• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • معاملہ صرف کرنل اور کرنل کی بیوی کا نہیں ۔۔۔ ڈاکٹر عبدالواجدخان

معاملہ صرف کرنل اور کرنل کی بیوی کا نہیں ۔۔۔ ڈاکٹر عبدالواجدخان

گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر کرنل اور کرنل کی بیوی کی ویڈیوز اور ان پر تبصرے خوب گردش کرتے رہے ۔جس پر اعلیٰ فوجی قیادت کی طرف سے نوٹس لینے کی بات بھی سامنے آئی۔یقیناً ایسے واقعات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جانی چاہیے ،تاکہ مستقبل میں ایسے نا پسندیدہ واقعات کا سدباب ہو سکے۔لیکن میرے نزدیک یہ معاملہ صرف ایک کرنل اور اس کی بیوی کا نہیں ہے، بلکہ ایک مخصوص مائنڈسیٹ اور ہمارے معاشرتی کلچر کا ہے۔میں یہ مانتا ہوں کہ پاکستان میں جنرل سکندر مرزا سے جنرل پرویز مشرف تک ایک ادارے کے مخصوص طبقے کی طرف سے مکہ لہرانے کی حرکت نے پاکستان کو 12 مئی  جیسے بہت سے تلخ واقعات سے دوچار کیا ،لیکن پاکستانی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت بھی آ شکار ہوتی ہے کہ اس حمام میں سب ہی ننگے ہیں۔ اس مکے کا استعمال صرف ایک طبقے نے نہیں کیا بلکہ تمام طبقات اپنی اپنی حیثیت کا ناجائز استعمال کرتے چلے آرہے ہیں۔

اپنی حکومت قائم رکھنے کیلئے اپوزیشن کو ایف ایس ایف سے دبانے کی غیر جمہوری کوشش ہو یا اپنی مرضی کا فیصلہ لینے کیلئے سپریم کورٹ پر حکمران سیاسی قیادت کی طرف سے کیا جانے والا حملہ۔ اپوزیشن کی طرف سے پارلیمنٹ پر بلڈوزر لیکر چڑھائی کرنے اور اسکی گرِل پر شلواریں لٹکانے کا معاملہ ہو یاعدلیہ کی طرف سے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے جیسے متنازعہ فیصلے ۔ کوئٹہ میں بلوچستان اسمبلی کے رکن کی گاڑی کے تلے ٹریفک سارجنٹ کو کچلے جانے کا سانحہ ہو یا موجودہ خاتون اوّل کے سابق شوہر کی فیملی کو روکنے پر ڈی پی او پاکپتن کو مانیکا ڈیرہ پر جاکر معافی مانگنے کی ہدایت اور تعمیل نہ کر نے پر لائن حاضر ہونے کا حکم۔ ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کو وزیراعلی ہاؤس جی او آر جاتے ہوئے پولیس کے روک کر تصدیق کرنے پر اراکین کا متفقہ استحقاق مجروح ہونا اور آئی جی کو اسمبلی میں طلب کرنا یا جرنلسٹں کا موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں پر میڈیا کے سٹکر لگا کر، کارڈ دکھا کر اور شو کرتے ہوئے آ پے سے باہر اور ناجائز استحقاق کا حامل ہوجانا۔ وکلا کا مرضی کے فیصلے نہ ملنے پر ججز اور ڈاکٹروں کو سبق سکھانے کیلئے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے دل کے مریضوں پر چڑھائی کردینا۔وڈیروں، جاگیر داروں اور سرداروں کی طرف سے مختاراں مائی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کرنے جیسے انسانیت سوز فیصلےکرنا یا قانون نافذ کرنے والےاور حساس اداروں کی طرف سے ساہیوال جیسے واقعات کرکے ان کے حقائق کو دبادینا۔سندھ کی بڑی سیاسی شخصیت کے کاروباری پارٹنر کے بیٹے شاہ رخ جتوئی کو قتل کیس میں جعلی دستاویزات پر دبئی فرار کرانے کا معاملہ ہو یا بلدیہ فیکٹری کراچی کا سانحہ ہو۔ متشدد مذہبی گروہوں کی طرف سے مذہبی کارڈ کا غیر منطقی اور غیر انسانی استعمال ہو یا سرکاری نمبر پلیٹس اور ہوٹر لگی گاڑیوں میں موجود افراد کا ایلیٹ کلاس رویہ۔ سرمایہ داروں بیوروکریٹس اور نودولتیوں کی اولادوں کے بڑی گاڑیوں میں بیٹھنے کے بعد قانون سے بالاتر ہوجانےکے واقعات یا ڈاکٹروں کے اپنے مطالبات منوانے کیلئے ہڑتال کرکے مریضوں کو خدا کے رحم وکرم پر چھوڑ دینا۔ ان چند مثالوں کے بعد یقیناً آپ کے ذہن میں اس طرح کی بے شمار مثالیں آرہی ہوں گی جو شاید میری دی گئی مثالوں سے زیادہ مناسب اور موثر بھی ہوں۔ کیونکہ پاکستانی تاریخ ان سے بھری پڑی ہے۔۔

Advertisements
julia rana solicitors london

بات یہاں ہی ختم نہیں ہوتی۔۔ میں، آپ ،ہم سب جہاں زور اور داؤ چلتا ہے کرنل اور کرنل کی بیوی کی طرح قانون سے بالا تر ہوکر استحقاق حاصل کرنا چاہتے ہیں۔اس وقت تک لائن میں لگنا،میرٹ کوماننا اور ٹریفک سگنلز پر رکنا پسند نہیں کرتے جب تک ہمارے خلاف بھی کرنل اور کرنل کی بیوی کی طرح سوشل میڈیا یا لیگل میڈیا کمپین شروع نہ ہو جائے اور اسں عمل کے شروع ہونے پر بھی ہم قانون پسند بننے کے بجائے اس سے بچ نکلنے کے ناجائز راستے اور  ذرائع تلاش کرنا شروع کر دیتے ہیں۔اسی لئے میں نے آ پ سے شروع میں کہا تھاکہ یہ معاملہ صرف ایک کرنل اور اس کی بیوی کا نہیں ہے بلکہ ایک مائنڈ سیٹ اور معاشرتی کلچر کا ہے۔ اس حمام میں ہم سب اپنی اپنی جگہ پر کم یا زیادہ ننگے ہیں۔لہذا اس معاشرتی بگاڑ اور مائنڈ سیٹ کی اصلاح بھی ہمیں مل کر ہی کرنا ہوگی۔دوسروں کے غلط رویے پر ضرور انگلی اٹھائیے لیکن متعصب ہوکر نہیں ،اصلاح کے پہلو سے، اور دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنے کے عمل پر ضرور عمل کرلیجیے کیونکہ یہی مہذب لوگوں کا شعار اور پہچان ہوتی ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔