• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • چین اپنی مستحکم معیشت کی بنیاد پر سپر پاور بننے جارہاہے۔۔ڈاکٹر عبدالواجد خان

چین اپنی مستحکم معیشت کی بنیاد پر سپر پاور بننے جارہاہے۔۔ڈاکٹر عبدالواجد خان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سیکریٹری آف سٹیٹ مائیک پومپیو کی طرف سے 29 مئ 2020 کو روز گارڈن وائٹ ہاؤس واشنگٹن ڈی سی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے امریکہ کے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن سے مکمل طور پر علیحدگی اور ہانگ کا نگ کے خصوصی تجارتی سٹیٹس کو ختم کرنے کا اعلان کردیا۔اس پریس کانفرنس کے حوالے سے بین الاقوامی ماہرین خدشات کا اظہار کررہے تھے کہ ٹرمپ اس میں چین کے خلاف سخت تجارتی،سفارتی اور سیاسی اقدامات اٹھانے کے اعلانات کرسکتے ہیں۔لیکن پریس کانفرنس سے کچھ دیر قبل یہ غیرمعمولی خبر لیک کرائی گئی کہ ٹرمپ نہ ہی چین کے ساتھ تجارتی معاہدہ ختم کررہے ہیں اور نہ ہی اسں پر کوئی نیا ٹیرف لگانے جارہے ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن سے علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کرکے ٹرمپ نے ایک اور یو ٹرن لے لیا کیونکہ اس سے قبل انہوں نے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کو مزاکرات کیلئے ایک ماہ کا وقت دیا ہوا تھا۔ لیکن پندرہ دن گزرنے کے بعد ہی ان کی طرف سے ڈبلیو ایچ او سے علیحدگی کے یکطرفہ اعلان کو دنیا بھر میں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جارہاہے اور سمجھا جارہا کہ یہ اقدام امریکہ کی لیڈر شپ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور چین کے ڈبلیو ایچ او میں اثرورسوخ میں اضافے کا باعث بنے گا۔ ٹرمپ نے الزام لگایا کہ ڈبلیو ایچ او کو چین کنٹرول کررہا ہے اور اب امریکہ ڈبلیو ایچ او کے فنڈز دیگر بین الاقوامی ہیلتھ آرگنائزیشن کو فراہم کریے گا۔

یوروایشیا کے صدر نے ٹرمپ کے اس اقدام پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ “ٹرمپ نے ڈبلیو ایچ او کے ساتھ مل کر کرونا وباء کے خلاف لڑنے کے بجائے ڈبلیو ایچ او کو وباء بنا کر اس کے خلاف جنگ شروع کردی ہے۔” ماہرین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ دنیا میں ڈبلیو ایچ او کی سطح کی مہارت اور سکوپ کی حامل کوئی اور ہیلتھ آرگنائزیشن نہیں ہے جو ڈبلیو ایچ او کی متبادل بن سکے۔ٹرمپ اس سے پہلے ایران امریکہ نیوکلئیر ڈیل’ موسمیاتی تبدیلی معاہدے’پیرس معاہدے’ نیوکلئیر فورسز معاہدے اور اوپن سکائیز معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کا اعلان کرچکےہیں۔

ماہرین کی رائے ہے کہ ٹرمپ کے اس قسم کے اقدامات دنیا میں امریکی اثرات اور سیاسی اثرورسوخ میں کمی کا باعث بنے ہیں۔اور یہ تاثر پیدا کر رہے کہ ٹرمپ دنیا کے اجتماعی مسائل میں کوئی دلچسپی نہیں ر کھتے اور وہ کندھے اچکا کر ان سے فرار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ ٹرمپ کا عرصہ صدارت ختم ہونے سے پہلے ہی چین اپنی مضبوط معیشت کی بنیاد پر امریکہ کی جگہ سپر پاور کی حیثیت اختیار کرلے گا۔ہانگ کانگ کے خصوصی تجارتی حیثیت کو ختم کرنے کے اعلان کو بین الاقوامی ماہرین انتخابی مقاصد کے حصول کیلئے چین کے خلاف نمائشی اور اپنی ساکھ قائم رکھنے کا اقدام اور طاقت کا مظاہرہ قرار دے رہے ہیں ۔کیونکہ پریس کانفرنس سے قبل وہ کرونا کے حوالے سے چین سے شدید ناراضگی اور اس کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ اور دھمکیاں دے چکے ہیں۔اور اسی وجہ سے بین الاقوامی امور کے ماہرین توقع کررہے تھے کہ ٹرمپ اس پریس کانفرنس میں چین کے خلاف سخت پابندیوں کا اعلان کریں گے۔ جس میں کرونا کے پھیلاؤ کے الزام پر چین کے خلاف کاروائی کا مطالبہ’ چین سے تجارتی معاہدے پر نظر ثانی ‘ چینی برآمدات پر نئے محصولات لگانے’ چینی سٹوڈنٹس کو واپس بیجھنے اور نئے سٹوڈنٹس کو سائنس و ٹیکنالوجی کے مخصوص شعبوں میں داخلے نہ دینے’ ہانگ کانگ میں چینی پالیسیوں کی مزمت اور تبت کی علیحدہ حیثیت کا بل بیش کرنے جیسے اقدامات شامل ھو سکتے تھے۔ لیکن پریس کانفرنس میں ایسا کچھ دیکھنے میں نہیں آ یا اور ٹرمپ سی بی سی چینل کی چینی نژاد خاتون صحافی کےایک سوال کو بے ہودہ قرار دیکر کسی سوال کا جواب دئیے بغیر پریس کانفرنس کو ادھورا چھوڑ کر چلے گئے۔

امریکہ اور چین کے مابین اس سیاسی و تجارتی کشمش کے باعث برطانیہ اور یورپی ممالک بھی پریشان ہیں کیونکہ ان کے ذہنوں میں بھی ہے کہ چین اپنی معاشی طاقت کی بنیاد پر دنیا کی سپر پاور کی حیثیت سے امریکہ کا نعم البدل بن سکتاہے ۔ادھر ٹرمپ حکومت کو اندرون ملک ریاست مینوپولیس میں پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام شخص کی ہلاکت کے واقعہ پر مختلف ریاستوں میں شدید احتجاج کا سامناہے۔ہیوسٹن ‘پورٹ لینڈ اور مینوپولیس میں ایک پولیس افسر سمیت دو افراد فسادات سے ہلاک اور بہت سے زخمی ہو چکے ہیں ۔ سینکڑوں گرفتاریاں ہوچکی ہیں۔جبکہ کئی  شہروں میں فسادات کو کنٹرول کرنے کیلئے کرفیو لگا دیا گیا ہے۔ ٹرمپ کی طرف سےکی جانے والے اس ٹویٹ “جب لوٹنگ ہوگی تو شوٹنگ بھی ھوگی” کو شدید تنقید اور مظاہرین کی مخالفانہ نعرے بازی کا سامنا ہے۔ٹرمپ نے مئیرز کو مظاہرے کنٹرول نہ کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اٹارنیز کو ذمہ داران پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایات دی ہیں جبکہ ذمہ دار پولیس اہلکار کو گرفتار کرکے کاروائی شروع کر دی گئی ہے۔ٹرمپ کے بیانات اور اقدامات نے دنیا میں ان کا تشخص ایک غیر سنجیدہ اور ناپختہ لیڈر کے طور پر بنادیا ہے۔جس کی وجہ سے عالمی قیادت اور ان کے اتحادی ان کے ساتھ کھڑے ہو نے سے ہچکچارہے۔ تاہم ٹرمپ چین کے خلاف اپنے مخصوص ڈیزائن کے مطابق معاملات کو آگے بڑھانے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں اسکا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا اور اسکا دارومدار اس پر بھی ہوگا کہ کہ جنوبی ایشیاء میں انڈیا اسکے مفادات کو کس حد تک پورا کرنے کی پوزیشن میں ہوتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *