیری محتاج ہے؟آیا تیرے سوا کسی اور شے کے لئے ایسا ظہور ہےجو تیرے لئے نہیں ہےیہاں تک کہ وہ تجھے ظاہر کرنے والی بن جائے؟ تو کب غائب تھا کہ کسی ایسے نشان کی حاجت ہوجو تیری دلیل ٹھہرے؟ تو کب دور تھا کہ آثار اور نشان تجھ تک پہنچنے کا ذریعہ اور وسیلہ بنیں؟

پروردگار! میں تو جہاں بھی دیکھتا ہوں وہاں تیری ہی ضیاء افشانی ہے۔

پروردگار! اندھی ہے وہ آنکھ جو تجھ کو اپنا نگہبان نہیں پاتی۔ امام حسینؑ قنوت میں اللہ کے حضور یہ دعا مانگا کرتے تھے: ؎

اللهم من أوى إلى مأوىً فانت مأواي، ومن لجأ إلى ملجأ فأنت ملجأي، اللهم صل على محمد وآله، واسمع ندائي، وأجب دعائي، واجعل مآبي عندك ومثواي، واحرسني في بلواي من افتتان الامتحان، ولمّة الشيطان بعظمتك التي لا يشوبها ولع نفس بتفتين، ولا وارد طيف بتظنين، ولا يلم بها فرج حتى تقلبني إليك بارادتك غير ظنين ولا مظنون، ولا مراب، ولا مرتاب، إنك ارحم الراحمين اے معبود کوئی شخص کسی طرف مائل ہوا کوئی کسی طرف مائل ہوا میں تیری طرف مائل ہوں اور کوئی کسی کی پناہ میں جاتا ہے میں تیری پناہ لیتا ہوں ۔

اے معبود رحمت نازل فرما محمد و آل محمدؑ پر اور میری آواز سن اور میری دعا قبول فرما،میری بازگشت اور ٹھکانہ اپنے ہاں قرار دے،میری نگہبانی کرسخت آزمائشوں مشکل وقت اور شیطان کی دخل اندازیوں میں اپنی عظمت کے ذریعے جس میں نفس کی خواہش کا شائبہ نہیں، نہ بدگمانی کے کسی خیال کا گزرہو اور نہ مدہوشی کا خطرہ تاآنکہ تومجھے اپنی طرف پلٹائے اپنے ارادے سے بدگمانی اور نہ تہمت کے ساتھ، نہ شک و شبہ کی حالت میں یقیناتو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ انسان کی زندگی میں بہت سی مشکلات آتی ہیں ۔بہت سے لوگ ان مشکلات سے ڈر کر پیمانہ صبر چھوڑ کر شکست تسلیم کر لیتے ہیں۔

امام حسینؑ دس محرم کے دن مشکل ترین وقت میں اپنے رب سے اپنی مشکل کا ذکر کیااور اپنے بیٹے امام علی زین العابدینؑ کو اس کی تعلیم دی یہ دعا معارف الہی سے پر ہے: بِحَقِّ يَس وَالقُرْآنِ الحَكيمِ، وَبِحَقِّ طَهَ وَالقُرْآنِ العَظِيمِ، يَا مَنْ يَقْدِرُ عَلَى حَوَائِجِ السَّائِلين، يَا مَنْ يَعْلَمُ مَا في الضَّمِيرِ، يَا مُنَفِّسُ عَنِ المَكْرُوبِين، يَا مُفَرِّجُ عنِ المَغْمُومينَ، يا رَاحِمَ الشَّيْخِ الكَبيرِ، يَا رَازِقَ الطِّفْلِ الصَّغيرِ، يا مَنْ لا يَحْتاجُ إِلى التَّفْسيرِ، صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدِ وافْعَلْ بي مَا أَنْتَ أَهْلُهُ قرآن اور یسین کے وسیلہ سے،طہ اور قرآن عظیم کے وسیلہ سے،اے سوال کرنے والوں کی حاجتیں پوری کرنے والے،اے وہ جو دلوں میں موجود کو جاننے والا ہے ،اے وہ جو کرب میں مبتلا لوگوں کو کرب سے نجات دیتے ہو،اے جو پریشانیوں میں مبتلا لوگوں کی پریشانیوں کو دور کرتے ہو،اے وہ جو بزرگوں پر رحم کرتے ہو،اے وہ جو چھوٹے بچوں کو رزق عطا کرتے ہو،اے جو تفسیر کے محتاج نہیں ہو،محمدﷺ و آل محمدؑ پر درود بھیجو اور میرے ساتھ ایسا سلوک کرو جو تمہارے سزا وار ہے ۔

دشمنوں میں گھر جانے اللہ کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں أللّهُمَّ أَنْتَ مُتَعالِي المَكانِ عَظِيمُ الجَبَروتِ، شَدِيدُ المِحال غَنِيٌّ عَنِ الخَلائِقِ، عَرِيضُ الكِبْرِياءِ قادِرٌ عَلى ما تَشاءُ، قَرِيبُ الرَّحْمَةِ صادِقُ الوَعْدِ، سابِغُ النِّعْمَةِ حَسَنُ البَلاءِ، قَرِيبٌ إِذا دُعِيتَ مُحيطٌ بِما خَلَقْتَ، قابِلُ التَّوْبَةِ لِمَنْ تابَ إِلَيْكَ، قادِرٌ عَلى ما أَرَدْتَ وَمُدْرِكٌ ما طَلَبْتَ، وَشَكُورٌ إِذا شُكِرْتَ وَذَكُورٌ إِذا ذُكِرْتَ. پروردگارا! تیری جگہ بلند، تو عظیم الشان قدرت والا، سخت قہر و غضب والا، مخلوقات سے بے نیاز، وسیع قدرت والا، جس پر چاہتا ہے قدرت رکھتا ہے۔ بہت نزدیک رحمت والا، سچے وعدے والا، زیادہ نعمتوں والا اور اچھی آزمائش والا ہے۔ جب پکارا جائے تو تو بہت نزدیک ہے۔ اپنی مخلوقات پر محیط ہے۔ جو تیری طرف آئے، تو اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ اپنے ارادے پر قادر ہے۔ جسے چاہے پالیتا ہے۔ جب تیرا شکرادا کیا جائے تو شکر قبول کرتا ہے اور جب تجھے یاد کیا جائے تو یاد آتا ہے۔

أَدْعُوكَ مُحْتاجاً وَأَرْغَبُ إِلَيْكَ فَقِيراً وَأَفْزَعُ إِلَيْكَ خائِفاً وَأَبْكِي إِلَيْكَ مَكْرُوباً وَأَسْتَعِينُ بِكَ ضَعِيفاً وَأَتَوَكَّلُ عَلَيْكَ كافِياً، أُحْكُمْ بَيْنَنا وَبَيْنَ قَوْمِنا فَإِنَّهُمْ غَرُّونا وَخَدَعُونا وَخَذَلُونا وَغَدَرُوا بِنا وَقَتَلُونا، وَنَحْنُ عِتْرَةُ نَبِيِّكَ وَولَدُ حَبِيبِكَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الله الَّذِي اصْطَفَيْتَهُ بِالرِّسالَةِ وَائْتَمَنْتَهُ عَلى وَحْيِكَ، فَاجْعَلْ لَنا مِنْ أَمْرِنا فَرَجاً وَمَخْرَجاً بِرَحْمَتِكَ يا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ تیری طرف نیاز مند ہوکر تجھے پکار رہا ہوں۔ایک فقیر اور خالی ہاتھ تیری طرف آیا ہوں۔ خوف اور ڈر سے تیری بارگاہ میں آیا ہوں۔ دکھوں سے تیرے حضور میں گریہ کناں ہوں۔ ضعف و ناتوانی کی صورت میں تجھ سے مدد کا طلبگار ہوں۔ تجھے اپنے لئے کافی سمجھتے ہوئے توکل کرتا ہوں۔ پروردگارا! ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق سے فیصلہ فرما۔ تحقیق انہوں نے ہمیں فریب دیا، دھوکہ دے کر ہمیں قتل کر رہے ہیں جبکہ ہم تیرے نبیؐ کی اولاد ہیں کہ جنہیں رسالت جیسے عظیم منصب کیلئے منتخب فرمایا ہے۔ انہیں اپنی وحی پر امین قرار دیا ہے۔

پروردگارا! ہمارے لئے کوئی راہ نکال دے، اے بہترین رحمت کرنے والے۔ امامؑ سے منقول ایک دعا کے الفاظ : اللهم إني اسألك يا مدرك الهاربين ويا ملجأ الخائفين ويا غياث المستغيثين، اللهم إني أسالك بمعاقد العز من عرشك ومنتهى الرحمة من كتابك وباسمك العظيم الأعظم الكبير الاكبر الطاهر المطهر القدّوس المبارك اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ،تو پناہ کے متلاشیوں کی پناہ گاہ ہے،خوفزدہ تیری طرف پلٹتے ہیں،اے پکارنے والوں کی پکار سننے والے،اے پرودگار میں تجھ سے تیرے عرش ،تیری کتاب سے تیری رحمت اور تیرے اسماء عظیم ،اعظم،کبیر،اکبر،طاہر،مطھر ،قدوس،مبارک کے ذریعے سوال کرتا ہوں۔ امام حسینؑ کی دعائیں خدا شناسی کا عظیم مجموعہ ہیں،ان دعاؤں میں اللہ کے اختیارات اور بندے کی ناتوانی کو بیان کیا گیاہے۔ان دعاؤں کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ اس میں انسان ظاہری طور پر دعا کر رہا ہے مگر وہ دعا کے ساتھ ساتھ ایک عظیم الشان دینی خزانے سے بھی آشنا ہو رہا ہے۔

Avatar
ڈاکٹر ندیم عباس
ریسرچ سکالر,اور اسلام آباد میں مقیم ہیں,بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے ان کے کام کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *