سانحات، سوشل میڈیا اور جتھہ برداری کی نفسیات۔۔روبینہ شاہین

چھوٹا بچہ ہر لمحہ اپنے گرد و پیش سے کچھ نہ کچھ سیکھتا رہتا ہے۔ میرے بچے جب چھوٹے تھے تو کسی ایک کی تعریف پر جھٹ سے دوسرا بول پڑتا، ہاں ہاں میں ہی برا ہوں۔ میں انہیں سمجھاتی کہ ایک شخص کے بارے میں بات کرتے وقت یہ لازم نہیں کہ باقی سب کے بارے میں بھی اس پہلو سے بات کی جائے۔ کبھی ایک کی سرزنش کرتی تو وہ جھٹ سے سے بول اٹھتا، یہ تو دوسرا بھی کرتا ہے۔ پھر میں انہیں سمجھاتی کہ ایک شخص کا غلط کام، دوسرے کے لئے غلط کام کرنے کا جواز نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

اب وقت کے ساتھ ساتھ وہ جذبات پر عقل کو فوقیت دینا سیکھ رہے ہیں، اور سمجھنے لگے ہیں کہ ایک شخص کی صفت یا خامی کی بات پر لازم نہیں کہ باقی سب کا بھی تذکرہ کیا جائے۔ بدقسمتی سے یہ بات ہمارے اکثر سوشل میڈیا یوزرز نہیں سمجھ پائے۔ ان کی ایک بہت انوکھی اور عجب شکایت یہ ہے کہ آپ نے فلاں کو یہ کہا، لیکن فلاں فلاں نے یہ کیا، آپ نے اس کو کیوں نہیں کہا۔ کچھ تو باقائدہ دھونس جماتے ہیں، کہ فلاں کو کہہ رہے ہیں تو فلاں فلاں کے خلاف آپ نے فلاں موقع  پر جو پوسٹ کی تھی، اسکا لنک دیں۔ تب مجھے اپنا سات سال کا بیٹا بہت سیانا لگتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں دھڑے بازی، اور جتھہ برداری کا رجحان بہت زیادہ ہے۔ مولوی کے ریپ کی خبر چلائیں، سب مولوی یا مولوی نما دفاع پر نکل آئیں گے۔ کسی وکیل کا کوئی ایشو بن جائے، تو باقی وکیل یا وکیل نما اسکے دفاع پر کمربستہ ہو جائیں گے۔ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو ایسے بیسیوں جتھے آپ کو نظر آ جائیں گے۔ ایک شخص بیک وقت متعدد جتھوں کا ہامی، اور متعدد جتھوں کا مخالف ہے۔ ایسے میں کسی بھی سانحے کو ایک جتھہ اچک لیتا ہے، اور دوسرے کو جائز یا ناجائز اسکا دفاع کرنا ہوتا ہے۔

ایک جتھہ اپنے مطلب کی بات ہاتھ لگنے پر سب سے پہلے دوسرے جتھوں کو للکارے گا۔ کہاں ہیں وہ جو وکیلوں پر بھونکتے تھے، دیکھو ڈاکٹروں نے یہ کردیا۔۔۔ کہاں ہیں وہ جو مولوی پر بھونکتے تھے، دیکھو پولیس والے نے یہ کر دیا۔۔۔ کہاں ہیں وہ جو عورت مارچ پر بھونکتے تھے، دیکھو کسی نے اپنی بیوی جلا کر مار دی۔ جتھہ برداری کی نفسیات میں جس کے ہاتھ اپنی مرضی کا مواد چڑھ جائے، وہ سانحے پر دکھی تو ہوتا ہی ہو گا، ایک اندرونی خوشی بھی اس کے اندر موجود ہوتی ہے۔۔۔ کہ اب وہ مخالفین پر بھڑاس نکال پائے گا۔

جتھہ برداری کی نفسیات اجتماعی طور پر ہمیں منقسم اور بے حس کرتی جا رہی ہے۔ اور انفرادی طور پر ہم میرٹ پر بات کرنے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ مثبت جانب قدم بڑھانے کے لئے ایک عام آدمی کو اس جتھہ بردار نفسیات سے خود کو بچانا ہو گا کہ ہم سب کسی نہ کسی حد تک اس کا حصہ ہیں۔

کسی بھی سانحے پر کچھ لکھنے سے پہلے سوچیے۔۔۔ غور کیجیے:

1۔ سب سے پہلی اور اہم ترین بات یہ کہ بنا تصدیق خبر کو شئیر کر کے مخالفین پر مت پل پڑیے۔

2۔ دونوں جانب کی سٹوری سن کر، میرٹ پر ڈیسائیڈ کریں کہ وکٹم کون ہے۔

3۔ خود سے ہمیشہ ایک سوال پوچھیے، کہ اگر میں اس سانحے میں وکٹم ہوتا تو میرا موقف کیا ہوتا۔

4۔ مظلوم کے لئے بنا کسی غرض کے آواز اٹھائیے۔ یہی انسانیت ہے۔

5۔ خود کو پوائنٹ سکورنگ کا حصہ بننے سے روکیے۔

6۔ کبھی کسی سانحے پر توجہ ہٹاؤ مہم مت سٹارٹ کریں، یہ وکٹم کے ساتھ سب سے بڑا ظلم ہے۔ اگر کوئی حتمی رائے نہیں بنا پا رہے تو خاموشی اختیار کیجیے۔

7۔ مخالفین کو پرائے سانحات پر للکارنا چھوڑ دیجیے، کہ اگر وکٹم آپ کا کوئی اپنا عزیز ہوتا تو یقیناً  آپ سانحے پر سیاست نہ کر رہے ہوتے۔

ہم بھی سیکھ رہے ہیں، آپ بھی سیکھیں ۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *