عام انتخابات اوردھاندلی کی دھمک ۔۔۔۔ظفرالاسلام سیفی

پچیس جولائی کو ملک بھر میں ہونے والے انتخابات نے نہ صرف پاکستان تحریک انصاف کے لیے ایوان اقتدار کی راہ ہموار کردی بلکہ سیاسی منظرنامے پر ہیجان وبے چینی کے گہرے نقوش بھی قائم کردئیے،کیا ہوگیا اور کیا ہونے جارہا ہے پر مشتمل اضطرابی ماحول سیاسی فضا کو مکدر کیے ہوئے ہے،پی ٹی آئی کی جانب سے جس عزم ویقین کے ساتھ انتخابی شفافیت کا دعوی کیا جا رہا ہے اسی شرح صدر واتقان کے ساتھ دیگر جملہ سیاسی جماعتوں کے کیمپ سے دھاندلی کی صدائے بازگشت سننے کو مل رہی ہے،لوگ اسے روایت کانام دے رہے ہیں مگر فی الواقع اس مرتبہ انتخابی پراسیس میں بہر حال کچھ ایسا ہوا ہے جو اس سے پہلے نہ ہوا،دیکھنا مگر یہ ہے کہ مقتدر طبقات اسے کتنی اہمیت دیتے ہیں۔

یہ سچ ہے کہ الیکشن کمیشن نے انتخابات کا بے پناہ کٹھن مرحلہ عبور کرنے اور سکیورٹی اداروں نے نہایت جانشفانی سے امن وامان کی فضا برقراررکھنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا جس پر وہ یقیناً  تحسین وداد کے مستحق ہیں مگر ہمیں اس حقیقت کا اعتراف بھی کرنا پڑے گا کہ اس سب کے باوجود انتخابی معرکہ جس شفافیت،ستھرائی اور منصفانہ انداز میں سر کرنا چاہیے تھا اس طرح نہ کیا گیا۔سیاسی جماعتوں کا یہ کہنابجا ہے کہ گنتی کے وقت پولنگ ایجنٹس کو باہر نکالنا،فارم پینتالیس ایجنٹس کے حوالے نہ کرنا،رزلٹ منیجمنٹ سسٹم کا فیل ہونا،رزلٹ میں بلاوجہ تاخیرکرنا،بیلٹ پیپرز نالوں سے ملنا اور دھاندلی کی واضح وائرل ویڈیوز ہونے کے باوجود الیکشن کمیشن کا جاندار ایکشن نہ لینا الیکشن کی شفافیت پرنہ صرف سوالیہ نشان لگارہا ہے بلکہ بادی النظر میں ایک جماعت کے لیے راہ حکمرانی ہموار کرنے اور پلانٹڈ رزلٹ حاصل کرنے کی دانستہ کوشش بھی لگ رہا ہے ۔

سیاسی جماعتوں کے اس قدر خدشات کے تناظر میں سیکرٹری الیکشن کمیشن جناب بابر یعقوب کا کسی قسم کی شکایت موصول نہ ہونے اور الیکشن کی مکمل شفافیت کا دعوی صرف حیرت انگیز ہی نہیں مضحکہ خیز بھی ہے،موصوف کے بقول ملک بھر سے دھاندلی سے متعلق کوئی شکایت موصول ہوئی نہ کسی مرحلہ پر کوئی بدمزگی پیدا ہوئی،الیکشن کمیشن کی ناکامی کی بات کرنا اور چیف الیکشن کمیشن سے مستعفی ہونے کا مطالبہ سوائے ہٹ دھرمی اور ضد کے کچھ نہیں،موصوف کا پریس کانفرنسز کے دوران پرسکون چہرہ اور مستانہ ادائیں انکے کسی سمرقند کی بہاروں میں زندگی گزارنے کا پتہ دیتی ہیں،وہ نہیں جانتے کہ بھارت سمیت بین الاقوامی دنیا انتخابی پراسیس پر کیا تبصرہ کررہی ہے؟اس طرز انتخاب پر دنیا کے تجزیہ نگاروں کی رائے کیا ہے؟اور یہ کہ الیکشن کمیشن اپنے اس رویے سے دنیا میں کس قدر پاکستان کی جگ ہنسائی کا باعث بن رہا ہے؟

یورپی یونین کے ایک سو بیس سے زائد مبصرین جنہوں نے دارالحکومت سمیت ملک کے چاروں صوبوں کے ایک سو تیرہ حلقوں میں پانچ صد بیاسی پولنگ اسٹیشنز اور ملک بھر کے عمومی انتخابی ماحول کے مشاہدے وجائزے کے بعد جو رپورٹ جاری کی وہ چشم کشا ہی نہیں فکر انگیز بھی ہے،رپورٹ بتلاتی ہے کہ انتخابات میں جملہ سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع نہیں دئیے گئے،پوری انتخابی فضا امتیازی رویوں کے ساتھ مکدر رہی،میڈیا پر بین السطور پابندی اورجماعتی کوریج کو کھینچے  گئے ایک مخصوص دائرے میں رکھنے کا پابند کیا گیا،رپورٹ انتخابی عملے کی سست روی اور غیر متعلقہ افراد سے رہنمائی لینے کی بات کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتلاتی ہے کہ انتخابات فوج کی سربراہی میں اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کے بطور سیاسی کردار اثرانداز ہونے کے الزامات کے تناظر میں ہوئے ہیں،چنانچہ رپورٹ کا پہلے پیراگراف کا نقطہ آغاز کچھ اس طرح ہے کہ
the election took place against a background of allegation of interference in the election process by the military,led establishment and the role of the judiciary as a politisal actor.

ہمارا کہنا کسی طور یہ نہیں کہ رپورٹ کا بیان کردہ یہ حصہ درست ہے مگر ہم اس قدر ضرور عرض کرینگے کہ مقتدر حلقوں اور ریاستی اداروں کے لیے بہر حال یہ فکر انگیز لمحہ ہے کہ انکا نام انتخابی یا جمہوری عملیات میں استعمال کیا جائے۔امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ذرائع ابلاغ کو جاری بیان میں ترجمان دفترخارجہ ہیتھر نوریٹ نے بھی ہیومن رائٹس آف پاکستان اور یورپی یونین مشن کی رپورٹس سے اتفاق کرتے ہوئے مذکورہ امور پر اپنے خدشات کا اظہار کیا،نیز برطانوی دفتر خارجہ نے بھی میڈیائی پابندیوں پر آواز اٹھاتے ہوئے الیکشن کمیشن کی توجہ اس جانب مبذول کروانے کی کوشش کی،ہیومن رائیٹس کمیشن کے ممبر اور انسانی حقوق کے کارکن جناب آئی اے رحمان،حنا جیلانی اور ماروی سرمد سمیت فریڈم نیٹ ورک کے ڈائیریکٹر اقبال خٹک نے بھی سیاسی جماعتوں کے الزامات کو درست قرار دیتے ہوئے کمیشن کو انکے جوابات دینے کی طرف متوجہ کیا، انہوں نے کہا کہ ان خدشات کو اسوقت مزید تقویت ملتی ہے جب میڈیائی نمائندوں کے پاس کمیشن کا اجازت نامہ ہونے کے باوجودانکو ووٹنگ کے دوران اور کاونٹنگ کے وقت پولنگ اسٹیشنز میں داخلے کی اجازت نہ دی گئی،اس سے قبل بی بی سی کے انچارج اور سینیر صحافی ہارون الرشید اور تجزیہ نگار طلعت حسین بھی ایسی باتیں کرچکے ہیں،سیاسی رہنماوں میں صدر ایم ایم اے مولانا فضل الرحمن،صدر مسلم لیگ جناب شہباز شریف،چیرمین پیپلز پارٹی جناب بلاول بھٹو،صدر اے این پی جناب اسفند یارولی،میرحاصل بزنجو،سراج الحق،خورشید شاہ اور رضا ربانی سمیت متعدد سیاسی رہنماوں اور تمام سیاسی جماعتوں نے دھاندلی سے متعلق نہایت سنگین الزامات لگاتے ہوئے الیکشن کمیشن کے کردار کو مجرمانہ قرار دیااور چیف الیکشن کمیشن سے فوری مستعفی ہونے، ملک میں از سرنو انتخابات کروانے کا مطالبہ اور زبردست احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔

میری نظر میں ہمارا مگر مسئلہ جذباتیت وسطحیت ہے،ہر انتخاب دھاندلی کے الزامات کے زیر اثر ہوتا ہے اور بدقسمتی سے ان الزامات کے ساتھ ”روایت“ کہہ کر ہم بطور قوم سمجھوتہ کرلیتے ہیں،مسند اقتدار پر براجمان جماعت دھاندلی کو اپنے لیے غنیمت سمجھ کر اس سے نہ صرف سمجھوتہ کرتی ہے بلکہ اسکا دفاع بھی کرنے لگتی ہے جسکا خمیازہ آمدہ انتخابات میں اسے بھگتنا پڑتا ہے،ہمیں دنیا کے نظام ہائے انتخابات کا مطالعہ کرنا ہوگایہی سب سیاسی جماعتوں اور ملک کے مفاد میں ہے،میاں نواز شریف کا بیانیہ ”ووٹ کو عزت دو“ نہ صرف سیاسی ضرورت ہے بلکہ اپنی اہمیت کے پیش نظر ریاستی ضرورت بھی ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ گزشتہ الیکشن میں مسلم لیگ کا رویہ انتخابی دھاندلی سے متعلق کیا رہا؟؟ اگر بات صرف نعروں اور ذاتی مفادات تک کی ہی ہے تو پھر نظم مملکت پر رحم فرمائیے،کل ایک جماعت نے آپکی دھاندلی شدہ حکومت کو تسلیم کیا آج اسے موقع دیجیے لیکن اگر معاملہ سیاسی وریاستی اہمیت کا ہے تو پھر اپنی عملی جدوجہد اپنے بیانیے کے گرد رہنے دیجیے،جملہ سیاسی جماعتوں کے خدشات پر آپسی بیٹھک اور ڈائیلاگز کا ماحول بنائیے اور انہیں باہمی مشاورت سے دورکرنے کی طرف قدم بڑھائیے،
امیر جے یو آئی مولانا فضل الرحمن سمیت جملہ سیاسی رہنماوں کی جانب سے نہایت قوت سے اٹھائے جانے والے اعتراضات کو سیاسی مخاصمت کی بھینٹ چڑھانے کے بجائے مخلصانہ بنیادوں پر حل کرنے کی طرف جانا ہی میری نظر میں صائب زاویہ عمل ہوسکتا ہے۔۔

سردست مگر سب سے اہم سوال یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اپنے جن خوش کن نعروں کے ساتھ بام اقتدار کو چھونے جارہی ہے کیا وہ باہمی اعتماد کی فضا میں الیکشن اصلاحات کو بھی ملکی مفاد میں سمجھتی ہے؟ اور کیا اسکی نظر میں اسے وہ کچھ نہیں کرنا چاہیے جسکی توقع وہ مسلم لیگ سے اپوزیشن کے دورانیے میں کرتی رہی؟آنے والا وقت شاید اسکا بہترین جواب ہے اور وہ دور نہیں ۔

ظفر الاسلام
ظفر الاسلام
ظفرالاسلام سیفی ادبی دنیا کے صاحب طرز ادیب ہیں ، آپ اردو ادب کا منفرد مگر ستھرا ذوق رکھتے ہیں ،شاعر مصنف ومحقق ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *