عدلیہ - ٹیگ

حسین نقی ۔ آزادی اظہار کی نہ دبنے والی آواز

عاصمہ جہانگیر آپ کن حالات میں عوام کا ساتھ چھوڑ کر چلی گئیں۔ آج ہر جانب سناٹا ہے۔ جرات اور سچائی دم توڑتی نظر آ رہی ہے۔ حقائق کو توڑ مڑور کے سامنے لایا جاتا ہے۔ عوام کے ذہنوں کو←  مزید پڑھیے

ریاست یا متنجن؟ ۔۔۔ معاذ بن محمود

بچپن ہر کھانے سے کچھ دیر پہلے دروازے پہ دستک ہوا کرتی تھی۔ “کون؟” پہ جواب آتا “وظیفہ رؤڑئے خدائے دی او بخئی” یعنی “وظیفہ لے آئیے خدا (آپ کے گناہ) بخشے”۔ دروازہ کھلنے پر مسجد کے معصوم طالب علم،←  مزید پڑھیے

یقیں مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو ۔۔۔ محمد منیب خان

میں کوئی کاہن، نجومی یا جوتشی نہیں جو بتا سکوں کہ چند دن بعد عوام الیکشن میں کیا فیصلہ کریں گے نہ ہی میں اس وقت ارض وطن میں موجود ہوں جس سے عوام کی سیاسی نبض پہ ہاتھ کا←  مزید پڑھیے

اپّا رجنی کی زندگی سے منسوب معلومات ۔۔۔ معاذبن محمود

تعارف اور ابتدائی زندگی رجنی، “ٹارزن اور منکو کے کارنامے” کا باقاعدہ قاری تھا۔ منکو بندر کا کردار رجنی کو خوب پسند تھا۔ بڑا ہوکر منکو بننا اس کی ٹو ڈو لسٹ میں سے ایک تھا۔ گھر کے اندر سیاہ←  مزید پڑھیے

غداری کا مرض اور طب عسکریہ سے اس کا حل۔۔۔معاذ بن محمود

ہم قوم کے طبیب ہیں۔ آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ ہم دور جدید کے ڈاکٹر ہیں؟ نہیں۔ اب ایسا بھی نہیں۔ ہم بس قومی بیماریوں کا شافی علاج بذریعہ طب عسکری کرتے ہیں۔ وہ جو ہم میں سے نہیں،←  مزید پڑھیے

ذمہ دار کون؟؟عدلیہ اور فوج یا حکمران؟۔۔۔مرزا شہباز حسنین

ویسے  تو بحثییت قوم ہم بے شمار خامیوں کا شکار ہیں ۔کس کس کا رونا رویا جائے۔آج کل سوشل میڈیا کی وجہ سے ہر دوسرا شخص ان خامیوں کی نوحہ گری میں مصروف ہے۔مگر حیرت ہے ہم پھر بھی سدھرنے←  مزید پڑھیے

میں نے خود۔۔سلیم فاروقی

 میں نے خود تو سنا نہیں لیکن وسعت اللہ خان کی ایک وائرل وڈیو سے معلوم ہوا ہے کہ سندھ ہائیکورٹ نے گرمیوں کی چھٹیوں کی فیس وصولی پر پابندی عائد کردی ہے۔ سادہ لوح لوگوں کا یہ فیصلہ سن←  مزید پڑھیے

کیا عدلیہ کا یہ رویہ کھلا تضاد نہیں ہے؟ ۔۔سید عارف مصطفٰی

 ایک عجب بھونچال سا دیکھنے میں آرہا ہے کیونکہ تحریک انصاف کی مرکزی رہنماء فوزیہ قصوری کی تنقید نے ایک بڑا ارتعاش سا پیدا کردیا ہے کیونکہ وہ پی ٹی آئی کی ماں کا درجہ رکھتی ہیں اور ان کی←  مزید پڑھیے

اقتدار کی تکون ٹو ٹ گئی ہے؟۔۔اسلم اعوان

ایل ڈی اے کے سربراہ احد چیمہ کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد اقتدار کی غلام گردشوں میں پروان چڑھنے والی اختیارات پہ تصرف کی جنگ جزویات تک اتر آئی اور سیاسی کشمکش کی اس آگ نے پارلیمنٹ اور←  مزید پڑھیے