واہ رے بانجھ عدالت، تیری پُھرتیاں

میں زندگی میں صرف ایک بار عدالت گیا ہوں، ہوا کچھ یوں کہ میرے والد کے ایک دوست کا بیٹا یونی ورسٹی سےواپسی پر قتل ہوگیا تھا اور قاتل بھی اسکا ہم جماعت ہی تھا اور پولیس کی تحویل میں تھا آج تاریخ تھی اور مقتول کے والد کسی کام کے سلسلے میں شہر سے باہر تھے ۔ انکی خواہش پر میں مقدمہ کی سماعت دیکھنے ہائی کورٹ پہنچا، میرے لیئے یہ ایک نیا تجربہ تھا، آج تک عدالت صرف فلموں ہی میں دیکھی تھی لیکن اصل اس سے بہت مختلف تھی۔ ایک کے بعد ایک نام اور مقدمہ کا نمبر پکارا جاتا اور چار سے پانچ منٹ میں جج صاحب اگلی تاریخ دیدیتے۔
ہمارے والے مقدمہ کی باری بھی آئی، ایک انویسٹیگیشن آفیسر تھے، دبلے پتلے، سانولی رنگت، وردی عام پولیس والوں جیسی بس ٹوپی نیلی تھی، جج صاحب کو سیلوٹ کیا اور گویا ہوئے کہ”میں خدا کو حاضر ناضر جان کر کہتا ہوں کہ یہ قاتل ایک جنونی انسان ہے، اس نے یونی ورسٹی میں ہونے والی ایک ذرا سی تلخ کلامی پر واپس جاتے ہوئے مقتول پر راستے میں فائرنگ کی جس سے وہ موقع پر جاں بحق ہو گیا، اپنے گناہ کا اعتراف وہ میرے سامنے کر چکا ہے”
جج صاحب نے فرمایا کے “کوئی گواہ موجود ہے”فرمایا “نہیں مجھے اور کچھ وقت چاہیئے” اگلی تاریخ لی سیلوٹ کیا اور عدالت سے باہر۔اس ساری کارروائی میں میرے ذہن پر اس پولیس والے کے لیئے ایک مثبت تاثر پیدا ہوا، دل میں خیال آیا کہ یار ابھی کچھ لوگ ہیں جو اپنا کام کر رہے ہیں، ہم خواہ مخواہ پولیس کو بدنام کرتےہیں وغیرہ وغیرہ۔ لیکن یہ سب عارضی تھا۔میں عدالت کے باہر اس آفیسر سے ملا، اپنا تعارف کرایا کہ مجھے مقتول کے والد نے بھیجا ہے، صاحب فرمانے لگے کے میرے پیسے بھیجے؟ ، میں بولا &”نہیں”تو فرمایا “ہر پیشی پر پانچ ہزار کی بات ہوئی تھی ان سے کہنا اگلی پیشی پر دس ہزار لیتے ہوئے آئیں”تو حضرات یہ ہے ہماری پولیس اور اسکی تحقیقات۔
اب آتے ہیں عدالت کی طرف تو ،ایک مثال مشہور ہے کہ عدالت میں کامیاب وہ ہے جس کے جوتے لوہے کے اور ہاتھ سونے کے ہوں، یعنی جوتے گھسنے کا یا مال بانٹتے ہوئے ختم ہونے کا ڈر نہ ہو۔سیلن زدہ کمرے، دیمک زدہ فائلیں، پرانا فرنیچر، اس پر بیٹھے کالے کوٹوں والے وکیل، پیشکار، منصف، تاریخ پہ تاریخ، پیشی پر پیشی ، حاضری پر حاضری لیکن انصاف ندارد، کبھی ایسا ہوا کہ باعزت بری ہونے کے احکام اس وقت ملے جب حضرت کو لٹکے دوسال بیت گئے تو کبھی کوئی سائیکل چوری کے الزام میں بیس سال کی قید گزار آیا۔کراچی کی سڑکوں پر روزانہ دس، بارہ ٹارگٹ کلنگز ہوتی رہیں، بلدیہ فیکٹری میں سینکڑوں لوگ بھتے کے چکر میں جل گئے، زمینداروں کےکتے ہاریوں کو بھنبھوڑتے رہے، تیزاب گردی، اجتماعی زیادتیاں، کارو کاری، اور نہ جانے کیا کچھ ہوتا رہا، ..اور انصاف، وہ کتنا ہوا یہ سب لوگ جانتے ہیں ۔
لیکن اچانک منظر تبدیل ہوتا ہے، منصف متحرک اور تحقیقاتی ادارے فعال ہوتے ہیں، وہ بھی کس کے سامنے، حاکم وقت کے سامنے، انصاف ہوتا ہے، تین نسلوں کا احتساب اور چوالیس سال کا حساب اور رعایت؟ اسکا تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔یقین جانئیے مجھے شریف فیملی سے نہ تو کوئی ہمدردی ہے اور نہ ہی کو ئی دلچسپی۔ بلکہ میرا تو ماننا ہے کے یہ بڑے بڑے سرمایہ دار کبھی ایک عام آدمی کے مسائل اور مشکلات سے آگاہ ہو ہی نہیں سکتے، یہ طبقہ روٹی نہیں ہے تو کیک کھاؤ جیسے مشورے دینے والا ہوتا ہے، میں وہ چائے والا مودی ہے نا اس ٹائپ کے حکمران کے حق میں ہوں، لیکن پھر بھی ایک لمحے رک کر ذرا قانون کی پھرتیاں تو دیکھیں، وہ چوہتر ماڈل کرولا جو چالیس کی اسپیڈ سے نہیں چل پارہی تھی آج ایف سولہ کی طرح ہوا میں اڑ رہی ہے ۔
ابھی میں یہ لکھ ہی رہا تھا کے میرا واحددانشور دوست “شاہی”آموجود ہوا، اس بار وہ ایک تصویر لایا تھا ایک عورت اور کچھ بچوں کی، مجھے تصویر دکھا کر بولا “اسمیں کیا دکھ رہا ہے؟ ” ظاہر ہے ایک عورت اور بچے ہیں۔ میں نے بولا۔
وہ کچھ سوچ کر بولا ” تمہیں معلوم ہے یہ عورت کچھ عرصہ پہلے بانجھ تھی لیکن اب دھڑا دھڑ بچے پیدا کر رہی ہے”
پھر وہ اپنی آستین سے تصویر صاف کرکے گویا ہوا ۔ دیکھو اور کچھ دکھ رہا ہے؟ ،
میں نے غور سے تصویر کو دیکھا ” نہیں بھئ اور کچھ نہیں ہے”
وہیں وہ اپنی مخصوص ہنسی ہنستے ہوئے بولا ” یہی فرق ہے تم میں اور ایک دانشور میں، مجھے اس تصویر میں وہ سرجن بھی دکھائی دے رہا ہے جسکے آپریشن سے اسکی گود ہری ہوئی ہے”
پھر کچھ سوچ کر بولا “لیکن اسی کے آپریشن سے یہ بانجھ بھی ہو جاتی ہے”
یہ کہہ کر وہ تو چلا گیا۔ لیکن میں اب تک سوچ رہا ہوں کے وہ کیا کہہ رہا تھا۔

علی اختر
علی اختر
جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 0 تبصرے برائے تحریر ”واہ رے بانجھ عدالت، تیری پُھرتیاں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *