کزناپہ ۔۔۔ سلیم مرزا

لوجی یہ بات تو میری طرف سے طے ہے کہ بیوی ساتھی ہے ۔ہمدرد ھے، غمگسار ہے ،اور جو بھی خصوصیت کسی اچھے رن مرید کے ذہن میں آتی ہے ، وہ بھی ہو سکتی ھے ۔
مگر معشوقہ نہیں،
جسے بیوی محبوبہ لگے وہ سمجھ لے کہ اس نے زندگی میں عشق نہیں کیا ، سرکاری ملازمت کی ھے
بیوی اور محبت تو دو متنازعہ چیزیں ہیں ۔
بالکل ایسے ہی جیسے حکومت اور عقل دو متضاد چیزیں ہیں ، بیوی گھر میں حکمرانی چاہتی ھے اور مرد رعیت انجوائے کرتا ہے ۔
اسٹیبلشمنٹ کی طرح بیویاں خود کو بڑی توپ شے سمجھتی ہیں ،حالانکہ جثے کے حساب سے وہ ٹینک جیسی ہوتی ہیں ،کچھ گنجے شریف آدمی سچ مچ توپ کو بیوی سمجھ لیتے ہیں ۔نتیجہ دونوں صورتوں میں موجودہ حکومت سا نکلتا ہے ۔سمجھ نہیں آتی کون کس طرف جا رہا ھے ۔اور بچے کس پہ گئے ہیں ۔
ویسے آپ خود غور کیجئے کہ جس رشتے کی بنیاد ہی ایک ایگریمنٹ پہ ہو، اور اس کی تمام شقوں میں ہر چیز لکھی ہو سوائے محبت کرنے کے، اس دستاؤیز کی رو سے محبت ہو جانا کیا معاھدے کی خلاف ورزی نہیں ۔؟
کچھ احمق تو بچوں کو بھی محبت کی نشانی کہتے ہیں ۔ازدواجی زندگی میں بچے محبت کی نشانی نہیں،
نشانہ ہوتے ہیں ۔
سنا ھے تاریخ میں ایک ملکہ چودھویں بچے کی پیدائش پہ نکل لی تھی ۔ممتاز محل نام تھا اور کارکردگی کے حوالے سے ٹھیک بھی تھا، زندہ رہتی تو آج تاج پورہ اس کا ہوتا ۔بادشاہ نے اس کی موت کے بعد اس کی یاد میں تاج محل بنوادیا۔
چودہ ڈیلیوریوں کے بعد اتنا تو بنتا ہی تھا ۔
خواتین ایسے عاشقوں سےمحتاط رہیں جو پلاسٹک کا تاج محل گفٹ کرتے ہیں ۔اس سے ان کے عزائم کا اندازہ ہوتا ھے ۔
اب بھی کچھ بھولی خواتین اب بھی تاج محل کے چکر میں دھڑا دھڑ بچے پیدا کئے جارہی ہیں ۔
حالانکہ اس کے بعد صرف ایک بار سنا ہے لاھور میں کسی سرتاج نے تاج سینما بنوایا ھے ۔پتہ نہیں اس کے بچے کتنے تھے؟
میں تو کم ازکم کسی ایسی عورت سے محبت کا دعوی نہیں کرسکتا جو بیوی ہو ۔
چاہے کسی کی بھی ہو ۔
محبت ایک سراسر پاکیزہ جذبہ ھے اسے ایسی عورت سے منسلک نہیں کیا جاسکتا جو ہر پانچ منٹ بعد غریدہ فاروقی کی طرح آپ کے کرتوت اور خامیاں بیان کرنا شروع کردے ۔
اور تب زیادہ غصہ آتا ھے جب یہ سب اوصاف پوشیدہ و حمیدہ آپ میں ہوں بھی ۔
محبت ایک لطیف جذبہ ہے اور بیوی ایک کل وقتی پرائیویٹ جاب ھے۔
ایسی جاب کیلئے جذباتی صرف کوئی بیروزگار ہی ہوسکتا ھے، جس میں اوپر کی آمدنی نہ ہو ۔
محبت غزل کی طرح ایک آمد ہے ۔اور بیوی ایک ایسی انقلابی آزاد نظم ہے جس کا ہر مصرع گھیراؤ جلاؤ پہ آمادہ ھو
معشوق جب آتی ھے تو کائنات گنگنانے لگتی ھے ۔آپ بیوی سے ذرا سا رومانٹک ہوکر دیکھ لیں ۔پریشر ککر کی سیٹی بجنے لگے گی یا چھوٹا منڈا اچانک اندر آکر بتائے گا،
باہر واپڈا والے میٹر کا ٹنے آئے ہیں ۔
محبت کو بیوی سے منسوب کرنے سے پہلے باربی ڈول اور ڈھیل ڈول کا فرق جان لیں ۔
کچھ لوگوں کا خیال ھے کہ شادی آپ کو سماجی طور پہ ذمہ دار شخص ظاہر کرتی ہے ۔ مگر خود کو سامنے رکھ کر سوچیں آپ سے زیادہ غیر ذمہ دار کوئی ہوسکتا ھے کہ گھر چاہے بیس مرلے کا ہو ، کوئی کونہ بھی آپ کا نہیں جہاں آپ سگریٹ بھی چھپا سکیں؟
ایک چھت تلے ریتے بھی دھڑکن کی لطیف اتار چڑھاؤ کی بجائے دھڑکا لگا رہتا ھے جانے بیگم کیا کہہ دے ؟
معشوقہ کو ایک سو سولہ چاند کی راتیں اور کاندھے کا تل تک یاد رہتا ھے مگر بیوی ہر تیسرے دن طعنہ دے ریی ہوتی ہے “میں نے تمہارا دیکھا ہی کیا ہے “؟
بندہ پوچھے تشریف پہ نکلنے والے “گڑھ”پہ دوائی کیا شکر گڑھ والی نے لگائی تھی؟
کسی ضرورت سے زیادہ سیانے کا قول ھے
“اپنی بیوی سے محبت بڑھاپے کی نشانی ھے ”
اس نے شاید “لکن میٹی ” نہیں کھیلی ورنہ آسانی سے سمجھ جاتا کہ بچے بڑھے ہوجائیں تو اپنی بیوی سے ملنا بھی معشوق سے ملنے جیسا ہوجاتاہے ۔حالات ایسے ہوجاتے ہیں کہ بیوی گرمیوں کی چھٹیوں پہ آئی کزن جیسی لگنے لگتی ہے۔

اور کزن کسے بری لگتی ہے؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *