چھوٹا بچہ ہر لمحہ اپنے گرد و پیش سے کچھ نہ کچھ سیکھتا رہتا ہے۔ میرے بچے جب چھوٹے تھے تو کسی ایک کی تعریف پر جھٹ سے دوسرا بول پڑتا، ہاں ہاں میں ہی برا ہوں۔ میں انہیں سمجھاتی← مزید پڑھیے
تحقیق و جستجو کی دنیا ایمان و یقین کی دنیا سے بالکل ہی مختلف ہو تی ہے اور کثیر الجہتی کا یہ جہان ایک جہان دیدہ اور صاحب ِ بصیرت طالب کو بہت زیادہ بے چین و بے قرار کیے← مزید پڑھیے
جیسا کہ پچھلے تین مضامین میں یہ بات ہوئی کہ ہمارے ہر رشتے کا تعلق میاں بیوی کے رشتے پہ ہوتا ہے وہاں اس رشتے کا تعلق بہت واضح طور پہ اور بہت غیر جذباتی انداز میں میاں بیوی کے← مزید پڑھیے
وفا اور بے وفائی انسان ہی کرتے ہیں لیکن ہم ہر چیز کو آئیڈیالائز کر کے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ محرومیاں جن کا ہم شکار ہوتے ہیں ہماری کوشش ہوتی ہے کہ کوئی دوسرا کردار انہی محرومیوں کا← مزید پڑھیے
انسان کی اصل حقیقت، اس کا وجود، اس کی ہستی ہے اور اپنے ہی وجود تک پہنچنے میں سب سے بڑی رکاوٹ انسان کا اپنا دماغ ہے، یہ بات مخلتف مذاہب نے اپنے اپنے رنگ میں انسان تک پہنچانے کی← مزید پڑھیے
انسانی ذات سات بنیادی ضروریات یا مطالبات کے گرد لپٹی ہے، یہ سات بنیادی ضروریات (مطالبات) – وجودِ فرد (ہونا )، عزتِ نفس ، خود انحصاری ، مظہرِ ذات ،احساسِ ملکیت ، سلامتی اور روحانیت ہیں، اس ہفت نکاتی نظام← مزید پڑھیے
ڈاکٹر اختر احسن نے بچے اور والدین کے تعلق کے جو اسالیب Mechanisms بیان کیے تھے ھم نے ان کا اطلاق استعمار اور محکومین کے تعلق پر بالعموم اور خصوصیت سے پاکستانی معاشرے پر کیا۔ چند نتائج گزشتہ تحریر میں← مزید پڑھیے