• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کیا سول حکومت ہی قصور وار ہوتی ہے، اسٹبلیشمنٹ کے ساتھ ان بن میں؟ قسط اول

کیا سول حکومت ہی قصور وار ہوتی ہے، اسٹبلیشمنٹ کے ساتھ ان بن میں؟ قسط اول

SHOPPING

‎ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک اس ملک میں فوج تقریباً چار دہائیوں تک برسراقتدار رہی ہے۔ اس عرصے کے دوران   پاکستان میں چار فوجی ادوار جن میں جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ خان، جنرل ضیاالحق اور جنرل پرویز مشرف  کا دور  شامل ہیں۔ جنرل ایوب سے لے کر جنرل مشرف تک ہر دور میں ایک ہی بیانیہ سننے کو ملتا رہا، جس میں سویلین حکومت کی نااہلی،غداری، کرپشن اور ملک کو لاحق خطرات کے دعوے سرفہرست تھے۔

ہمیشہ سول حکومتوں کو یہ الزام دیا جاتا ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سینگ لڑا بیٹھتے ہیں۔ آئیے تاریخ کی ٹائم لائن سے نئی  نسل کو کچھ جھٹکے دیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کیا اس لڑائی  میں واقعی ہمیشہ سیاستدان کا قصور ہوتا ہے؟ کیا جنرل مشرف کی اس بات میں کوئی  حقیقت ہے کہ فوجی قیادت نے ملک کو ترقی دی اور سول والوں نے برباد کیا؟

پہلا جھٹکا۔ بقول ایئر مارشل (ر) اصغر خان: ”14 اگست 1947ء قائدِ اعظم محمد علی جناح نے ماؤنٹ بیٹن کو استقبالیہ دیا۔مسلح افواج کے افسروں کا ایک گروپ بھی مدعو تھا۔ میں اور اکبر خاں اس میں شامل تھے۔ اکبر خاں کہنے لگے: ”چلیں قائد کے ساتھ بات کرتے ہیں‘‘۔ چنانچہ ہم ان کے پاس گئے۔ اکبر خاں نے کہا، ”سر، ہم آزادی اور ظہور پاکستان پر بہت خوش ہیں۔ لیکن نئے نظام کے متعلق ہماری امیدیں پوری نہیں ہوئیں۔ ہمارے ہاں ابھی تک وہی نوآبادیاتی ڈھانچہ ہے (انہوں نے خاص طور پر انگریز افسروں کا حوالہ دیا)۔ ہمیں ان کی جگہ اپنے جینئس لوگ لا کر تبدیلی لانی چاہیے‘‘۔ وہ اسی انداز میں بولتا چلا گیا۔ قائدِ اعظم محمد علی جناح نے اکبر خاں پر حقارت کی نگاہ ڈالی اور اپنے مخصوص انداز میں انگلی اٹھاتے ہوئے اسے ڈانٹا: ”دیکھیں! آپ ایک سپاہی ہیں۔ آپ کا کام حکومت پر تنقید کرنا نہیں۔ آپ کو اپنے پیشے کی طرف توجہ دینی چاہیے‘‘۔
‎(راولپنڈی کانسپریسی 1951ء۔ حسن ظہیر۔ 1998ء۔ صفحہ XIV۔ آکسفورڈ)۔

دوسرا جھٹکا ۔اسی جنرل اکبر نے 1951 میں پاکستان کی پہلی آئینی، سیاسی اور جمہوری حکومت جو لیاقت علی خان کی تھی، کا تختہ الٹنے کی کوشش کی اور پکڑا گیا‘ یہ پنڈی سازش کہلائی۔ یاد رہے یہ ہی وہ پہلا فوجی تھا جس نے کشمیر کا مسئلہ خراب کیا۔ پاکستان اور انڈیا کی پہلی جنگ بھی اس جنرل کی وجہ سے ہوئی ۔ اور اس کی کشمیر میں دہشتگردی کی وجہ سے مہاراجہ ہری سنگھ نے مجبور ہو کر انڈیا سے الحاق کا معاہدہ کیا۔

تیسرا جھٹکا۔ اپنے قیامِ کوئٹہ کے دوران میں جب قائداعظمؒ کو ایک دو فوجی افسروں کے ساتھ گفتگو کے دوران میں معلوم ہوا کہ وہ افواجِ پاکستان کی طرف سے اٹھائے گئے حلف کے منشا سے کماحقہ  آگاہ نہیں تو، 14 جون 1948ء، سٹاف کالج کوئٹہ میں فوجی افسروں سے خطاب کے دوران میں قائداعظمؒ نے پُرزور لہجے میں انہیں آئین کے مطالعے اور اس کے صحیح آئینی اور قانونی منشا اور معانی کو سمجھنے کی تلقین کی۔

چوتھا جھٹکا۔ جنرل گریسی کے سابق اے ڈی سی میجر جنرل ریٹائرڈ وجاہت حسین کے بقول سنہ 1956 کے اوائل میں جب ان کی گریسی سے لندن میں ملاقات ہوئی تو انہوں نے چھوٹتے ہی پوچھا ’ایوب ملک پر کب قبضہ کر رہا ہے ؟‘ گریسی کے بقول انہوں نے وزیرِ اعظم لیاقت علی خان کو خبردار کردیا تھا کہ ذرا دھیان رکھنا، ایوب اونچی ہواؤں میں ہے۔

پانچواں جھٹکا۔ جب گورنر جنرل غلام محمد بیمار ہوئے اور دو مہینے چھٹی لے کر برطانیہ چلے گئے تو انہوں نے 6 اگست 1955 کو میجر جنرل ریٹائرڈ اسکندر مرزا کو قائم مقام گورنر نامزد کیا۔ یاد رہے کہ اسکند مرزا میر جعفر کے پڑپوتے تھے۔ ان کے پر دادا میر جعفر نے نواب سراج الدولہ سے غداری کر کے انگزیزوں کی جیت کا راستہ ہموار کیا تھا۔ گورنر جنرل بنتے ہی اُنہوں نے محمد علی بوگرہ کو وزارت عظمیٰ سے فارغ کر دیا۔ معزول وزیر اعظم محمد علی بوگرہ جو گورنر جنرل کے اختیارات محدود کرنے کا قانونی حربہ بھی اختیار کر چکے تھے خود اپنی کرسی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا۔گورنر جنرل اسکندر مرزا نے ریڈیو پاکستان پر قوم سے خطاب میں کہا کہ ملکی سیاسی عدم استحکام کے پیش نظر وزیر اعظم کی چھٹی کروائی گئی ہے۔

چھٹا جھٹکا۔میجر جنرل ریٹائرڈ  اسکندر مرزا نےاس کے بعد یکے بعد دیگرے بیوروکریٹ چوہدری محمد علی، حسین شہید سہروردی، ابراہیم اسماعیل چندریگر، کو فارغ کیا اور مارچ، 1956ء کو سیاسی بحران کے بہانا بنا کر ملک میں پہلا مارشل لا نافذ کیا۔

ساتواں جھٹکا۔ سات اکتوبر 1958 کو جب صدر سکندر مرزا نے کمانڈر انچیف ایوب خان کو پہلا ملک گیر چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنایا تو بظاہر لگتا تھا کہ مارشل لا سکندر مرزا کی خواہش پر لگا۔ لیکن برطانوی دفترِ خارجہ کی ڈی کلاسیفائیڈ دستاویزات کے مطابق کراچی میں متعین برطانوی فوجی اتاشی نے یہ نوٹ لکھا کہ سات اکتوبر کے مارشل لا کی منصوبہ بندی دو ہفتے پہلے راولپنڈی میں سینئر آرمی افسروں کا ایک گروپ کر چکا تھا۔ ایک اور سفارتی نوٹ کے مطابق ایوب خان نے کئی مہینے پہلے ہی کہنا شروع کردیا تھا کہ صورتِ حال اور بگڑی اور اگلے انتخابات میں تسلی بخش نتائج کے آثار نظر نہ آئے تو فوج کو بادلِ ناخواستہ کوئی قدم اٹھانا پڑے گا۔

آٹھواں جھٹکا۔ الطاف گوہر لکھتے ہیں کہ سکندر مرزا نے مارشل لا کے نفاذ سے بہت پہلے وزیرِ خزانہ ملک امجد علی اور کمانڈر انچیف ایوب خان کو یہ فرض سونپا کہ وہ امریکیوں کو بتائیں کہ اگر فروری 1959 میں عام انتخابات ہوئے تو کمیونزم کی طرف جھکاؤ رکھنے والی بائیں بازو کی قوتوں کی کامیابی کا واضح خطرہ ہے۔ ایوب خان نے یہ جتانے کے لیے مارشل لا سے چھ ماہ قبل اپریل میں امریکہ کا دورہ کیا۔

نواں جھٹکا۔ مارشل لا کے نفاذ کے دو روز بعد چیف مارشل لا ایڈ منسٹریٹر نے اسکندر مرزا کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ہم دونوں متفق ہیں کہ ملک شدید بحران کی طرف جا رہا تھا لہٰذا مجبوراً مداخلت کرنا پڑی۔ لیکن جس صدر پر چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر نے برملا اعتماد کا اظہار کیا اسی صدر کو مارشل لا کے 20ویں روز جنرل واجد علی برکی، جنرل کے ایم شیخ اور جنرل اعظم خان وغیرہ نے پستول کی نال پر استعفے پر دستخط کروا کے براستہ تہران لندن جانے والی پرواز پر بٹھا دیا۔

دسواں جھٹکا۔ پاکستان کے پہلے مسلمان کمانڈر انچیف جنرل محمد ایوب خاں نے عین اس وقت پاکستان پر قبضہ کیا جب چار ماہ بعد عام انتخابات ہو رہے تھے اور پاکستان کی دونوں بڑی جماعتیں پاکستان مسلم لیگ خان عبدالقیوم خاں کی قیادت میں اور پاکستان عوامی لیگ حسین شہید سہروردی کی سربراہی میں پشاور سے سلہٹ تک انتخابات کے لیے سرگرم عمل تھیں

گیاروں جھٹکا۔ایوب خان نے آئین منسوخ کیا۔سیاستدانوں کی وہ کھیپ سیاست میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دے دی گئی جس نے گیارہ برس قبل قائداعظمؒ کی قیادت میں ایک انہونی کو دنیا کے سب سے بڑے مسلم ملک کے روپ میں ہونی کر دکھایا تھا۔

بارہواں جھٹکا۔ مارشل لا نافذ کرنے کے دو ماہ 17 روز بعد قائداعظمؒ کے یوم پیدائش پر اپنے پیغام میں جنرل ایوب خاں نے آئین منسوخ کر دیے جانے کے باوجود قائداعظمؒ کے اصولوں پر چلنے کا عزم ظاہر کیا۔

‎تیرہواں جھٹکا۔ ایوب خان نے 1962 میں سابق وزیرِ اعظم حسین شہید سہروردی کے بارے میں فتویٰ دیا کہ وہ ایک بیرونی گماشتہ اور شرپسند ہے اور پھر 1964 میں ٹائم میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے کہہ دیا کہ فاطمہ جناح بھارت کے زیرِ اثر ہیں تو یہ کوئی جز وقتی سیاسی الزام نہیں تھا بلکہ ایوب خان واقعی یہی سمجھتے تھے۔

چودھواں جھٹکا۔ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) جہانداد خان اپنی یادداشتوں میں لکھتے ہیں کہ نواب آف کالا باغ ملک امیر محمد خان نے ان سے کہا کہ اگر ایوب نے بے لگام عیاشی کے اسیر یحییٰ کو کمانڈر انچیف بنایا تو وہ اپنی زندگی کی سب سے بڑی حماقت کرے گا۔ یحییٰ خان کے کمانڈر انچیف بننے سے چار ماہ قبل ہی ان کے بارے میں برٹش ہائی کمیشن کے ایک شخصی تجزیے میں بتایا گیا کہ وہ ایک باصلاحیت مگر رنگین مزاج افسر ہے۔ 26 مارچ 1969 کو یحییٰ خان کے چیف مارشل لا ایڈمنٹسٹریٹر بننے کے پہلے روز امریکی محکمہ خارجہ کو ارسال کردہ انٹیلی جنس نوٹ میں بتایا گیا کہ وہ ناؤ نوش اور جنسی بے اعتدالیوں کی شہرت رکھتے ہیں۔

‎پندرہواں جھٹکا۔ مگر محض چھ ماہ بعد ایوب خان کی رائے بدلنے لگی۔ 13 ستمبر 1969 کو ایوب خان اپنی ڈائری میں لکھتے ہیں کہ ذمہ دار اہلِ خبر کا کہنا ہے کہ یحییٰ دوپہر ایک بجے ہی دفتر چھوڑ کے لہو و لعب میں جٹ جاتا ہے۔ 12 نومبر 1969 کی ڈائری میں لکھتے ہیں کہ میرے اور صدر کے مشترکہ معالج کرنل محی الدین کا کہنا ہے کہ یحییٰ کا شراب کے بنا گزارا نہیں اور شام کے بعد کی محفلوں میں اس کے ساجھے دار جنرل حمید اور جنرل ایم ایم پیرزادہ ہیں۔ 24 فروری 1970کی ڈائری میں ایوب خان لکھتے ہیں کہ جنرل کے ایم شیخ نے انہیں بتایا کہ صدر کا زیادہ وقت محفل آرائی، جام اور عورتوں کے ساتھ گزر رہا ہے۔

‎سولہواں جھٹکا۔ دو فروری 1971 کی ایوب خان کی ڈائری کے مطابق ایرانی وزیرِ خارجہ کو دی گئی دعوت میں صدر یحییٰ اس قدر مدہوش تھے کہ انہیں پتلون گیلی ہونے کا بھی احساس نہ رہا۔ سات ستمبر 1971 کی ڈائری کے مطابق پشاور چھاؤنی میں اسٹینڈرڈ بینک کے علوی برادرز کے پیسے سے بننے والی یحییٰ خان کی رہائش گاہ کے افتتاح کی خوشی میں کئی دن محفلِ ہاؤ ہو اور جنسی دھما چوکڑی جاری رہی۔
جاری ہے۔۔

SHOPPING

اس تحریر کو لکھنے میں منیر احمد منیر(دنیا)، ڈاکٹر صفدر محمود، نصرت جاوید(نواۓ وقت)، حامد میر(جنگ)، اکمل سومرو (ڈان) منظور ال حسن (ال ماروت)اور وسعت اللہ خان صاحب (بی بی سی ) کی تحریروں سے مدد حاصل کی گئی ہے۔

SHOPPING

عامر کاکازئی
عامر کاکازئی
پشاور پختونخواہ سے تعلق ۔ پڑھنے کا جنون کی حد تک شوق اور تحقیق کی بنیاد پر متنازعہ موضوعات پر تحاریر لکھنی پسند ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *